بیرسٹر ظفراللہ ….تیرے خان کا خان صاحب ہو

’روشن خیالی کسی تفاخر یا تحقیر کے احساس سے تعلق نہیں رکھتی، میں اسے اجتماعی ذمہ داری سے وابستگی سمجھتا ہوں۔ انسانوں کو تاریک خیال نہیں ہونا چاہیے۔ تاریخ میں کن زمانوں کو تاریک ادوار کہا جاتا ہے۔ جب حکمرانی مطلق العنان استبداد تھی اور علم پر پابندیاں تھیں۔ انسانوں نے آزادی اظہار کے ذریعے ایک ایسی دنیا تعمیر کرنے کا بیڑا اٹھایا جس میں زیادہ امن، رواداری اور علم ہو۔ روشن خیالی کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی میں سہولت پیدا کی جائے اور اس مقصد کے لیے کسی بڑے سے بڑے علمی قضیے یا سیاسی اصول سے انحراف کرنا پڑے تو جرات سے اس کا اعلان کیا جائے۔ اظہار کی اس آزادی کے لیے ضروری ہے کہ میں یہ تسلیم کروں کہ میری رائے غلط ہو سکتی ہے نیز یہ کہ دوسروں کو مجھ سے مختلف عقائد اختیار کرنے اور رائے رکھنے کا حق ہے۔ مذہب اور رائے کے اختلاف سے قطع نظر تمام انسانوںکو ایک جیسا رتبہ اور حقوق ملنے چاہئیں… حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے حق اظہار اور مذہبی آزادی کا احترام کیے بغیر میں اپنے معتقدات سے انصاف نہیں کر سکتا“۔ اسی برس 12 دسمبر 2015 ءکی اشاعت میں درویش نے ’آرائش خم کاکل اور لبرل ازم‘ کے عنوان سے لکھا۔ ’لبرل ازم ایک سیاسی، معاشی اور علمی بیانیہ ہے۔ یہ ایک تہذیبی ر ویہ ہے۔ سیاسی سطح پر لبرل ازم انسانی مساوات میں یقین رکھتا ہے۔ انسانی مساوات کے اصول سے جمہوری حکمرانی کے معیارات اخذ کئے جاتے ہیں۔ لبرل ازم میں جنس، عقیدے اور زبان کی بنیاد پر کسی تعصب کی گنجائش نہیں۔ چنانچہ کہا جا سکتا ہے کہ آمریت لبرل نہیں ہو سکتی۔ تعصب کی بنیاد پر انسانوں میں تفرقہ ڈالنے والی سیاست لبرل نہیں ہوتی۔ لبرل سیاست کی بنیاد انسانی ہمدردی ہے۔ لبرل ازم میں انسانوں کی شخصی آزادیوں کا احترام کیا جاتا ہے اور اس پر صرف ایک حد قائم ہو جاتی ہے اور وہ یہ کہ کسی آزادی کے استعمال سے دوسروں کی آزادی مجروح نہ ہو۔ معاشی سطح پر لبرل ازم منافع اور کھلے مقابلے کے اصول تسلیم کرتا ہے…. ‘
اب فاشزم کا مفہوم دیکھ لیتے ہیں۔ فاشزم میں نسل ، عقیدے ، طبقے اور جنس کی بنیاد پر انسانوں کے حقوق اور رتبے کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔ فاشزم ایک مقبولیت پسند ،قوم پرست اور جنگ پسند سیاسی فلسفہ ہے۔ فاشزم تشدد کو جائز سمجھتا ہے اور فرد واحد کی مطلق العنان حکومت کو نصب العین قرار دیتا ہے۔ فاشزم کی یہ خصوصیات درویش کی اختراع نہیں۔ حنا آرڈنٹ سے راجر گریفن، رابرٹ پاکسٹن ، امبرٹو ایکو اور جان لوکاچ تک عصر حاضر کے کسی بھی سیاسی مفکر کو اٹھا لیجئے۔ اس سے ہٹ کر فاشزم کا اگر کوئی مفہوم دستیاب ہو تو آگاہ کیا جائے۔ لبرل فاشسٹ نہیں ہوتا اور فاشسٹ لبرل نہیں ہوتا۔ جوناگولڈ برگ نے 2008ء میں ’لبرل فاشزم‘ کے عنوان سے البتہ ایک کتاب لکھی تھی جسے ڈونلڈ ٹرمپ کے مکتبہ فکر کی ترجمان سمجھا جاتا ہے۔ گولڈ برگ نے ہٹلر، مسولینی، سٹالن اور ماﺅ کو گڈ مڈ کر کے دائیں بازو کا جدید بیانیہ مرتب کیا تھا۔ ہمارے ملک میں یہ بحث محض علمی حیثیت نہیں رکھتی۔ مذہب کے نام پر دہشت گردی نے پاکستان میں ستر ہزار شہریوں اور جوانوں کی جان لی ہے۔ دہشت گردوں کے حامی پاکستان میں مسلسل انکار ، عذر خواہی اور اشتعال انگیزی کی مدد سے ریاست کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ ان عناصر نے پاکستان میں سیاسی قوتوں او رغیر جمہوری قوتوں میں کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عسکریت پسندی کے لیے موزوں ماحول پیدا کیا ہے۔ سیاسی قیادت کی کمزوری اور مصلحت پسندی سے فائدہ اٹھا کر ریاست کو مفلوج کیا ہے۔ جب نصیراللہ بابر طالبان کو اپنا بچہ قرار دیتے تھے، کارگل کی مہم جوئی کو سیاست دانوں کے دروازے پر رکھ دیا جاتا تھا اور پرویز مشرف کی آئین شکنی کو نظریہ ضرورت کا تحفظ دیا گیا تھا تو دہشت گردوں کی پیش قدمی کے لیے دھول اڑائی جا رہی تھی۔ پاکستان میں لبرل عناصر دہشت گردی کے حقیقی مخالف ہیں۔ پروفیسر شبیر حسین، راشد رحمن، سلمان تاثیر ، سبین محمود اور جرار ملک جیسے سیکولر اور لبرل شہریوں کو شہید کیا گیا ہے۔ کسی سیکولر اور لبرل شہری نے نہ کسی کو قتل کیا ہے اور نہ کبھی تشدد کی تبلیغ کی ہے۔ پاکستان میں جمہوریت اور شہری آزادیوں کا پرچم اٹھانے والوں پر لبرل فاشزم کی تہمت رکھ کر انہیں دہشت گردوں اور ان سے متاثرہ ذہنوں کے سامنے چارہ بنا کر پیش کرنا قابل مذمت ہے۔ صحافی ہو یا سیاست دان ، ریاستی اہلکار ہو یا کوئی مذہبی رہنما، اسے اشتعال انگیزی سمجھنا چاہیے۔ افغانستان میں مفرور طالبان کے رہنما ملا فضل اللہ نے 2اپریل کو جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں پاکستان کی فوج ، سیاست دانوں ، صحافیوں اور لبرل افراد کو قتل و غارت کی دھمکی دی ہے۔ پاکستان میں سیکولرازم کو الحاد اور لبرل ازم کو فاشزم کے ساتھ خلط ملط کرنے والے دانستہ یا نادانستہ طور پر ملا فضل اللہ کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں کیونکہ اس سے آئین میں دی گئی آزادیوں کے لیے معاشرے میں جگہ تنگ ہوتی ہے۔ پاکستان کے لبرل اور سیکولر عناصر ہر عقیدے کا احترام کرتے ہیں۔ جمہوری اور معاشی طور پر ترقی یافتہ پاکستان چاہتے ہیں۔ علم دشمنی کی ثقافت کے مخالف ہیں۔ آئینی حقوق اور آزادیوں کا مساوی تحفظ مانگتے ہیں۔ یہ سب جائز سیاسی مقاصد ہیں۔ دوسری طرف کچھ افراد عقیدے کو ہتھیار کے طور پر اٹھا کر اقتدار پر اجارہ مانگتے ہیں۔ اگر یہ سیاسی بحث بیرسٹر ظفراللہ جیسے تعلیم یافتہ اور ذمہ دار شخص سے بھی سنبھل نہیں پا رہی تو پھر سیکولر اور لبرل کا آئینی مفہوم واضح کرنے کے لئے عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ لگے ہاتھوں ’فرسودہ مغربی روایات‘ کی نشاندہی بھی ہو جائے گی۔ اس بحث کو گلی کوچوں میں خون بہانے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ جسٹس رستم کیانی کے الفاظ میں،’ ترے خان کا خان صاحب ہو‘…. اور درویش کی دعا کیا ہے؟

