4 اپریل اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات، قربانی، جمہوریت اور پاکستان
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسے رہنما کم ہی ملتے ہیں جو عوام کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ وہ نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ ایک مدبر، مداح اور وژنری لیڈر بھی تھے، جنہوں نے پاکستان کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے انقلابی اصلاحات کیں۔ میں سوچتا ہوں کہ کاش اسے شہید نہ کیا ہوتا، کاش 4 اپریل تاریخ میں نہ آیا ہوتا، کاش بھٹو شہید کا اقتدار ختم نہ کیا ہوتا، تو آج یہ سب کچھ دیکھنے کو نہ مل تا، آج پاکستان کس نہج پر لا کھڑا کیا گیا ہے۔ 4 اپریل 1979 کو جب انہیں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا، تو صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک عہد ختم ہو گیا، اور آج بھی پاکستان اس خسارے کو پورا نہیں کر سکا۔
ذوالفقار علی بھٹو 5 جنوری 1928 کو سندھ کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہنواز بھٹو ایک معروف سیاستدان تھے، جن کی وجہ سے بھٹو کو سیاست کا شعور ابتدا ہی میں حاصل ہوا۔ بھٹو نے ابتدائی تعلیم بمبئی میں حاصل کی اور بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ اور برطانیہ گئے۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی، برکلے سے گریجویشن اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ وطن واپس آئے اور سیاست میں قدم رکھا۔
بھٹو نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1958 میں صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر کے طور پر کیا، جہاں وہ وزیر خارجہ کے عہدے تک پہنچے۔ ان کی خارجہ پالیسی نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک موثر ملک کے طور پر متعارف کرایا، خاص طور پر چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے میں ان کا کردار بے مثال تھا۔ تاہم، ایوب خان کی پالیسیوں سے اختلاف کے بعد ، بھٹو نے 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی بنیاد رکھی۔ ان کا نعرہ ”روٹی، کپڑا اور مکان“ عوام میں بے حد مقبول ہوا اور 1970 کے انتخابات میں PPP مغربی پاکستان میں ایک بڑی قوت بن کر ابھری۔
1971 میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد ، بھٹو نے بطور صدر اور بعد ازاں وزیراعظم ملک کی قیادت سنبھالی اور پاکستان کو سنوارنے کے لیے بھرپور اصلاحات متعارف کرائیں۔ بھٹو نے پاکستان میں کئی انقلابی اقدامات کیے۔ 1973 کا آئین: پاکستان کا پہلا متفقہ آئین دیا، جو آج بھی ملک کا بنیادی قانون ہے۔ جوہری پروگرام کی بنیاد، بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کے لیے بھٹو نے ”ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے“ کا اعلان کیا اور اس پر عمل درآمد بھی کروایا۔
قومیانے کی پالیسی، بڑی صنعتوں، بینکوں اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے کر معاشی ترقی کا منصوبہ بنایا۔ زرعی اصلاحات: جاگیردارانہ نظام کو محدود کرنے کے لیے کسانوں میں زمینیں تقسیم کیں خارجہ پالیسی، اسلامی سربراہی کانفرنس ( 1974 ) کا انعقاد کرایا، جس سے مسلم دنیا میں پاکستان کا قد بلند ہوا۔ 1977 کے انتخابات کے بعد اپوزیشن کی مزاحمت، اور پھر جنرل ضیاء الحق کی جانب سے مارشل لاء کے نفاذ نے بھٹو کے اقتدار کو ختم کر دیا۔
ان پر ایک سیاسی مخالف کے قتل کا الزام لگایا گیا اور متنازع عدالتی فیصلے کے بعد 4 اپریل 1979 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا، جسے آج بھی عدالتی قتل کہا جاتا ہے۔ بھٹو کے بعد کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، مگر کوئی بھی ایسا رہنما نہیں آیا جو ان جیسی عوامی مقبولیت، جرات اور ویژن رکھتا ہو۔ وہ ایک ایسے لیڈر تھے جو عوام سے جڑنا جانتے تھے، ان کے حقوق کے لیے لڑتے تھے اور پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط ملک بنانے کا خواب رکھتے تھے۔
آج بھی جب عوام کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں، جب جمہوریت کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، تو بھٹو کی یاد شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک نظریہ تھے، جو آج بھی پاکستان کی سیاست میں زندہ ہے۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے ملک کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان دے دی۔ ان کی جدوجہد، قربانی اور عوامی خدمت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی شہادت نے پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا زخم چھوڑا ہے جو آج بھی تازہ ہے، اور ان کا خلا آج بھی کوئی پُر نہیں کر سکا۔
