توحید کا کوانٹم ورلڈ – مکمل کالم

دنیا میں نا انصافی کیوں ہے؟ بدی کی کیا منطق ہے؟ بے گناہ لوگ قتل کیوں کر دیے جاتے ہیں؟ ظلم کی کیا وجہ ہے؟ زلزلوں اور طوفانوں میں گیہُوں کے ساتھ گُھن کیوں پِس جاتا ہے؟ بَد اَمنی کیوں ہے؟ روزانہ ہزاروں معصوم بچے بھوک سے کیوں مر جاتے ہیں؟ صدیاں بیت گئیں اِن سوالات کے جوابات نہیں ملے۔ شاید اِس لیے کہ انسان نے یہ فرض کر رکھا ہے کہ کائنات کسی منطقی اصول پر چلتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کا کوئی سر پیر ہی نہیں۔
بظاہر عام زندگی میں فزکس کے اصول لاگو ہیں اور یہ اصول اِس قدر واضح ہیں کہ ان پڑھ اور گنوار شخص بھی اِن کی خلاف ورزی کی جرات نہیں کرتا، اسے چاہے کششِ ثقل کا علم نہ ہو مگر یہ ضرور پتا ہے کہ اگر اُس نے دسویں منزل سے چھلانگ لگائی تو سر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ عام بندے نے چاہے نیوٹن کے قوانین حرکت نہ پڑھے ہوں مگر اسے یہ سمجھ ضرور ہوگی کہ ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہوئی گاڑی اسی صورت میں رکے گی اگر بریک دبائی جائے۔
ویسے تو یہ سادہ نظر آنے والے قوانین بھی اچھے خاصے پیچیدہ ہیں کیونکہ اگر اِن کی تفصیل میں جائیں تو چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، مثلاً نیوٹن کا کشش ثقل کا قانون کہتا ہے کہ کائنات کی ہر شے دوسری شے کو اپنی جانب مخصوص قوت سے کھینچتی ہے، اِس قانون کی مدد سے بیٹھے بٹھائے زمین کی کمیت معلوم کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح فلموں میں اکثر ٹائم ٹریول دکھایا جاتا ہے کہ کیسے مستقبل میں سائنس کی مدد سے ایسی ٹائم مشین بنا لی جائے گی جس کی مدد سے ہم ماضی سفر کر سکیں گے حالانکہ یہ ممکن نہیں کیونکہ یہ تھرمو ڈائنامکس کے دوسرے قانون کی خلاف ورزی ہو گی، مطلب یا تو تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون غلط ثابت ہو گا یا پھر ٹائم ٹریول۔
تھرمو ڈائنامکس کا قانون کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر شے میں بے ترتیبی (entropy) بڑھتی ہے، یہ بے ترتیبی اشیا کو بگاڑتی ہے یا اُن کی شکل تبدیل کر دیتی ہے جیسے برف پگھل جاتی ہے، لیکن پانی خود سے دوبارہ برف نہیں بنتا، چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے لیکن خود سے گرم نہیں ہوتی، ٹوٹی ہوئی پلیٹ خود سے دوبارہ نہیں جُڑ سکتی۔ اب ماضی میں سفر کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ وقت کا پہیہ اُلٹا گھمایا جائے یعنی صبح ٹوتھ پیسٹ سے جو پیسٹ آپ نے نکالا تھا وہ ازخود واپس ٹوتھ پیسٹ میں بھر جائے یا جو اُبلا ہوا انڈا آپ نے چھیلا تھا اُس پر واپس چھلکے آ جائیں جو کہ ناممکن اور entropy کے قانون کے خلاف ہے لہذا ٹائم ٹریول ممکن نہیں۔
جن سوالات سے بات شروع ہوئی تھی اُن پر واپس آتے ہیں۔ کیا کائنات کسی اصول کے تحت چلتی ہے؟ کیا قوانینِ طبیعات ہر جگہ یکساں لاگو ہوتے ہیں؟ کیا اِن قوانین کو سمجھ لینے سے کائنات کے حوادث سمجھ میں آ جائیں گے؟ اور بالفرضِ محال اگر ایسا ہو گیا تو کیا ظلم، نا انصافی اور بدی کی وجوہات بھی سمجھ میں آ جائیں گی اور انسان کو مُکتی مل سکے گی؟ فزکس کے جن قوانین کی ہم نے بات کی وہ روز مرہ زندگی کے لیے اٹل اور ناقابل تبدیل ہیں لیکن جب ہم باریکی میں جاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ ایک دنیا وہ بھی ہے جہاں یہ قوانین باطل ہو جاتے ہیں اور وہ دنیا ہے کوانٹم فزکس کی دنیا۔
اِس دنیا کے قوانین چکرا دینے والے ہیں، اِس دنیا میں فوٹون کی نقل و حرکت کا دار و مدار اِس بات پر ہے کہ اُن کا مشاہدہ کون کر رہا ہے۔ یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے جتنی یہاں بیان کی گئی ہے مگر کم و بیش ایسا ہی ہے۔ اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ سورج کی روشنی ہم تک آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے تو یہ بیان بیک وقت درست بھی ہے اور غلط بھی کیونکہ جو شے روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتی ہے اُس کے لیے وقت اتنا ہی سست روی سے چلتا ہے، اور اگر کوئی شے روشنی کی رفتار سے سفر کرے گی تو اُس کے لیے وقت تھم جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ خود روشنی تو روشنی کی رفتار سے ہی سفر کرتی ہے تو اُس کے لیے جب وقت رُک گیا تو پھر اسے زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ کیسے لگے؟ اور اگلا سوال یہ کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے لیے لامحدود توانائی درکار ہے جو کہ ممکن نہیں، صرف فوٹونز ہی روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں جن کی کوئی کمیت نہیں ہوتی یعنی وہ ’وجود‘ ہی نہیں رکھتے، تو پھر کس ’ذرے‘ نے کہاں سے کہاں تک اور کس رفتار سے کب اور کس ’وقت‘ سفر کیا۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!
