صاحبِ کرامات۔۔۔ ایک عقیدت مند پنجابی کسان کی کہانی ۔۔۔ منٹو کے قلم سے (2)
چوہدری موجو زمین پر بیٹھ گیا اور مولوی صاحب کے پاؤں دبانے لگا۔ اتنے میں اس کی لڑکی جیناں آگئی۔ اس نے مولوی صاحب کو دیکھا تو گھونگھٹ چھوڑ لیا۔
مولوی صاحب نے مندی آنکھوں سے پوچھا۔’’کون ہے چوہدری موجو؟‘‘
’’میری بیٹی مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔جیناںٖ!‘‘
مولوی صاحب نے نیم وا آنکھوں سے جیناں کو دیکھا اور موجو سے کہا۔’’ ہم فقیروں سے کیا پردہ ہے۔۔۔۔۔۔اس سے پوچھو۔‘‘
’’کوئی پردہ نہیں مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔ پردہ کیسا ہو گا۔‘‘ پھر موجو جیناں سے مخاطب ہوا۔‘’’ یہ مولوی صاحب جیناں۔ اللہ کے خاص بندے۔۔۔۔۔۔ ان سے پردہ کیسا۔ اٹھا لے اپنا گھونگھٹ!‘‘
جیناں نے اپنا گھونگھٹ اٹھا لیا۔ مولوی صاحب نے اپنی سرمہ لگی نظریں بھر کے اس کی طرف دیکھا اور موجو سے کہا۔’’ تیری بیٹی خوبصورت ہے چوہدری موجو!‘‘
جیناں شرما گئی۔ موجو نے کہا۔’’اپنی ماں پر ہے مولوی صاحب!‘‘
’’کہاں ہے اس کی ماں‘‘ مولوی صاحب نے ایک بار پھر جیناں کی جوانی کی طرف دیکھا۔
چوہدری موجو سٹپٹا گیا کہ جواب کیا دے۔
مولوی صاحب نے پھر پوچھا۔’’اس کی ماں کہاں ہے چوہدری موجو۔‘‘
موجو نے جلدی سے کہا۔’’مر چکی ہے جی!‘‘
مولوی صاحب کی نظریں جیناں پر گڑی تھیں۔ اس کا ردعمل بھانپ کر انھوں نے موجو سے کڑک کر کہا۔’’ تو جھوٹ بولتا ہے۔
موجو نے مولوی صاحب کے پاؤں پکڑ لیے اور ندامت بھری آواز میں کہا۔’’ جی ہاں۔۔۔۔۔۔جی ہاں۔۔۔۔۔۔ میں نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کردیجیے۔۔۔۔۔۔ میں بڑا جھوٹا آدمی ہوں۔۔۔۔۔۔ میں نے اس کو طلاق دے دی تھی مولوی صاحب۔‘‘
مولوی صاحب نے ایک لمبی’ہوں‘ کی اور نظریں جیناں کی چدریا سے ہٹالیں اور موجو سے مخاطب ہوئے۔’’تو بہت بڑا گناہگار ہے۔۔۔۔۔۔کیا قصور تھا اس بے زبان کا؟‘‘
موجو ندامت میں غرق تھا۔’’کچھ نہیں معلوم مولوی صاحب۔۔۔۔۔۔ معمولی سی بات تھی جو بڑھتے بڑھتے طلا ق تک پہنچ گئی۔۔۔۔۔۔ میں واقعی گنہگار ہوں۔۔۔۔۔۔ طلاق دینے کے دوسرے دن ہی میں نے سوچا تھا کہ موجو تو نے یہ کیا جھک ماری۔۔۔۔۔۔ پر اس وقت کیا ہو سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ چڑیاں کھیت چگ چکی تھیں۔۔۔۔۔۔پچھتاوے سے کیا ہوسکتا تھا مولوی صاحب۔‘‘
مولوی صاحب نے چاندی کی موٹھ والا عصا موجو کے کاندھے پر رکھ دیا۔’’ اللہ تبارک تعالیٰ کی ذات بہت بڑی ہے۔ وہ بڑا رحیم ہے،بڑا کریم ہے۔۔۔۔۔۔ وہ چاہے تو ہر بگڑی بنا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس کا حکم ہوا تویہ حقیر فقیر، ہی تیری نجات کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈ نکالے گا۔‘‘
