کون اچھا پاکستانی ہے؟ کون اچھا مسلمان ہے؟ (1)


بات جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم کنہیا کمار کی ایک تقریر سے شروع ہوئی جس میں اس نے آزادی کے نعرے لگائے تھے اور جالندھر سے تعلق رکھنے والی گرمیہر کور کی یوٹیوب ویڈیو تک پہنچی۔ گرمیہر کور جب دو سال کی تھی تو اس کے والد کیپٹن مندیپ سنگھ 1999 میں کارگل کی جنگ میں مارے گئے تھے۔ کنہیا کمار کی تقریر کے بعد جب ہندوستان میں حب الوطنی اور غدار ی پر بحث چھڑ گئی تو انیس سالہ گرمیہر کور نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی۔ اس ویڈیو میں گرمہیر کور بتاتی ہے کہ وہ کیسے پاکستانیوں سے نفرت کرتی تھی وہ کیسے سارے مسلمانوں کو پاکستانی سمجھتی تھی۔ اس نے کیسے چھ سال کی عمر میں ایک برقعے والی خاتون پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ اسے لگتا تھا کہ کہیں نہ کہیں یہ خاتون بھی اس کے باپ کی قاتل ہے۔ پھر گرمیہر کور اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اس کے باپ کو پاکستانیوں نے قتل نہیں کیا۔ اس کے پاب کی قاتل جنگ ہے۔ اس کے باپ کی قاتل نفرت ہے۔ وہ کہتی ہے کہ عام پاکستانیوں اور عام ہندوستانیوں کی اکثریت امن چاہتی ہے جنگ نہیں۔ میں مجبور ہوں کہ دونوں اقوام کے رہمناﺅں کی صلاحیت پر سوال اٹھاﺅں۔ ہم تیسری دنیا کی قیادت کے ساتھ پہلی دنیا بننے کا خواب نہیں دیکھ سکتے۔ آئیں مل کر امن کے لئے کوشش کرتے ہیں۔ بہت ہو گیا ریاست کی سطح پر دہشت گردی کرنا۔ بہت ہو گئی ریاست کی سطح پر جاسوسی۔ بہت ہو گئی ریاست کی سطح پر نفرت۔ بہت ہو گئی بارڈر کے دونوں طرف انسانوں کی موت۔ بس بہت ہو گیا۔ میں ایسی دنیا میں رہنا چاہتی ہوں جہاں کسی گرمیہر کور کو اپنے باپ کی یاد نہ ستائے۔ میں اکیلی نہیں ہوں۔ میری آواز میں بہت سے لوگوں کی آواز شامل ہے۔

 اخبار کے صفحے پر ’میں ‘ کا صیغہ پسندیدہ نہیں۔ صیغہ متکلم کے استعمال کی مجبوری آن پڑی ہے۔ یہ "میں” کسی تفاخر کا "میں” نہیں ہے بلکہ ایک طالب علم کا عجز بیان ہے۔ پچھلے ایک سال سے گرمیہر کور کی ویڈیو کو کئی بار دیکھ چکا ہوں۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ گرمیہر کور کی آواز کو کاغذ پر اتاروں۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ کیا بدل جائے گا؟ میں ایک گوشت پوست کا انسان ہوں۔ ایسا ہی انسان جیسے آپ سب ہیں۔ میرے اجداد نے جس زمین پر آنکھ کھولی میں آج بھی اسی زمین پر رہتا ہوں۔ میرے دادا کے دادا نے جس وطن میں آنکھ کھولی وہ درانی سلطنت تھی۔ ایک بیل کی مدد سے وہ زمین کی کوکھ سے اپنے بچوں کے لئے جتنی گندم اگا سکتے تھے، اس میں سے آدھا یا پونا حصہ سلطنت ضبط کرتی اور پانی پت کے میدان کو بحر ظلمات قرار دے گھوڑے دوڑاتی تھی۔ میرے دادا کے دادا کو علم نہیں تھا بالاجی باجی راﺅ مسلمان ہیں یا ہندو۔ وہ احمد شاہ ابدالی سے بھی واقف نہیں تھے۔ ان کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ اودھ کے شجاع الدولہ، کبھی ابدالی اور کبھی مرہٹوں کے ساتھ کیوں ہوتے ہیں۔ انہیں بس اتنا علم تھا کہ وہ جب بھی گندم کی فصل کاٹیں گے تو گھوڑوں پر چند سپاہی آ کر چند بوریاں سمیٹ لیں گے اور ان کو کہیں گے کہ قومی سلامتی کے لئے آپ کے گندم کی سلطنت کو ضرورت ہے۔

