بائیکاٹ کا منتر، سسکتی معیشت اور ہمارا غیرت مینیا
سیانے کہتے ہیں کہ کمزور کا غصہ خود پر ہی نکلتا ہے طاقتور پر نہیں، طاقت کی اپنی ہی لغت ہوتی ہے، اپنی زبان اور اپنے ہی استعارے و تشبیہات ہوتی ہیں، ارتقا اور گزرتے سمے کی بس یہی ایک حقیقت ہے ہم بھلے تسلیم کریں یا نہ کریں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حالیہ صورت حال میں فلسطین کے پس منظر میں علماء کرام عوام سے درخواست کر رہے ہیں کہ غیر ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں تاکہ صہیونی طاقتوں کو ٹھیک ٹھاک مالی خسارہ ہو اور وہ دنوں میں روڈ پر آجائیں، ایں خیال است و محال است و جنوں۔
کاش نرگسیت اور خوابوں کی دنیا میں اتنا دم خم ہوتا تو شاید ہم ایسے خماری بھی آج طاقت اور غلبہ سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے، لیکن حقائق کی دنیا تو بہت تلخ اور بے رحم ہوتی ہے، اگر سائنس و ٹیکنالوجی کے حقیقی معجزے ملاحظہ کرنا چاہتے ہیں تو یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ دنیا بھر میں ہماری ایک کثیر تعداد ہے لیکن ہم چند لاکھ یہودیوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں اور مقابلے کے لیے ہمارے پاس فقط بددعائیں بچی ہیں۔
طاقت کے سراب میں اس قدر مبتلا ہو چکے ہیں کہ ہمیں اپنے سوا کوئی دوسرا دکھائی ہی نہیں دیتا، ایک وڈیو نظروں سے گزری جس میں ایک خاتون کسی ہوٹل میں اپنے کھانے سے لطف اندوز ہو رہی ہے اور ساتھ کوکا کولا پڑی ہے، ایک غیرت مینیا کا شکار آ ٹپکتا ہے اور انتہائی حقیر انداز میں پوچھتا ہے۔
”تم نے یہ بوتل کس کے کہنے پر منگوائی ہے“ ؟
وہ بیچاری کہتی رہ گئی کہ میں نے اپنے پیسوں سے منگوائی ہے لیکن اس شخص نے دھمکی آمیز انداز میں یہ کہتے ہوئے بوتل نیچے پٹخ دی کہ تمہیں نہیں پتا بائیکاٹ چل رہا ہے۔
کراچی کے ایف سی میں غیرت کے نام پر ہونے والی لوٹ مار اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے کہ مذہب کے نام پر ہمیشہ لوٹ مار ہی کی گئی ہے، اصلاح اور اخلاقی بلندی کا تو دور دور تک کوئی نام و نشان تک دکھائی نہیں دیتا، مذہب کے نام پر مچائی گئی لوٹ مار کے ڈائریکٹ اثرات غریبوں پر پڑیں گے سرمایہ دار کا تو بال بھی بیکا نہیں ہو گا۔
ہماری ذہنی سطح اس قدر تاریکی میں اتر چکی کہ ہم ایک معمولی سی فرنچائز کی توڑ پھوڑ کو مذہب کی فتح قرار دے رہے ہیں، یقین مانیں یہ غیرت ایک ایک پیزہ، برگر اور زنگر برگر کی مار تھی اگر کے ایف سی والے مفت خدمات پیش کرتے، ساری کی ساری غیرت ستو پی کر سو جاتی، کھانے کے معاملے میں ہماری مجموعی ذہنیت اور رویے افطار پارٹیوں، شادیوں یا سیاسی پارٹیوں کی سالگرہ کے مواقع پر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔
صدیوں کے بھوکوں کو تہذیب و شائستگی سے کیا غرض بھائی، صارفین کو تو ڈسکاؤنٹ یا پیکجز آفر سے غرض ہوتی ہے تخلیق سے انہیں کیا لینا دینا؟
شاہانہ انداز میں کروڑوں کی بی ایم ڈبلیو میں سے نکلتے ہیں سادگی و امن کا درس دینے کے لیے، لاکھوں کے آئی فون جیبوں میں ہوتے ہیں اور کفار کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے انہی کے مائیک سسٹم میں انتہائی جوش کے ساتھ فخریہ انداز میں عوام کو بتانے میں ذرا سی عار بھی محسوس نہیں کرتے کہ اے لوگو غیر ملکی مصنوعات کا بائیکاٹ کردو۔
چلیں ٹھیک ہیں بائیکاٹ کیے دیتے ہیں سوال یہ ہے کہ آپ کے پاس متبادل کیا ہے؟
کیا ہمارے پاس اصلی ادویات موجود ہیں؟
کیا ہمارے ہاں ایمان کی طرح خالص دودھ موجود ہے؟
ہمارے ہوٹلوں یا ریستوران میں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہاں گدھوں یا مردہ مرغیوں کا گوشت نہیں ملے گا بلکہ تازہ اور صحیح گوشت ملے گا؟
اس بات کی کیا ضمانت ہوگی کہ ہمیں گوشت مارکیٹ سے بالکل تازہ پانی کے بغیر اور تندرست جانور کا گوشت ملے گا؟
انتہائی اہم سوال یہ ہے کہ دنیا بھر میں درجنوں اسلامی ممالک موجود ہیں اور سب سے بڑھ کر حرم مقدس بھی ہے جہاں اس طرح کی نمائشی سی غیرت کا دور دور تک کوئی شائبہ تک نہیں ہے نام و نشان تو بہت دور کی بات ہے، حرم مقدس میں غیر ملکی درجنوں فرنچائز موجود ہیں لیکن حیرت ہے وہاں کسی کو غیرت کیوں نہیں آتی؟
کیا ان کے دلوں میں فلسطین کے مظلوموں کا درد موجود نہیں ہے بلکہ ان کے تو صہیونی طاقتوں کے ساتھ بڑے کھلے ڈھلے مراسم ہیں اور بہت سارے پراجیکٹ میں تو پارٹنر بھی ہیں۔
تلخ حقیقت یہی ہے کہ بائیکاٹ یا مظاہروں سے اسرائیل یا امریکہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ہاں ہماری جھوٹی انا کی تسکین ضرور ہو جائے گی لیکن سوال پھر بھی وہیں موجود رہے گا کہ اس میں مذہب کی بھلا کیا خدمت ہو گی؟