ممنون و تشکر چوہدری موجو مولوی صاحب کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گیا اور رونے لگا۔ مولوی صاحب نے جیناں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں سے بھی اشک رواں تھے۔’’ادھر آ لڑکی۔‘‘
مولوی صاحب کے لہجے میں ایسا تحکم تھا۔ جس کو رد کرنا جیناں کے لیے ناممکن تھا۔
روٹی اور لسی ایک طرف رکھ کر وہ کھاٹ کے پاس چلی گئی۔ مولوی صاحب نے اس کو بازو سے پکڑا اور کہا۔’’بیٹھ جا۔‘‘
جیناں زمین پر بیٹھنے لگی تو مولوی صاحب نے اس کا بازو اوپر کھینچا۔’’ادھر میرے پاس بیٹھ۔‘‘
جیناں سمٹ کر مولوی صاحب کے پاس بیٹھ گئی۔ مولوی صاحب نے اس کی کمر میں ہاتھ دے کر اس کو اپنے قریب کرلیا اور ذرا دبا کر پوچھا۔’’ کیا لائی ہے تو ہمارے کھانے کے لیے۔‘‘
جیناں نے ایک طرف ہٹنا چاہا مگر گرفت مضبوط تھی۔ اس کو جواب دینا پڑا۔
’’جی۔۔۔۔۔۔جی روٹیاں ہیں۔ ساگ ہے اور لسی۔‘‘
مولوی صاحب نے جیناں کی پتلی مضبوط کمر اپنے ہاتھ سے ایک بار پھر دبائی’’چل کھول کھانا اور ہمیں کھلا۔‘‘
جیناں اٹھ کر چلی گئی تو مولوی صاحب نے موجو کے کندھے سے اپنا چاندی کی موٹھ والا عصا ننھی سی ضرب کے بعد اٹھا لیا۔’’ اٹھ موجو۔۔۔۔۔۔ہمارے ہاتھ دھلا۔‘‘
موجو فوراً اٹھا۔ پاس ہی کنواں تھا۔ پانی لایا اور مولوی صاحب کے ہاتھ بڑے مریدانہ طور پر دھلائے جیناں نے چارپائی پر کھانا رکھ دیا۔
مولوی صاحب سب کا سب کھا گئے اور جیناں کو حکم دیا کہ وہ ان کے ہاتھ دھلائے۔ جیناں عدول حکمی نہیں کرسکتی تھی۔ کیونکہ مولوی صاحب کی شکل و صورت اور ان کی گفتگو کا اندازہی کچھ ایسا تحکم بھرا تھا۔
مولوی صاحب نے ڈکار لے کر بڑے زور سے الحمدللہ کہا۔ داڑھی پر گیلا گیلا ہاتھ پھیرا۔ ایک اور ڈکار لی اور چارپائی پر لیٹ گئے اور ایک آنکھ بند کرکے دوسری آنکھ سے جیناں کی ڈھلکی ہوئی چدریا کی طرف دیکھتے رہے۔ اس نے جلدی جلدی برتن سمیٹے اور چلی گئی۔ مولوی صاحب نے آنکھ بند کی اور موجو سے کہا۔’’چوہدری اب ہم سوئیں گے۔‘‘
چوہدری کچھ دیر ان کے پاؤں دابتا رہا۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سو گئے ہیں۔ تو ایک طرف جا کر اس نے اپلے سلگائے اور چلم میں تمباکو بھر کے بھوکے پیٹ چموڑا پینا شروع کردیا۔ مگر وہ خوش تھا۔ اس کو ایسا لگتا تھا کہ اس کی زندگی کا کوئی بہت بڑا بوجھ دورہوگیا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں اپنے مخصوص گنوار مگر مخلص انداز میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اپنی جناب سے مولوی صاحب کی شکل میں فرشتہ رحمت بھیج دیا۔
