پنجاب کی سڑکوں پر موجود بچے : تحفظ، پناہ اور شراکت کے حق سے محروم کیوں؟
دنیا بھر میں 12 اپریل کو بے گھر بچوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ان بچوں کے مسائل کو اجاگر کیا جا سکے جو اپنی چھت سے محروم ہیں اور گلیوں، فٹ پاتھوں یا خستہ حال عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ دن ہمیں ایک موقع دیتا ہے کہ ہم ان بچوں کی موجودگی کو تسلیم کریں، ان کی مشکلات کو سمجھیں اور ان کے حقوق کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ پہلے ہم پاکستان اور پنجاب میں بے گھر بچوں کی حالت زار پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ پاکستان، بالخصوص پنجاب جیسے گنجان آباد صوبے میں، ہزاروں بچے ایسے ہیں جن کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ یہ بچے یا تو یتیم ہیں، گھریلو تشدد سے بھاگے ہیں، یا غربت اور سماجی نا انصافیوں کا شکار ہو کر سڑکوں پر آ نکلے ہیں اور ان بچوں کو ان کے والدین بھی قبول نہیں کرتے۔ ان بچوں کو نہ صرف بنیادی حقوق جیسے شناخت کا حق، زندگی، بقاء اور نشوونما کا حق، معیاری زندگی کا حق نیز تعلیم اور صحت کی سہولیات سے محرومی کا سامنا ہوتا ہے، بلکہ وہ عدم تحفظ کی بنا پر جنسی و جسمانی استحصال، جبری مشقت، نشے، گینگ کلچر اور دیگر خطرناک عوامل کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
بدقسمتی سے حکومت کے پاس ان بے گھر بچوں کے کوئی باقاعدہ معین اعداد و شمار، ڈیٹا یا سروے موجود نہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے پالیسیاں بنانا اور امدادی پروگرامز تشکیل دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک غیر سرکاری تنظیم (CSC) 1996 میں ایک سروے کے مطابق 1.5 ملین بچے پاکستان میں سڑکوں پر موجود ہیں اس کے علاوہ ابھی تک کسی موثر تعداد کا نہیں پتہ چل سکا اور یقینی طور پر 1.5 ملین والی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہو گا۔ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کا کنونشن (UNCRC) جسے پاکستان نے بطور ریاست 1990 کو تسلیم کیا تھا۔ مگر آج ہم پاکستان میں بچوں کے مسائل کو دیکھتے ہیں تو پریشان کن صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بطور ریاست پاکستان نے جہاں بہت اچھے اقدامات اُٹھائے اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کا کنونشن (UNCRC) کے مطابق پاکستان میں بچوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی قوانین بنائے اور آئین پاکستان میں بھی بچوں کے حقوق کو شامل کیا گیا وہاں قانون پر عمل کرنے کے حوالے سے رولز مرتب کرنے میں بہت سستی دیکھنے کو ملتی ہے جس کی ایک مثال ہے کہ آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 25۔ A کے مطابق ”ریاست 5 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کی پابند ہو گی، جسے قانون کے ذریعے طے کیا جائے گا“ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین پاکستان کے آرٹیکل 25۔ A کے تحت حکومت پنجاب نے ”پنجاب مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ 2014“ متعارف کرایا، جس کا مقصد 5 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ پنجاب مفت اور لازمی تعلیم ایکٹ 2014 کے رولز 11 سال بعد فروری 2025 میں منظور ہوئے جس کے بعد اب مکمل طور پر اس قانون پر عمل درآمد ہو سکتا ہے۔
ہزاروں بچے پنجاب کی گلیوں، چوکوں، اور بس اڈوں پر زندگی گزار رہے ہیں جنہیں نہ تعلیم میسر ہے، نہ تحفظ، اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق۔ ان بچوں کو نظر انداز کرنا ہمارے معاشرتی نظام کی ناکامی ہے گلی کوچوں اور بے گھر بچوں کے مسائل کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ ان بچوں کو درپیش مشکلات بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ سب سے تو پہلے ان بچوں کے بارے میں اس معاشرے کے افراد کا رویہ انتہائی برا ہوتا ہے بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں ہم بچوں کو ان کے بے گھر ہونے اور گلی کوچوں میں رہنے کی وجہ سے انسانی احساس تک نہیں رکھتے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بچے گلی کوچوں اور سڑکوں کے کنارے رہتے ہیں تو یہ دیکھنے میں گندے لگتے ہیں جسمانی صفائی نہیں کر پاتے، بنیادی خوراک اور توجہ سے محروم ہوتے ہیں یہ بچے۔
پھر ان بچوں پر معاشرے کے جرائم کا سایہ بھی پڑتا ہے اس معاشرے کے برے افراد ایسے بچوں کو چند پیسوں کا لالچ دے کر یا خوراک یا چھت کا لالچ دے کر ان سے برے کام کرواتے ہیں جیسے بچوں سے بھیک منگوانا، بچوں سے منشیات کی فروخت جیسے خطرناک کام کرواتے ہیں پھر ایسے ہی افراد کا اثر ان بچوں پر پڑتا ہے جس سے بچے اچھی اور بنیادی نشو و نما کے حق سے محروم ہو جاتے ہیں یہ تو ہو گئی بات بے گھر بچوں کی۔ اگر ہم بے گھر بچیوں کی بات کریں تو ان کی حالت دیکھ کر روح کانپ اُٹھتی ہے اس معاشرے کے درندے افراد بے گھر بچیوں سے کم عمری میں جسم فروشی جیسے گندے کام لیتے ہیں والدین غربت اور مہنگائی کی وجہ سے ایسی بچیوں کی کم عمری میں شادی کروا دیتے ہیں یا چند پیسوں کی خاطر ایسے بچیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔
پنجاب حکومت کو چاہیے کہ جہاں وہ پنجاب کے عوام کی بہتری کے لیے پروگرامز لا رہی ہے وہاں پر بچوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کو سماجی تحفظ کے پروگرامز لانے کی ضرورت ہے جس سے والدین کی بچوں کے اخراجات میں مدد ہو سکے اور والدین پھر ذمہ دار ہوں گے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم، صحت، خوراک میں بچوں کی ذمہ داری پوری کریں اگر ایسے والدین جو حکومتی سماجی پروگرام سے مستفیض ہو رہے ہوں اور بچوں کو سکول نہ بھجوائیں تو ایسے والدین کے خلاف سخت ایکشن لیں۔ تا کہ سماجی تحفظ کا مضبوط نظام قائم کرتے ہوئے بچوں کی تعلیم سے محرومی اور بچوں سے مشقت جیسے مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ تو اس طرف توجہ کی بھی اشد ضرورت ہے یہ گلیوں کوچوں میں رہنے والے بے گھر بچے پنجاب یا پاکستان کے کسی بھی علاقے میں رہتے ہوں ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے ان کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کی بہتری کے لیے بھی جامع لائحہ عمل تشکیل دیا جانا چاہے۔ سڑکوں پر رہنے والے بچوں کا تحفظ صرف انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک ریاستی ذمہ داری ہے۔ ہمیں ان بچوں کی آواز بننا ہو گا جو معاشرے کے سب سے کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔


