اختلاف کیا کیجئیے


اختلاف رائے رکھنا یا اختلاف کرنا نفرت کی علامت ہے نہ دشمنی کا آغاز۔ اختلاف، مختلف سے ماخوذ ہے اور کسی شے کے دوسرے سے جدا ہونے ہونے کو ثابت کرتا ہے۔ اختلاف دراصل دو ایک دوسرے سے جدا اجسام کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔ اختلاف ہی سے نظام مادیات نمو پایا ہے اور جب اختلاف ختم ہو جائے تو وجود ختم ہو جاتا ہے یا یوں کہیے کہ وجود ختم ہو جائے تبھی ممکن ہے کہ اختلاف ختم ہو جائے۔ اس کے سوا دوسری کوئی گنجائش نہیں کہ دو اجسام موجود ہوں اور ان میں اختلاف نہ ہو۔ جس طرح مادیات کی زمین میں نمو پانے والی ہر شے مختلف ہے اور اس کا مختلف ہونا ہی اس کا وجود ثابت کرتا ہے وگرنہ اس کا کوئی علیحدہ وجود باقی نہ ہو، اسی طرح آپ کا اختلاف ہی آپ کا وجود ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ آپ اختلاف نہیں کرتے بلکہ پہلے سے موجود اختلاف کا اقرار کرتے ہیں کیونکہ آپ کا وجود بذات خود اختلاف ہی ہے اور آپ صرف اس کا اقرار کرتے ہیں کہ ہاں میں مختلف ہوں اور مجھے فلاں رنگ پسند ہے یا فلاں خوشبو لبھاتی ہے یا فلاں موسم، شخص، جگہ، خیال، موسیقی، طرز معاشرت، طرزِ زندگی، شوق یا مقام اچھا لگتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اختلاف ختم ہوا یعنی آپ نے اپنے وجود کا انکار کر دیا یوں سمجھیے کہ آپ خود اپنے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہو گئے۔ مطلب آپ مادی طور پر موجود تو ہیں مگر شعوری طور پر تسلیم نہیں کیے گئے۔ آپ خود اپنے وجود کو تسلیم نہیں کرتے (یعنی اختلاف نہیں کرتے اور اپنے مختلف ہونے کا اقرار نہیں کرتے ) اور خواہش کرتے ہیں کہ آپ کے اہل خانہ، دوست، محلے دار، احباب وغیرہ آپ کی خواہشات و توقعات کو سمجھیں اور ان کا احترام کریں۔ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ آپ کے آنگن میں آم کا درخت سرے سے وجود ہی نہیں رکھتا اور آپ اپنے آنگن میں موجود کسی مادی شے سے آم کی توقعات وابستہ کر لیں یعنی ایک شے جس کا شعوری وجود آپ نے متعارف کروانا تھا مگر آپ نے متعارف کروایا نہیں (یعنی کہ اختلاف نہیں کیا اور اپنے وجود کو تسلیم نہیں کیا) اور خواہش کیے بیٹھے ہیں کہ دنیا آپ کے وجود کو تسلیم کر لے۔

آپ کا اختلاف آپ کا شعوری وجود ہے اور اس کا اقرار آپ کے شعور کی طرف پہلا قدم ہے۔ اگر آپ اپنے اندر خواہ مخواہ کی الجھنوں کا شکار ہیں، ڈپریشن زدہ ہیں، من اوب گیا ہے، بلا وجہ نا خوش ہیں، چڑ چڑائے ہوئے رہتے ہیں یا اس مثل دوسرے ذہنی اضطراب کا شکار ہیں تو اختلاف کرنا شروع کیجئیے اور اپنے وجود کو پہلے خود تسلیم کر لیجیے۔ اس میں کوئی برائی ہے نہ ممانعت۔ اختلاف کیا کیجئیے آپ بہتر محسوس کریں گے اور زندگی کے بہت سے ایسے لطائف اور رنگوں سے محظوظ ہو پائیں گے جو مادی دنیا میں صرف آپ کی طبیعت کو لبھاہنے کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔ اختلاف وجود ہے اور وجود حقیقت۔ حقیقت سے انکاری شخص ویسے ہی ہوتا ہے جیسے ہمارے دیس کے اہل دانش۔ ہمارے ہاں ایک عمومی تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ اگر دو دوست، خاندان کے افراد، ساتھ کام کرنے والے، محبت کرنے والے یا کارزار فضول کے دیگر کوئی کردار آپس میں اتفاق نہیں رکھتے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے نفرت رکھتے ہیں یا بغض رکھتے ہیں۔ یا کیوں کا مطلب ہے لڑائی وغیرہ۔ حالانکہ آپ غور کریں تو اتفاق کا وجود ہی نہیں ہوتا اگر اختلاف نہ ہو، مطلب یہ کہ اگر ہم کہتے ہیں کہ بھئی میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں وغیرہ وغیرہ تو اس کا صاف معنیٰ یہ ہوا کہ ایک مختلف کردار ہے جو دوسرے مختلف کردار سے ایک خاص امر پہ اتفاق رکھتا ہے۔ یعنی اگر دو کردار آپس میں مختلف ہی نہ ہوں تو ان میں اتفاق بھی نہیں ہو سکتا یا یوں کہیے کہ اس کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ کیونکہ اتفاق ہوتا ہی مختلف اجسام کے مابین ہے جو شے پہلے ہی ایک مسلمہ وجود رکھتی ہے اسے اپنے آپ میں اتفاق کرنے کی کیا پڑی یعنی اختلاف اصل ہے اور اتفاق معروضی۔ ہمارے ہاں خاندانی طرزِ زندگی ہو یا معاشرتی اطوار، دیکھنے کو ملتا ہے کہ ہم اختلاف رائے کا احترام تو درکنار، اختلاف کرنا ایک قبیح فعل سمجھتے ہیں۔ ہمارے معاملات زندگی اتفاق سے تعبیر کیے جاتے ہیں اور اگر کہیں اختلاف کا شائبہ ہو جائے تو وہ شخص یا امر حرف ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ جمہوریت، مشاورت، فیصلہ سازی، حکمت عملی، انسانی معمولات زندگی، معاشی معاملات، معاشرتی مسائل وغیرہ جیسے امور ترتیب دینے کا واحد راستہ اختلاف رائے پہ مبنی گفتگو اور بحث کا اہتمام ہے جس سے ہمارے معاشرے صریحاً پاک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بطور فرد، خاندان یا معاشرہ انتہائی ناقص فیصلہ ساز ہیں، حکمت اور معاملہ فہمی نزدیک بھی نہیں بھٹکتی، جدت پسندی سے کوسوں دور اور انسانی حقوق کی پامالی میں سر فہرست ہیں۔ فرد کی رائے کا احترام تو خیر اور ہی بات ہے ہمارے ہاں فرد اپنی رائے رکھتے ہی نہیں۔ اور خواہش یہ رہتی ہے کہ ہنر مند ادیب، شعراء، اہل فکر، معاشی و معاشرتی امور کے ماہرین، سائنس بین، عمرانی امور کو سمجھنے والے کیوں ناپید ہوئے چلے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے عدم برداشت، انتہا پسندی، سخت گیر خیالات، عدم تعاون، بر بریت، خود پسندیت، درباری رویوں، بد امنی، چاپلوسی اور خوشامد جیسے مغلظات کی آماج گاہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔

گزارش ہے کہ خود بھی اختلاف کیا کیجیے اور اپنے بچوں، دوستوں، بزرگوں اور منسلک افراد کی اختلاف رائے کا احترام یقینی بنایا کیجیے تاکہ ہمارے معاشروں میں برداشت، تعاون، حوصلہ افزائی، جمہوریت، صلہ رحمی جیسے اوصاف پروان چڑھیں۔ رائے رکھنا کسی بھی ذی روح کا بنیادی حق ہے اور اس کے وجود کا اقرار ہے۔ اگر ہم اختلاف رائے کا ہی گلا گھونٹ دیں گے تو پھر علم فوت ہو جایا کرتا ہے اور معاشرتی تصویر کچھ ایسی ہی بنتی ہے جیسی آج ہمارے گردونواح میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

Facebook Comments HS