پہلے اس نے سوچا کہ مولوی صاحب کے پاس ہی بیٹھا رہے کہ شاید ان کو کسی خدمت کی ضرورت ہو، مگر جب دیر ہوگئی اور وہ سوتے رہے، تو وہ اٹھ کر اپنے کھیت میں چلا گیا اور اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ اس کو اس بات کا قطعاً خیال نہیں تھاکہ وہ بھوکا ہے۔ اس کو بلکہ اس بات کی بے حد مسرت تھی کہ اس کا کھانا مولوی صاحب نے کھایا اور اس کو اتنی بڑی سعادت ہوئی۔
شام سے پہلے پہلے جب وہ کھیت سے واپس آیا تو اس کو یہ دیکھ کر بڑا دکھ ہوا کہ مولوی صاحب موجود نہیں۔ اس نے خود کو بڑی لعنت ملامت کی کہ وہ کیوں چلا گیا۔ ان کے حضور بیٹھتا رہتا۔ شاید وہ ناراض ہو کر چلے گئے ہیں اور کوئی بددعا بھی دے گئی ہوں۔ جب چوہدری موجو نے یہ سوچا تو اس کی سادہ روح لرزگئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس نے ادھر ادھر مولوی صاحب کو تلاش کیا مگر وہ نہ ملے۔ گہری شام ہوگئی۔ پھر بھی ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ تھک ہار کر اپنے کو دل ہی دل میں کوستا اور لعنت ملامت کرتا۔ وہ گردن جھکائے گھر کی طرف جارہا تھا کہ اسے دو جوان لڑکے گھبرائے ہوئے ملے۔ چوہدری موجو نے ان سے گھبراہٹ کی وجہ پوچھی تو انھوں نے پہلے تو ٹالنا چاہا، مگر پھر اصل بات بتا دی کہ وہ گھورے میں دبا ہوا شراب کا گھڑا نکال کر پینے والے تھے کہ ایک نورانی صورت والے بزرگ ایک دم وہاں نمودار ہوئے اور بڑی غصب ناک نگاہوں سے ان کو دیکھ کر یہ پوچھا کہ وہ یہ کیا حرام کاری کررہے ہیں۔ جس چیز کو اللہ تبارک تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے وہ اسے پی کر اتنا بڑا گناہ کررہے ہیں جس کا کوئی کفارہ ہی نہیں ان لوگوں کو اتنی جرات نہ ہوئی کہ کچھ بولیں۔ بس سر پاؤں رکھ کے بھاگے اور یہاں آکے دم لیا۔
چوہدری موجو نے ان دونوں کو بتایا کہ وہ نورانی صورت والے واقعی اللہ کو پہنچے ہوئے بزرگ تھے۔ پھر اس نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اب جانے اس گاؤں پر کیا قہرنازل ہوگا۔ ایک اس نے ان کو چھوڑ چلے جانے کی بُری حرکت کی، ایک انھوں نے کہ حرام شے نکال کر پی رہے تھے۔
’’اب اللہ ہی بچائے۔۔۔۔۔۔اب اللہ ہی بچائے میرے بچو۔‘‘ یہ بڑبڑاتا چوہدری موجو گھر کی جانب روانہ ہوا۔ جیناں موجود تھی، پر اس نے اس سے کوئی بات نہ کی اور خاموش کھاٹ پر بیٹھ کر حقہ پینے لگا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک طوفان برپا تھا۔ اس کو یقین تھا کہ اس پر اور گاؤں پر ضرور کوئی خدائی آفت آئے گی۔
(جاری ہے)

