نئی تہذیب کے نئے لڑکے اور نئی نفسیاتی الجھنیں
فرض کریں آپ بستر مرگ پر ہیں۔ ایک فرشتہ آ کر آپ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے پوچھے کہ ”کیا آپ اپنی اس زندگی کو اپنے تمام تر دکھ، درد، تلخ تجربات اور اذیتوں کے ساتھ دوبارہ جینا چاہتے ہیں“ ؟ آپ کا جواب کیا ہو گا؟ ہاں، یا نا؟
یہ سوال محض ایک سوال نہیں بلکہ ایک نفسیاتی ٹیسٹ ہے۔ اس عمل کو نطشے نے ”ایٹیرنل ریکرنس“ کہا۔ یہ ایک پیمانہ ہے جس کے ذریعے سے یہ ناپا جا سکتا ہے کہ کوئی انسان کس قدر ”آتھنٹک“ اور حقیقی زندگی گزار رہا ہے۔
اب اگر آپ کا جواب ”ہاں“ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ایک آتھنٹک اور بھر پور زندگی گزار رہے ہیں۔ یعنی زندگی کے تمام تر مسائل کے باوجود بھی آپ وہی ہیں جو آپ چاہتے تھے۔ جبکہ ”نا“ کی صورت میں آپ کو اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنے لاشعور میں اترنے کی ضرورت ہے۔ یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آپ آپ نہیں بلکہ کسی اور کا پرتو ہیں۔ آپ کہانی کے اداکار تو ہیں لیکن کردار کا تعین آپ نے نہیں بلکہ زمانے کی روش نے کیا ہے۔
نطشے کے مطابق مصنوعی یا غیر آتھنٹک زندگی کی بہت بڑی وجہ ”ہرڈ مینٹیلیٹی“ یعنی بھیڑ چال ہے۔ بھیڑ چال کے باعث انسان اپنی انفرادیت کو اکثریت کی تقلید پر قربان کر دیتا ہے۔ یہ طرزِ فکر انسان کو ایک مصنوعی اور غیر حقیقی زندگی گزارنے پر مائل کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کی گہرائیوں میں اترنے کے بجائے زمانے کی روش، اقدار، روایات اور عادات کو اپنا لیتا ہے۔ نطشے کے خیال میں ایسا انسان ”Last Man“ بن جاتا ہے جو اپنی انفرادیت اور خودی کو دبا کر ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے جو بظاہر محفوظ لیکن درحقیقت روحانی طور پر بانجھ ہوتی ہے۔
جرمن فلسفی ہیڈیگر کا اس ضمن میں مشہور قول ہے کہ، ”Everyone is the other، and no one is himself۔“ ہیڈیگر کے نزدیک بھی انسان مصنوعی زندگی تب گزارتا ہے جب وہ ”Das Man“ یعنی عام لوگ یا معاشرتی اکثریت کی رائے اور رویوں کو اپنا معیار بنا لیتا ہے۔
صنعتی انقلاب کے بعد جب جدید دور کی شروعات ہوئی تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا گیا جہاں لوگوں کو ایک ٹول یا پرزے کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ جدید دور کے انسان کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک نئے سماجی بندوبست کی ضرورت تھی۔ مشل فوکو نے ایسے سماج کو ”ڈسپلنری معاشرہ“ کہا۔
بیونگ چُل ہان اپنی کتاب ”برن آؤٹ سوسائٹی“ میں میشل فوکو کی ”ڈسپلنری سوسائٹی“ اور دور حاضر کی ”اچیومنٹ سوسائٹی“ کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ڈسپلنری سوسائٹی میں دور قدیم کی طرح طاقت اور جبر کے ذریعے نہیں بلکہ اداروں، قوانین، نظم و ضبط، نگرانی اور خود احتسابی کے نظام کے ذریعے انسانی رویوں کو کنٹرول کیا جاتا رہا۔ اسکول، فیکٹری، ہسپتال جیسے ادارے فرد کو ایک مطیع جسم میں بدل دیتے، جو خود ہی اپنی نگرانی کرتا ہے اور طاقت کے غیر مرئی جال میں قید ہو کر سسٹم کا حصہ بن جاتا۔ ڈسپلنری سوسائٹی میں ریاست فیصلہ کرتی ہے کہ سکول کس وقت جانا ہے، چھٹی کس وقت ہونی ہے، کس نے کتنا پڑھنا ہے، کس نے کیا پڑھنا، کس نے کیا بننا ہے، کیسے بننا ہے ان سب باتوں کا تعین ریاست خود اپنی نگرانی میں کرتی ہے۔ ریاست ہی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ حق کیا ہے، باطل کیا ہے، انصاف کیا ہے، نا انصافی کیا، غدار کون ہے، حقدار کون ہے۔ ایسے نظام میں اور اس پورے عمل میں فرد کو جبر کا شعور نہیں ہوتا، مگر وہ اپنی آزادی کے دھوکے میں رہ کر مسلسل کنٹرول کا شکار رہتا ہے۔
