بھٹو صاحب نے امداد علی سے ہاتھ ملایا
کیا حال ہیں ارے امداد علی، بایاں ہاتھ کیوں ملا رہے ہو اور دائیں ہاتھ کو کیا ہوا ہے۔ رومال کیوں باندھا ہوا ہے۔ چل چل دایاں ہاتھ کیوں ملاوں۔ کیوں بھائی کیوں نہیں ملاو گے۔ ارے اس لئے نہیں ملاوں گا کہ اس ہاتھ پر بھٹو صاحب کی خوشبو لگی ہے۔ تمہیں پتہ ہے کل وزیر اعظم بھٹو ہمارے ہوٹل پر چائے پینے آئے تھے اور مجھ سے ہاتھ ملایا تھا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد نہ امداد علی نے کسی سے وہ ہاتھ ملایا اور نہ ہی اس ہاتھ سے رومال ہٹایا۔
’مجھے کوئی بھی جلاوطن نہیں کر سکتا۔ میں اسی مٹی کی پیدائش ہوں اور اسی میں دفن ہونا پسند کروں گا‘۔ یہ الفاظ ہیں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے جوکسی تعارف کے محتاج نہیں۔ عوام کے اس منتخب وزیر اعظم کو 4 اپریل 1979ء کو راولپنڈی کے جیل میں ظلم و ستم کی سیاہ رات میں سولی پر چڑھا دیا گیا۔ اور ایک فوجی آمر نے مارشل لاء لگا کر ملک پر قبضہ کر لیا۔ لوگوں کو کوڑے مارے گئے ، انسانی حقوق سلب کر لیے گئے، زبانوں پر تالے اور سوچ پر پابندی لگا دی گئی۔ اظہار رائے کا حق چھینا گیا۔ موقع پرست اور ضمیر فروش لوگوں کو ملاکر اسلام کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے پاکستان کی نظریاتی،جغرافیائی سرحدوں کو ہلا کر رکھ دیا گیا، جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔
نہ وہ بدلے، نہ دل بدلا، نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبارِ انقلابِ آسماں کر لوں
روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے بھٹو اپنی منفرد شخصیت کی وجہ سے عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اکثر چھپڑ ہوٹلوں، ٹانگے والوں، مزدوروں، کسانوں، فقیروں، محنت کشوں کے بیچ میں آکے بیٹھ جاتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لاڑکانہ کی گھاڑ نہر پانی بند ہونے کی وجہ سے سوکھ گئی۔ لاڑکانہ کے صوفی درویش، جانن چن کو جب پتہ چلا کہ بھٹو صاحب لاڑکانہ آئے ہوئے ہیں تو وہ المرتضی ہاوس گئے اور بھٹو صاحب سے ملاقات کر کے ایک نظم کے ذریعے گھاڑ نہر کی آب بیتی سنائی۔ بھٹو صاحب وہ نظم سن کر لاجواب ہو گئے اور گھاڑ نہر کا پانی فوری طور پر بحال کروایا۔ اب تک وہ نہر بھٹو صاحب اور صوفی فقیر جانن چن کی یادوں سے آباد ہے۔
اکتوبر 1966ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام ہمارا دین، جمہوریت ہماری پالیسی، سوشل ازم ہماری معیشت، اور سارے اختیارات عوام کے۔ اس عظیم لیڈر کی یہ باتیں ہمیشہ کے لئے عوام کے ذہنوں میں نقش ہو کے رہ گئیں اور بھٹو اور عوام ایک ہوکر رہ گئے۔ 30 نومبر 1967ء کو لاہور میں بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کے عوام کو 1973ء کا متفقہ آئین بھٹو نے دیا۔ نیوکلیئر پاور کے بانی بھٹو نے شملہ معاہدہ کر کے پاکستان کے 93 ہزار جنگی فوجیوں کو بھارت سے آزاد کرایا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے لے کر قومی اداروں کی مضبوطی، یونیورسٹیوں، طلبا یونیز، ٹرید یونیز میں ان کا کردار اہم رہا اور عوام سے وعدہ کیا کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک میں عوام کا راج،غریبوں اور مزدوروں کا راج، کسانوں کا راج قائم نہیں ہو جاتا۔
تیسری دنیا کے اس عظیم لیڈر نے ہمیشہ دنیا کی طاقتور قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حق کی بات کی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بھٹو عوام میں اتنے مقبول ہو گئے کہ گزشتہ سو برس میں کسی عوامی رہنما کی تصاویر اور تشبیہات عوامی سطح پر اتنی مقبول نہیں ہوئیں جتنا شرف ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہوا ہے۔
بھٹو جیسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ بھٹو ازم کی سوچ اور نعرہ آج بھی زندہ ہے۔ بھٹو نے ایک ایسے جمہوری پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں پر امیر، غریب کا کبھی بھی استحصال نہ کر پائے۔ جہاں پر کوئی سرمایہ دار کسی مزدور محنت کش کا خون نہ چوس پائے۔ کوئی وڈیرہ، جاگیردار کسی کسان پر ظلم و ستم نہ ڈھا سکے۔ اسی بھٹو کے خلاف سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے پی۔ این۔ اے کا اتحاد بنایا اور نعرہ لگایا کہ ملک بچاو، بھٹو ہٹاو۔ اور بھٹو کے خلاف عالمی سامراج اور ملکی طالع آزما جنرل ضیاالحق نے ساز باز کر کے اسے تختہ دار پر لٹکا دیا اور ہمارے معاشرے کو اندھیرے اور گھٹن کے ایسے ماحول کی طرف دھکیل دیا جہاں سانس لینا بھی جرم بن گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ٹرائل کے دوران کہاکہ وہ اخلاقی طور پر مطمئن ہوگئے ہیں کیوں کہ وہ بے گناہ ہیں اور کہا کہ یہ مقدمہ نہ سیدھی ٹانگ پر کھڑا ہے نہ ہی ٹیڑھی ٹانگ پر۔ یہ ایک لنگڑا لولا مقدمہ ہے۔ سیاست میں سودے بازی ہو جاتی ہے مگر انصاف میں نہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو آج بھی لوگ جوڈیشل قتل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بھٹو آج بھی لاکھوں، کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں مگر اس آمر کا نام لینے والا کوئی نہیں۔ آج بھی ہم ضیا کی باقیات دہشت گردی، انتہاپسندی، کلاشنکوف کلچر، ہیروئن، ظلم و زیادتی، عدم برداشت، سیاسی اور مذہبی منافقت سے نبرد آزما ہیں۔
گلستان کو لہو کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے اہل چمن
یہ چمن ہے ہمارا تمہارا نہیں
ظالمو اپنی قسمت پہ نازاں نہ ہو
دور بدلے گا یہ وقت کی بات ہے
وہ یقیناً سنیں گے صدائیں میری
کیا تمہارا خدا ہے ہمارا نہیں



