کون اچھا پاکستانی ہے؟ کون اچھا مسلمان ہے؟ (2)

میرے گزشتہ واقعات کے بارے میں کچھ جذبات ہیں۔ میں تقسیم کے وقت لاکھوں انسانوں کی موت کو قربانی کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں مگر میں ساتھ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ قربانی دی نہیں گئی تھی بلکہ یہ قربانی ایک جبر تھی۔ اس جبر کا شکار سرحد کے دونوں پار کے انسان ہوئے ہیں۔ میں کسی یوٹوپیائی حب الوطنی کے ترانے لکھتے ہوئے ان قربانیوں پر فخر نہیں کرتا۔ میں کسی بھارتی فوجی کی دال والی ویڈیو پر خوشی کے شادیانے نہیں بجا سکتا۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ یاسین ملک نے نریندرا مودی کو کتنا کرارا جواب دیا۔ مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ ملک کے ایک ادارے کے سربراہ کا ڈنڈا کس ہاتھ میں ہے یا اس نے انگلی کیوں ہلائی۔ اس کے باوجود میری شناخت نہیں بدل سکتی۔ کوئی شخص مجھے پاکستان کی شہریت سے محروم نہیں کر سکتا۔ مجھے اپنی ماں سے محبت ہے۔ میں اپنے گھر کے آنگن کو پیار سے سینچتا ہوں ۔ میں اپنے دیس سے پیار کرتا ہوں۔ میری پاکستانیت کسی سند کی محتاج نہیں ہے۔ میں کسی ریٹائرڈ بیورکریٹ، کسی دفاعی تجزیہ نگار، کسی کالم نگار اور کسی سرکاری دانشور کا یہ حق تسلیم کو تیار نہیں ہوں کہ وہ میری حب الوطنی کے لئے کوئی پیمانہ مقرر کرے۔ نہ میں کسی کے لئے یہ پیمانہ مقرر کرنے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی اور کا حق تسلیم کرتا ہوں کہ وہ کوئی ایسا پیمانہ بنا کر مجھے سوال کے کٹہرے میں کھڑا کرے۔ میں ایک آزاد وطن کا آزاد اور برابر کا شہری ہوں۔ نہ میں کسی سے زیادہ پاکستانی ہوں نہ کوئی مجھ سے زیادہ پاکستانی ہے۔
میری مادری زبان پشتو ہے۔ میں علاقائی طور پر بلوچستان سے تعلق رکھتا ہوں۔ مجھے اپنے لسانی شناخت پر کوئی شرمندگی نہیں۔ مجھے اپنے صوبائی شناخت پر کوئی شرمندگی نہیں۔ ریاست، اس کے ادارے یا کوئی اور جبری طاقت اگر میرے پشتون ہونے پر یا کسی کے پنجابی، سندھی، بلوچ سرائیکی یا مہاجر ہونے پر مجھے یا ان کوکسی جبر کا نشانہ بنائے گی تو میں اس کے خلاف آواز آٹھاﺅں گا۔ ریاست، اس کا کوئی ادارہ اگر میرے صوبے ساتھ یا کسی دوسرے صوبے کے ساتھ کوئی جبر کرے گا تو میں اس کے خلاف آواز اٹھاﺅں گا۔ یہ بتا چکا ہوں کہ میں قلات پر فوج کشی کو جبر سمجھتا ہوں۔ یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ڈیورنڈ لائن نے پشتون قوم کو تقسیم کر دیا ہے۔ مگر میں کسی آزاد بلوچستان کے حق میں نہیں ہوں۔ میں کسی گریٹر پشتونستان کے حق نہیں ہوں۔ میں افغانستان کے ساتھ شامل ہونے کو تیار نہیں ہوں۔ میں قلات ریاست کا شہری کہلانے کو تیار نہیں ہوں۔ میں کسی نئی سرحد بندی پر یقین نہیں رکھتا۔ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ دنیا کے کسی ملک کی سرحد حتمی یا آفاقی نہیں۔ مگر اس کے باجود میں کسی نئی سرحد بندی کا قائل نہیں ہوں۔ ایک تقسیم میرے دادا نے دیکھی جس میں لاکھوں انسانوں کا خون بہا۔ ایک تقسیم میرے باپ نے دیکھی جس میں ہزاروں انسانوں کا خون کا بہا۔ میں کسی سیاسی برتری کے لئے اپنے بھائیوں کا خون بہانے پر تیار نہیں ہوں۔ میرے صوبے کے وہ شہری جو مجھ سے خود کو زیادہ صوبے کا خیر خواہ سمجھتے ہیں وہ مجھے یہ طعنہ دے سکتے ہیں کہ میں ریاستی لبرل بن چکا ہوں۔ میرے پشتون قوم پرست بھائی مجھے یہ طعنہ دے سکتے ہیں کہ میں ریاستی پروپیگنڈے کا شکار ہو چکا ہوں یا میں کسی اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار ہوں۔ مگر میری زبان پھر بھی پشتو رہے گی۔ میرا گھر پھر بھی بلوچستان میں ہو گا۔