اگر شہید ذوالفقار علی بھٹو آج زندہ ہوتے تو پاکستان کہاں کھڑا ہوتا؟
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت پاکستان کے لیے ایک نئے دور کا آغاز تھی۔ ان کے وژن، عوامی پالیسیوں اور ترقی پسند اصلاحات نے ملک کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی تھی۔ لیکن 4 اپریل 1979 کو جب انہیں ایک متنازع عدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دے دی گئی، تو پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو گیا جہاں آمریت نے جمہوری تسلسل کو توڑ دیا اور ترقی کی رفتار رک گئی۔ اگر آج بھٹو زندہ ہوتے اور انہیں اپنی اصلاحات مکمل کرنے کا موقع دیا جاتا، تو پاکستان آج ایک خوشحال، خودمختار اور عالمی سطح پر ایک بڑی معاشی قوت کے طور پر کھڑا ہوتا۔ بھٹو نے پاکستان کی صنعت کو مضبوط بنیاد فراہم کی تھی۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو، قومیائے گئے ادارے جدید خطوط پر استوار کیے جاتے اور منافع بخش بنائے جاتے۔ پاکستان کی معیشت خود کفالت کی راہ پر گامزن ہوتی، بجائے اس کے کہ ہم آج قرضوں پر انحصار کر رہے ہیں۔
مقامی صنعتوں کو فروغ دے کر درآمدات پر انحصار کم کیا جاتا اور برآمدات میں اضافہ ہوتا۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو حکومتی سرپرستی حاصل ہوتی، جس سے بے روزگاری کم ہوتی۔ جوہری اور دفاعی طاقت میں مزید استحکام ہوتا، بھٹو نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی۔ اگر وہ مزید قیادت کرتے تو، پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ہوتا اور ہم آج عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت کے طور پر تسلیم کیے جا رہے ہوتے۔ ایٹمی ٹیکنالوجی کا استعمال توانائی اور دیگر صنعتی شعبوں میں ہوتا، جس سے بجلی کی کمی جیسے مسائل پیدا نہ ہوتے۔
بھٹو کی زرعی اصلاحات کا بنیادی مقصد جاگیردارانہ نظام کو ختم کر کے کسانوں کو ان کا حق دینا تھا۔ اگر وہ زندہ رہتے تو، پاکستان میں زرعی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہوتا اور ہم گندم، چاول اور دیگر اجناس میں خود کفیل ہوتے۔ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا کر پیداوار کو عالمی معیار کا بنایا جاتا۔ کسانوں کو زیادہ مراعات دی جاتیں، جس سے دیہی علاقوں میں خوشحالی آتی۔ تعلیم اور ٹیکنالوجی میں انقلاب آ چکا ہوتا، بھٹو نے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے اور عوام کو تعلیم دینے پر زور دیا۔
اگر وہ زندہ رہتے تو، پاکستان میں تعلیمی شرح آج بہت بلند ہوتی اور ہم جدید ٹیکنالوجی میں آگے ہوتے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر جدید علوم میں پاکستان عالمی سطح پر ایک بڑا کھلاڑی ہوتا، نوجوانوں کو جدید مہارتیں سکھانے کے لیے تعلیمی اصلاحات مزید آگے بڑھتیں، پاکستان عالمی سیاست میں ایک طاقتور ملک ہوتا، بھٹو کی خارجہ پالیسی پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط ملک بنا رہی تھی۔ اگر وہ زندہ رہتے تو، پاکستان اسلامی دنیا کی قیادت کر رہا ہوتا، کیونکہ بھٹو نے اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے مسلم امہ کو متحد کرنے کی بنیاد رکھی تھی، چین، روس، عرب ممالک اور دیگر عالمی طاقتوں سے مضبوط تعلقات قائم ہوتے اور پاکستان سفارتی سطح پر ایک بڑا کھلاڑی ہوتا۔
ہم امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک خودمختار خارجہ پالیسی رکھتے۔ جمہوریت مضبوط ہوتی، آمریت نہ آتی، بھٹو جمہوریت کے سب سے بڑے داعی تھے۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو، پاکستان میں جمہوری روایات مضبوط ہوتیں، اور آمریت کو بار بار موقع نہ ملتا۔ عوامی حقوق، میڈیا کی آزادی اور آئین کی بالادستی قائم رہتی۔ سیاستدانوں میں عوامی خدمت کا جذبہ زیادہ ہوتا، کیونکہ بھٹو نے سیاست کو عوام کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ بنایا تھا۔
اگر شہید ذوالفقار علی بھٹو کو مکمل موقع ملتا اور وہ آج بھی زندہ ہوتے، تو پاکستان نہ صرف معیشت، تعلیم، دفاع اور خارجہ پالیسی میں ایک مضبوط ملک ہوتا، بلکہ عوام خوشحال اور خود کفیل ہوتے۔ بدقسمتی سے، ان کی شہادت کے بعد پاکستان کئی بحرانوں کا شکار ہوا اور ترقی کا وہ سفر رک گیا جو بھٹو نے شروع کیا تھا۔ لیکن ان کے نظریات اور وژن آج بھی مشعلِ راہ ہیں، اور اگر ہم ان کے اصولوں پر چلیں، تو پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کر سکتے ہیں۔
عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کو کیوں پسند کرتی ہے، پاکستان کی سیاست میں بہت سے رہنما آئے اور گئے، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنی عوامی مقبولیت، خدمات اور نظریات کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی ایک ایسی ہی شخصیت ہیں، جنہیں آج بھی پاکستانی عوام بے پناہ محبت اور احترام سے یاد کرتی ہے۔ بھٹو کو پسند کرنے کی کئی وجوہات ہیں، جن میں ان کے عوامی اقدامات، جمہوری سوچ، بین الاقوامی وژن اور جرات مندانہ قیادت شامل ہیں۔