وقت گزرتا ہے۔ میرے دادا دنیا میں آتے ہیں۔ یہ امارات افغانستان ہے۔ امیر عبدالرحمن اس کے امیر ہیں۔ دادا نوجوان کی دہلیز پر قدم رکھنے تک وہی گندم اور وہی سپاہی دیکھتے ہیں۔ امیر عبدالرحمن علاقہ تاج برطانیہ کو دیتے ہیں۔ اب حکومت تاج برطانیہ کی ہے۔ ہندوستان تقسیم ہوتا ہے۔ دادا کا علاقہ پاکستان میں شامل ہوتا ہے۔ جس زمین پر میرے پر دادا رہتے تھے اسی زمین پر آج میں رہتا ہوں۔ میرے دادا کے دادا سے لے کر مجھ تک کسی کو ریاست چننے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ میرے دادا کے دادا جس ریاست میں پیدا ہوئے وہ امارت افغانستان تھا۔ میرے دادا کے دور میں امارات افغانستان کی بجائے وہ تاج برطانیہ محکوم بنتے ہیں۔ تقسیم کے بعد پاکستان کے شہری بنتے ہیں۔ میں پیدا ہوا تو میرا وطن پاکستان تھا۔ میرے اجداد کا درانی سلطنت میں ہونا، میرے دادا کا افغانی ہونا، پھر تاج برطانیہ کا محکوم ہونا، پھر پاکستانی ہونا اور میرا پاکستانی ہونا اختیاری معاملہ نہیں تھا۔ ایسے ہی کنہیا کمار اور گرمیہر کور کا ہندوستانی ہونا ان کا اختیاری معاملہ نہیں ہے۔

اب مگر میں، کنہیا کمار اور گرمیہر کور کچھ سوالوں کے کٹہرے میں ہیں۔ کیا ہم تینوں کو ان سوالات کے جوابات دینے چاہیں؟ ایک اپنے سماج سے کچھ نظریات سیکھتا ہے۔ اپنی سیکھی ہوئی باتوں کو رد کر کے نئے نظریات اپناتا ہے۔ ان میں سے بھی کچھ کو رد کرتا ہے اور کچھ اور نظریات اپنا لیتا ہے۔ یہی علم کی دنیا کا اصول ہے۔ کنہیا کماراور گرمہیر کورکا اپنا پس منظر ہے۔ ہو سکتا ہے وہ بھی ان سوالات کے جوابات نہ دینا چاہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ان سوالات کے جوابات نہیں دینے۔ میں اب بھی ان سوالات کے جوابات نہیں دوں گا۔ صرف یہ بتاﺅں گا کہ مجھے ان سوالات کے جوابات کیوں نہیں دینے۔

میں ایک پاکستانی ہوں۔ اپنا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ لیتے ہوئے میں ایک حلف نامے پر دستخط کر چکا ہوں جس کے مطابق میں اس ملک کے آئین و قانون کا بطور شہری پابند ہوں۔ اس حلف نامے کے رو سے کچھ معلوم ذمہ داریاں حکومت کی ہیں اور کچھ میری ہیں۔ میں اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرتا ہوں تو ریاست مجھ سے جواب دہی کر سکتی ہے۔ ریاست کو اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی کرے تو میں جواب دہی کر سکتا ہوں۔ مگر میرے پاس طاقت نہیں ہے اس لئے ریاست جب کوتاہی کرتی ہے تو میں احتجاج کرتا ہوں۔ ان معلوم ذمہ دایوں کے بعد سماج کے کسی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ میرے وطنی شناخت کے پیمانوں سے زائد کا مجھ سے کوئی مطالبہ کرے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ سماج کے کچھ طبقات ایسا کر رہے ہیں۔ وہ میری حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ کچھ میرے عقائد پر سوال اٹھاتے ہیں۔ کچھ میرے عقائد کی تصدیق چاہتے ہیں۔ بطور ایک طالب علم میرے لئے وطن پرستی( Nationalism) اور وطن دوستی ( Patriotism) جامد تصورات نہیں ہیں۔ مجھے علم ہے کہ یہ تصورات آج سے دو صدیاں پہلے وجود نہیں رکھتے تھے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ اس کی تاریخ کتنی پرانی ہے۔ میں اس بحث کو اگلی نشست کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah