اخلاقیات اور روایات کی سیاست کا امین تاج حیدر
آج کا دن اس شخص کے نام جس نے 83 برس کی عمر پائی اور اس کی یہ 83 برس کی زندگی بناوٹ اور ظاہری چاہ و حشمت سے پاک تھی۔ آج بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ ہماری سیاست بناوٹ کے اصولوں پر قائم ہو گئی ہے اور اس نے ہمارے پورے سماج کو زنگ آلود کر دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے کردار بھی موجود ہیں جو روز اول ہی سے احترام، محبت اور مکالمہ نگاری، برداشت اور جمہوری روایات جیسے سنہری اصولوں کے ساتھ سیاست کو عبادت کا درجہ دیتے ہوئے سیاست کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں ایسی شخصیات اتنی کم تعداد میں ملتی ہیں جیسے آٹے میں نمک۔ ایک ایسی ہی شخصیت دو روز قبل اس زنگ آلود معاشرے سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے اس سفر پر نکل پڑا ہے جس کی منزل آج تک نہیں مل پائی۔ جی میری مراد سینیٹر تاج حیدر ہیں۔ اگر پارلیمانی، عوامی جمہوری روایات کی حامل سیاست کو دیکھا جائے تو تاج حیدر اس سیاست کے امین نظر آتے ہیں۔ تاج حیدر کی وفات پہ بہت سے لوگ کچھ انہیں ترقی پسند، کچھ مارکسسسٹ، کچھ نیشنلسٹ کہہ کر یاد کر رہے تھے لیکن میرے نزدیک تاج حیدر کا تعارف اور پہچان ان کا دھیما مزاج اور برداشت کا رویہ ہی ان کی بہت بڑی خوبیاں تھیں کیونکہ آج کی سیاست اور معاشرے میں یہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتیں۔ تاج حیدر صاحب سے میری ایک ہی ملاقات ہوئی تھی 2014 میں کراچی جہاں تاج صاحب کے لبوں سے نکلنے والے موتی بھی سمیٹنے کا موقع میسر آیا۔
تقسیم ہند کے وقت کچھ ہیرے ہندوستان ہجرت کر گئے تھے اور کچھ ادھر آ گئے تھے 1942 میں پیدا ہونے والے تاج حیدر 1947 میں ہجرت کر کے پاکستان آ گئے تھے۔ تاج حیدر کی ایک بہت بڑی پچان ریاضی دان اور ڈرامہ نگاری تھی۔ سیاست اور ڈرامہ نگاری میں تو میں بھی ان کا مداح ہوں لیکن ریاضی میری سمجھ سے باہر ہے کیونکہ میں آج تک یہ نہیں سمجھ پایا 2 + 2 = 4 کیسے ہوتا ہے میں دو جمع دو کو 22 ہی سمجھتا ہوں۔ جناب تاج کے ڈراموں میں جو انھوں نے تحریر کیے لب دریا اور جنھیں راستے میں خبر ہوئی سر فہرست ہیں۔ تاج حیدر کی تحریروں میں بھی انسانی حقوق، جمہوری روایات کا عکس نظر آتا تھا۔ آئین کی بالادستی، صوبائی خودمختاری اور 18 ویں ترمیم کے محافظین جن میں رضا ربانی، افراسیاب خٹک شامل ہیں انہی کی صف میں ایک نام تاج حیدر کا بھی ہے۔ تاج حیدر کی وفات پہ ایک دوست نے تحریر میں تاج صاحب پہ تنقید کی لیکن وہ تنقید کم طوفان بدتمیزی زیادہ تھا اگر صرف تنقید کی حد تک بات ہوتی تو شاید تاج حیدر صاحب بھی اس کا خیر مقدم کرتے کیونکہ ایک جائز تنقید برائے اصلاح جمہوریت کا حسن ہے لیکن بات پھر وہی ہے کہ ہماری سیاست، سماج تباہ ہو گئے ہیں۔ برداشت کا رویہ کب سے ہمارے معاشرے کو خیر باد کہہ کر دور کسی ویرانے میں بسیرا کر چکا ہے۔ تاج حیدر ان چند نامور ممتاز شعراء اور سیاستدانوں کے اس قبیلے کے وارث تھے جو انتہائی مدلل انداز میں کسی بھی قسم کی تنقید کا جواب دیتے تھے۔ اگر یہ کہا جائے پاکستان پیپلز پارٹی میں تاج حیدر اور چند دوسرے ترقی پسند سوچ کی حامل شخصیات کی وجہ سے اس پارٹی میں آج بھی ترقی پسند نظریات کی جگہ موجود ہے۔ ضیاء دور میں تاج حیدر صاحب نے اپنی تحریروں کے ذریعے اعلان بغاوت بلند کیا جب سب سچ لکھنے سے ڈرتے تھے۔
اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
آج اس امر کی بہت شدت سے ضرورت ہے کہ سیاسی شعور کو اجاگر کیا جائے اور سماج میں سول سپرمیسی اور جمہوری روایات کا پرچار کیا جائے اور تاج حیدر کی سوچ کو زندہ رکھا جائے۔