میں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہوں۔ میں ایک مسلمان ہوں۔ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے ملکی سیاست اور نظام پر رائے دینا میرا حق ہے۔ میں سیکولرازم کو ایک سیاسی بندوبست سمجھتا ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی ترقی اور بقا کے لئے ریاست کو سیکولر خطوط پر چلانا چاہیے۔ میرے سیکولر سیاسی خیالات کے بعد میں کسی کا حق یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں کہ وہ اپنے کسی مجہول پیمانے پر سیکولر اور اسلامسٹ کی اصطلاح گڑھ کر مجھ سے ایمان کی گواہی طلب کرے۔ میرا مسلمان ہونا مجھے بتاتا ہے کہ ایمان کی گواہی طلب کر نے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر پر چیلینج ٹرینڈ چلا کر کوئی شخص مجھ سے ایمان کی گواہی طلب نہیں کر سکتا۔ میرا مذہب میرا ذاتی معاملہ ہے۔ مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ کسی یوٹیاپیائی اسلامسٹ کو حق حاصل نہیں ہے کہ مجھے اپنے پیمانے پر تولنا شروع کرے۔ کسی یوٹوپیائی لبرل، سیکولر کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ میرے مذہب پر سوال اٹھائے۔ کوئی اگر خدا اور مذہب کو تسلیم نہیں کرتا تو یہ اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ مگر وہ میرے یا کسی بھی دوسرے مسلمان، مسیحی، ہندو، سکھ یا بودھ کے مذہبی شناخت پر سوال اٹھانے کا حق نہیں رکھتا۔ کوئی بھی شخص چاہے وہ مذہبی ہے یا غیر مذہبی، کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ میرے یا کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کے مذہبی اعتقادات، رسومات یا شخصیات کی اہانت کرے۔
بطور ایک شہری اور انسان کے میں جمہوریت، علم، ترقی اور انسانی برابری پر یقین رکھتا ہوں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، جنس، زبان اور عقیدے کے تمام شہریوں کے لئے ریاست کی جانب سے مساوات اور برابر کے حقوق پر یقین رکھتا ہوں۔ عقیدے کی آزادی پر یقین رکھتا ہوں۔ تمام انسانوں کے عقائد کے احترام کا قائل ہوں۔ میں ایک طالب علم ہوں۔ کسی رائے کو حتمی نہیں سمجھتا۔ اپنے تمام سیاسی، معاشی، معاشرتی خیالات پر مکالمے کے لئے تیار ہوں سوائے عقیدے کے۔ میرا یا کسی اور کا عقیدہ کوئی سیاسی یا معاشی موضوع نہیں ہے جس کوصحافت یا پبلک فورم پر موضوع بنایا جائے۔ کنہیا کمار کو عدالتوں کا سامنا ہے۔ ویڈیو اپ لوڈ کرنے پر متشدد ہندو تنظیموں نے گرمیہر کور پر سخت تنقید کی۔ میرا پر دادا ایک بیل سے ہل چلا کر درانی سلطنت کو خراج دیتا تھا۔ میرے بٹوے میں پاکستانی شناختی کارڈ ہے اور میں اس ملک کا ایک ٹیکس ادا کرنے والا شہری ہوں۔ گرمیہر کور ہی کی طرح میں بھی جنگ کا قائل نہیں ہوں۔


Comments are closed.