اس کے برعکس ہان کی اچیومنٹ سوسائٹی کا جدید انسان اگرچہ ظاہری طور پر آزادی، خود ارادیت اور انتخاب کی طاقت رکھتا ہے، مگر وہ ایک نئے قسم کے جبر، یعنی ”خود استحصالی“ کا شکار ہو چکا ہے۔ اچیومنٹ سوسائٹی یعنی کارکردگی پر مبنی معاشرے کا ہر فرد خود کو ایک پراجیکٹ، ایک برانڈ اور ایک پراڈکٹ کے طور پر دیکھتا ہے۔
اچیومنٹ سوسائٹی میں انسانی رویوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی ڈسپلن، کسی ادارے یا قانون کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ دور حاضر کا انسان خود ہی اپنے آپ پر دباؤ ڈال کر ایک ”آئیڈیل سیلف“ بننے کی کوشش میں ہے۔ ہان کے مطابق اس کی بہت بڑی و جہ Over Positivity ہے۔ ”ہاں آپ کر سکتے ہیں، ہاں آپ کر سکتے ہیں“ کا وہ گیان ہے جو آپ کو سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر سننے کو ملے گا۔ قاسم علی شاہ، منیبہ مزاری اور ننھا پروفیسر موٹیویشن کے نام پر اوور پوزیٹیویٹی کے اتنے ڈوز لگا چکے ہیں کہ اب نوجوان نسل نہ ریاست کو کوستی ہے، نہ اپنے حالات کو، نہ اپنی مجبوریوں کو بلکہ ہر لمحہ خود کو کوستی ہے اور خود کو ملامت کرتی ہے۔ پوزیٹیو سوسائٹی کی یہ فضا، جس میں منفی جذبات، تھکن، بیزاری یا بغاوت کی کوئی گنجائش نہیں، فرد کو وجودی گہرائی سے محروم کر دیتی ہے۔ نتیجتاً دور جدید کا انسان با الخصوص نوجوان نسل مسلسل ایک ایسی ریس میں بھاگ رہی ہے جس کا انجام ماسوائے تھکن کے کچھ بھی نہیں۔
نئی تہذیب کا انسان نہ صرف دوسروں کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش میں مصروف ہے، بلکہ وہ اپنی زندگی کے وجودی سوالات کو نظر انداز کر کے، کوا ہوتے ہوئے بھی ہنس کی چال چل رہا ہوتا ہے۔ پیزا اور برگر کھاتا کم ہے سوشل میڈیا پر دکھاتا زیادہ ہے، اپنی گاڑی، بنگلہ اور یہاں تک کہ اپنا آئی فون بھی فرنٹ جیب میں رکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے کہ دنیا کو اپنی اچیومنٹ دکھا سکے۔ مری، سوات، سکردو اور کلام اس لئے نہیں جاتا کہ وہاں اس کی روح کو تسکین ملتی ہے بلکہ اس لیے جاتا ہے کہ وہاں جا کر کانٹنٹ بنائے اور سوشل میڈیا کی زینت بنا کر اپنی اچیومنٹس ثابت کر سکے۔ زندگی کا لمحہ لمحہ جی نہیں رہا بلکہ اپنے گیجٹس میں محفوظ کر کے دنیا کو دکھانا چاہتا ہے اور اپنی ان اچیومنٹس پر اترانا چاہتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ کامیابی کیا ہے، اچیومنٹ کیا خوشی کیا، یہ فیصلہ بھی فرد نے نہیں بلکہ سوشل میڈیا ٹرینڈز نے کرنا ہوتا ہے۔
ہان کے مطابق یہ خاموشی سے مسلط کیا گیا جبر فوکو کی ڈسپلنری سوسائٹی سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ یہاں فرد کو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ ایک غیر حقیقی زندگی گزار رہا ہے۔ اس طرح بیونگ چُل ہان جدید انسان کو ایک ایسے قیدی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو اپنی زنجیروں کو آزادی سمجھ کر پہنتا ہے۔ برن آؤٹ سوسائٹی کا انسان تھک چکا ہے اور وہ اس تھکن سے چھٹکارا پانے کے لئے رک کر سستانے کے بجائے مزید تیز بھاگنے پر آمادہ ہے۔
معروف نفسیاتی ماہر، کارل یونگ نے اس مسئلے کا حل ”Individuation“ بتایا ہے۔ یونگ کے مطابق انسان اگر اپنے لاشعور میں اتر کر اپنے حقیقی وجود کا ادراک کرے اور اس لاشعوری وجود کو شعوری وجود کے ساتھ ملا کر زندگی گزارے تو ایک آتھنٹیک زندگی گزارنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ لاشعور میں اترنے کا مختصر ترین رستہ انسانی خواب ہیں۔ خواب لاشعور میں جھانکنے کی کھڑکی ہے۔ ہمارے خواب دراصل ہمارے ادھورے ارمان اور دبے ہوئے جذبات ہوتے ہیں۔ اپنی ادھوری حسرتوں کا مداوا ہی اصل زندگی ہے۔ پس انسان کو آتھنٹیک ہونا چاہیے پھر چاہے وہ کوئی دھوبی ہو، نائی ہو یا سرحد پہ لڑتا سپاہی۔


