ماحولیاتی شعور: ہمارے نصاب کا گمشدہ پہلو


پاکستان میں فوسل فیول ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ زیادہ تر بجلی تھرمل پاور پلانٹس سے پیدا ہوتی ہے جو کوئلہ، تیل، اور گیس جلاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر پیٹرول اور ڈیزل پر منحصر ہے۔ چاہے وہ کاریں ہوں، موٹر سائیکلیں، بسیں یا ٹرک۔ فیکٹریاں اور کارخانے بھی انہی ایندھنوں سے چلتے ہیں، جبکہ گھروں میں گیس کھانے پکانے اور پانی گرم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ زراعت میں بھی ٹیوب ویلز اور ٹریکٹرز کے لیے ڈیزل کا استعمال عام ہے، جس سے فوسل فیول ہماری معیشت اور روزگار کا ایک بنیادی ستون بن گیا ہے۔

لیکن اس کا ایک نقصان بھی ہے۔ جتنا زیادہ ہم فوسل فیول جلاتے ہیں، اتنی ہی زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں فضا میں شامل ہوتی ہیں، جو موسمیاتی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ اسے کاربن فٹ پرنٹ کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ مقدار جو ہم اپنے روزمرہ کے کاموں سے خارج کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس بارے میں آگاہی کم ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ اپنی روزی روٹی کے مسائل میں الجھے ہوتے ہیں۔ جب ایک عام آدمی کو یہ فکر ہو کہ وہ مہنگائی میں اپنا گھر کیسے چلائے، تو وہ ماحولیات جیسے مسائل پر سوچنے کا وقت نہیں نکال سکتا۔

یہی نہیں، بلکہ کچھ عملی مسائل بھی ہیں جو کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ قابل تجدید توانائی جیسے سولر اور ونڈ پاور ابھی بھی مہنگے ہیں، جو عام لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام قابل بھروسا نہیں، اس لیے لوگ ذاتی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں زیادہ استعمال کرتے ہیں، جس سے آلودگی بڑھتی ہے۔ حکومت کی سطح پر ماحول دوست پالیسیوں پر عملدرآمد کمزور ہے، اور تعلیمی اداروں اور میڈیا میں بھی اس بارے میں زیادہ بات نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے عوام اس مسئلے سے زیادہ واقف نہیں۔

لیکن اس صورتحال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر سولر انرجی کو عام کیا جائے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو بہتر بنایا جائے تو لوگ فوسل فیول پر کم انحصار کریں گے۔ اسکولوں اور میڈیا کے ذریعے عوام میں آگاہی پیدا کی جا سکتی ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی ماحولیاتی تبدیلی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ صنعتوں کو صاف ستھری ٹیکنالوجیز اپنانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ اگر حکومت، کاروباری ادارے، اور عام لوگ مل کر کوشش کریں، تو پاکستان اپنی معیشت کو نقصان پہنچائے بغیر ایک ماحول دوست مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

یہ تمام تکنیکی معلومات آگاہی بڑھانے کے لیے اہم ہیں، اور ہمیں ان کو اپنے تعلیمی نظام اور نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف ”گرین اسکولز“ یا ”گرین نصاب“ جیسے نام رکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہمیں زمینی حقیقت پر کام کرنا ہو گا۔ آج بھی ہمارے کئی اساتذہ یہ نہیں جانتے کہ موسمیاتی تبدیلی کیا ہے، فوسل فیولز ہمارے ماحول کو کس طرح آلودہ کر رہے ہیں، اور یہ نہ صرف موسم پر اثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ ہماری صحت کو بھی براہ راست نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کوئی بھی استاد ہمیں ہمارے کاربن فٹ پرنٹ کے بارے میں نہیں سکھاتا یا یہ نہیں بتاتا کہ ہم ماحولیاتی لحاظ سے ذمہ دار افراد کیسے بن سکتے ہیں۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا مسئلہ ہر دن بڑھتا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ، بشمول اساتذہ، ان مسائل کے مکمل دائرہ کار سے ابھی تک بے خبر ہیں۔ ماحولیاتی خرابی کے بڑھتے ہوئے شواہد۔ جیسے کہ درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع موسمی حالات، سیلاب اور خشک سالی۔ کے باوجود اکثریتی عوام ان کے اسباب سے غافل ہیں۔ فوسل فیولز کا استعمال، خاص طور پر کوئلہ، تیل اور گیس کو جلانے کی صورت میں، اس بحران کا ایک اہم سبب ہے۔ یہ فوسل فیولز نہ صرف ہمارے ماحول کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ آلودہ مادے ہوا اور پانی میں چھوڑ کر ہماری صحت کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

پاکستان کا تعلیمی نظام ابھی تک ان مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے پر مرکوز نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ اسکولز ایسے ہیں جو سبز اقدامات کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ کوششیں زیادہ وسیع نہیں ہیں اور یہ زیادہ تر علامتی ہوتی ہیں بجائے عملی طور پر قابل عمل ہوں۔ نصاب میں موسمیاتی تبدیلی، پائیداری، اور کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے کی اہمیت کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، طلباء کو یہ علم یا وسائل نہیں مل پاتے کہ ان کے اقدامات ماحول پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں یا وہ ان مسائل کو حل کرنے میں کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔

مزید برآں، طلباء اور اساتذہ دونوں کے لیے ماحولیاتی پائیداری پر عملی تربیت کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اساتذہ کے پاس اکثر وہ وسائل یا تربیت نہیں ہوتی تاکہ وہ اپنے طلباء کو موسمیاتی تبدیلی یا ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔ کئی اسکول اب بھی پرانے نصاب پر انحصار کرتے ہیں جو جدید ماحولیاتی تحقیق یا موسمیاتی بحران کی حقیقت کو نہیں پیش کرتا۔ یہ ضروری ہے کہ تعلیمی نظام میں تبدیلی آئے جہاں سبز طریقوں جیسے توانائی کی بچت، فضلہ کے انتظام، اور پائیدار وسائل کا استعمال نہ صرف سکھایا جائے بلکہ اسکولز میں ان کو عملی طور پر بھی اپنایا جائے۔

پاکستان کی سوسائٹی کو ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کوئی معنی خیز ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ماحولیاتی تعلیم کو اپنے نصاب کا حصہ بنانا ہو گا اور اساتذہ اور طلباء دونوں کو وہ وسائل فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ فرق ڈال سکیں۔ ہمیں اس بات پر بھی توجہ دینی ہوگی کہ معاشرتی رویوں میں پائیداری کی اہمیت کے بارے میں تبدیلی آئے۔ میڈیا، کمیونٹی ایونٹس، اور اسکول پروگرامز کے ذریعے آگاہی کی مہمیں لوگوں کے نقطہ نظر کو بدلنے اور انہیں سبز مستقبل کی طرف عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دینے میں موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ حکومت، این جی اوز اور تعلیمی اداروں کو موسمیاتی بحران کو حل کرنے کے لیے ایک ساتھ کام کرنا ہو گا اور ایک ماحولیاتی طور پر ذمہ دار نسل تیار کرنی ہوگی جو اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے کی اہمیت کو سمجھ سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم سب کو اپنے پانے کاربن فٹ پرنٹ کا پتہ ہونا ائر پھر اس کی اہمیت کا اندازہ بھی ہونا ضروری ہے یہ نہ صرف شعوری طور پر ضروری ہے بلکہ ہمیں بطور قوم بھی سمجھنا چاہیے ۔

Facebook Comments HS