اِن تمام سوالات کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں، ایک، اِس کائنات کی کوئی منطق نہیں، دوسرا، ہم انسان کبھی اِس کائنات کا راز نہیں جان سکتے۔ دوسری بات پر پہلے بات کر لیتے ہیں۔ کائنات کا راز جاننے کے لیے کائنات کے تمام قوانین جاننا ضروری ہیں، مگر اِن قوانین کا اُسی صورت پتا چلایا جا سکتا ہے اگر ہم کُل کائنات کا مشاہدہ کر سکیں جو کہ نا ممکن ہے کیونکہ اگر ہم کسی دن روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے قابل بھی ہو گئے (جو کہ علیحدہ سے نا ممکن ہے ) تو بھی مکمل کائنات کا مشاہدہ ممکن نہیں ہو گا۔
اب پہلی بات ہی باقی رہ جاتی ہے کہ یہ کائنات ہماری سمجھ میں آنے کے لیے وجود میں نہیں آئی، اِس لیے نہ صرف اِس کائنات کے قوانین کوانٹم کی سطح پر تبدیل اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں بلکہ اخلاقی سطح پر بھی اِن کی کوئی کل سیدھی نہیں لگتی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس کائنات میں معصوم بچے ہلاک ہو جاتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ ظلم، نا انصافی، بدامنی، فساد۔ یہ تمام باتیں کائنات میں اُسی طرح غیر منطقی ہیں جیسے فوٹون کا ’وجود‘ نہ رکھنے کے باوجود روشنی کی رفتار سے سفر کرنا، صرف ایک فرق یہ ہے کہ کائنات کے اخلاقی بے تُکے پن کی وجوہات تلاش کرنا نسبتاً کم پیچیدہ کام ہے جبکہ کوانٹم دنیا میں قوانین فطرت کے راز کو پانا قریباً ناممکن۔
نہ جانے کیوں مجھے یوں لگتا ہے جیسے کوانٹم فزکس کا راز ہمیں CERN میں واقع Large Hadron Collider سے نہیں ملے گا بلکہ کوانٹم فزکس کے کسی صوفی پر القا ہو گا بالکل اسی طرح جیسے توحید کا راز امام غزالی پر آشکار ہوا تھا جس کے بعد انہوں نے توحید کے تین درجے بیان کیے۔ پہلا درجہ عام لوگوں کی توحید (توحید العوام) ، یہ وہ لوگ ہیں جو مانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے مگر بغیر دلائل یا گہری سمجھ کے، اِن کا عقیدہ تقلید پر مبنی ہوتا ہے یعنی وہ دوسروں کی باتوں پر ایمان لاتے ہیں جیسے بچپن سے سنا اور مان لیا کہ اللہ ایک ہے، بس اِسی پر قائم ہیں۔
دوسرا درجہ علماء و فلاسفہ کی توحید (توحید العلماء) ، اِس درجے میں وہ لوگ آتے ہیں جو عقل، منطق اور دلائل کے ذریعے اللہ کی وحدانیت کو سمجھتے ہیں، یہ لوگ دلائل دیتے ہیں کہ کائنات کا خالق اور ناظم صرف اللہ کی ذات ہے اور کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں، اِن کا عقیدہ علمی بنیادوں پر ہے۔ تیسرا درجہ عارفین و صوفیاء کی توحید (توحید الخواص) ، یہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے جسے صوفیاء یا عارف لوگ حاصل کرتے ہیں، اِن کے نزدیک اللہ کے سوا کائنات میں کچھ نہیں، گویا وہ ہر چیز میں اللہ کی قدرت، حکمت اور ارادہ دیکھتے ہیں، یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کا نفس فنا ہو جاتا ہے اور بندہ مکمل طور پر اللہ کے حضور جھک جاتا ہے، وہ اللہ کے سوا کسی اور کو حقیقی وجود نہیں سمجھتا۔
امام غزالی کے تصورِ توحید کے یہ درجات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے طبعی دنیا کے قوانین عام اور پڑھے لکھے آدمی کے لیے ہوتے ہیں، کوئی بغیر سمجھے اِن قوانین کی پابندی کرتا ہے اور کوئی دلائل سے متاثر ہو کر، جبکہ کوانٹم دنیا کا مسافر اُس صوفی کی طرح ہے جس پر توحید آشکار ہوتی ہے۔ اِسے ہم توحید کا کوانٹم ورلڈ کہہ سکتے ہیں۔