بھٹو نے پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کی بہتری کے لیے کئی عملی اقدامات کیے، جن میں سب سے زیادہ مشہور نعرہ ”روٹی، کپڑا اور مکان“ تھا۔ یہ نعرہ صرف ایک سیاسی جملہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے عملی کوششیں بھی تھیں، جن کی بدولت عوام نے بھٹو کو اپنا مسیحا سمجھا۔ مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لیبر قوانین متعارف کروائے۔ کمزور طبقے کو مفت تعلیم اور علاج کی سہولتیں فراہم کیں۔ بے گھروں کے لیے ہاؤسنگ اسکیمیں متعارف کروائیں، سرکاری ملازمین کے حقوق کو قانونی تحفظ دیا، جمہوریت کی بحالی اور 1973 کا آئین، بھٹو نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا جو آج بھی ملک کا بنیادی قانون ہے۔
1973 کا آئین ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور قومیتوں کو ساتھ لے کر بنایا گیا، جس نے پاکستان کو ایک مضبوط جمہوری ڈھانچہ فراہم کیا۔ انہوں نے عوام کو سیاست میں متحرک کیا اور عام آدمی کو سیاسی شعور دیا، جس کی وجہ سے جمہوریت مضبوط ہوئی۔ وہ عوام کے ووٹ کے حق کو سب سے بڑی طاقت سمجھتے تھے، اسی لیے آج بھی جمہوریت پسند لوگ انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کی بنیاد رکھی، بھٹو نے پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔
1974 میں بھارت کے جوہری دھماکے کے بعد ، انہوں نے دو ٹوک اعلان کیا کہ ”ہم گھاس کھا لیں گے، مگر ایٹم بم بنائیں گے! یہ عزم آج پاکستان کی بقا کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ عوام جانتی ہے کہ اگر آج پاکستان ایک جوہری طاقت ہے تو اس کا سہرا بھٹو کے سر جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں پاکستان کے سب سے بڑے لیڈروں میں شمار کرتے ہیں۔ عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی، بھٹو نے ہمیشہ پسے ہوئے طبقے کے حقوق کے لیے جدوجہد کی، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف سخت اقدامات کیے۔
کسانوں کو ان کی زمینوں کا حق دیا۔ غریب طبقے کے لیے ملازمتوں اور معاشی مواقع پیدا کیے۔ یہ وہ اقدامات تھے جو عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی لا رہے تھے، اسی لیے عوام آج بھی انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتی ہے۔ بھٹو نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک نئی سمت دی اور ملک کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا، 1974 میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا کر مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کیے، جو آج بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔
مغربی ممالک کی اجارہ داری کے خلاف آواز بلند کی اور پاکستان کو خودمختار ملک بنانے پر زور دیا۔ بھٹو کو یہ احساس تھا کہ ایک ترقی یافتہ قوم کی بنیاد تعلیم پر ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے، پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے، جیسے قائداعظم یونیورسٹی، انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز وغیرہ۔ تعلیمی اخراجات کم کیے تاکہ غریب طالبعلم بھی تعلیم حاصل کر سکیں۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو فروغ دیا تاکہ نوجوان ہنر مند بن سکیں۔
آمریت کے خلاف ڈٹ کر کھڑے رہے بھٹو وہ شخصیت تھے جنہوں نے ہمیشہ آمریت کے خلاف مزاحمت کی۔ وہ جمہوریت کے سب سے بڑے حامی تھے، اور جب جنرل ضیاء الحق نے ان کی حکومت کا تختہ الٹا، تو بھٹو نے جھکنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے آمر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔ ان کی بہادری اور جمہوریت پسندی آج بھی سیاسی کارکنوں کے لیے ایک مثال ہے۔ عوام آج بھی انہیں اس لیے پسند کرتی ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کی۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو کی عوام میں مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ عوام کے لیڈر تھے۔ وہ ایوانوں کے بجائے گلیوں اور بازاروں میں عوام سے خطاب کرتے، عام آدمی کے مسائل سنتے، اور ان کے حل کے لیے کام کرتے۔ ان کی خدمات، قربانی اور عوامی محبت آج بھی زندہ ہے، اور یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں پاکستان کے سب سے عظیم لیڈروں میں شمار کرتے ہیں۔ بھٹو ایک نظریہ ہے، جو آج بھی پاکستان کی سیاست میں زندہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔


