کولھو کے بیل۔

چھوٹی بیٹی انتہائی انہماک کے ساتھ موبائل فون کی اسکرین پر نظریں گاڑے ہوئے تھی، اسکرولنگ کے دوران اس کی نظر ایک منظر پر ٹک گئی، پرانے وقتوں کی کچھ ایسی یادیں یا چیزیں دکھائی جا رہی تھیں جس سے آج کی نوجوان نسل بالکل ہی نابلد ہے۔
مثلاً لالٹین جو مٹی کے تیل سے روشن ہوتی تھی، سادہ اور کھلے ڈھلے سے گھر اور ہوادار صحن جس میں چارپائیاں بچھی ہوئی ہوتی تھیں اور شام کی تاریکی میں سب اہل خانہ آسمان پر نگاہ ٹکائے چاند تاروں کے جھرمٹ سے لطف اندوز ہوتے اور باتیں کرتے کرتے پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کب نیند کی آغوش میں جا پہنچے۔
بیٹی کی نگاہ ایک ایسے منظر پر ٹک گئی جو دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے لیے ایک طرح سے قابل رحم منظر تھا، ایک بیل جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے اور وہ ایک کنویں کا مسلسل طواف کر رہا ہے۔
بیٹی بڑی پریشانی اور جستجو والے انداز میں مجھے کہنے لگی
”پاپا اس بیچارے بیل کا کیا قصور ہے جس کی آنکھوں کو ڈھانپ کر اس قدر سفاکی سے گھومنے پر مجبور کیا ہوا ہے، کیا اس سے کوئی خطا ہو گئی تھی“ ؟
میں نے ہنستے ہوئے کہا نہیں بیٹی ایسا کچھ نہیں ہے، پرانے وقتوں میں جب سائنس و ٹیکنالوجی نے پوری طرح سے اپنی آنکھیں نہیں کھولی تھیں تو ہم انسانوں کے پاس سہولیات کا فقدان تھا، زندگی کو سہل بنانے کے لیے لوگ وقتی حربے کیا کرتے تھے۔
کنویں سے پانی نکالنے، آٹا پیسنے کے لیے یا دیگر لوازمات زندگی کا بندوبست کرنے کے لیے بیل سے مدد لی جاتی تھی۔
بیٹی نے یہ سب سن تو لیا لیکن بڑے ہی معصومانہ انداز میں کہنے لگی
”اس بیچارے بیل پر کتنا ظلم ہوا کرتا تھا، ایک ہی جگہ بنا آرام کیے مسلسل گھومتے رہنا ہائے بیچارہ بیل!“
میں نے اس کی پریشانی کو کم کرتے ہوئے کہا، بیٹا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہماری آج کی نسل بھی کولھو کے بیل کی مانند ہے جن کے ذہن و نظر پر نجانے کتنے روایتی بلنکرز چڑھے ہوئے ہیں جن کا انہیں ادراک تک بھی نہیں ہے۔
اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا وہ کیسے؟
سمجھانے والے انداز میں اس سے مخاطب ہوا، دیکھو بیٹا! آپ کے میٹرک کے امتحان چل رہے ہیں نا، اس سے پہلے بھی آپ نے 9 جماعتیں پاس کی ہیں، مجھے سوچ کر بتاؤ کہ تم نے پیپرز میں جو جوابات لکھے ہیں وہ کہاں سے یاد کر کے لکھے ہیں؟
سوچ کر کہنے لگی متعلقہ ٹیکسٹ بک کے خلاصوں، گائیڈ یا اساتذہ کے نوٹس سے رہنمائی لے کر لکھے ہیں۔
بیٹی ذرا سوچ کر بتانا پلیز! کہ جواب لکھنے کی کاوش میں آپ کے خود کے ذہن کا کتنا عمل دخل ہے؟
اس نے فی البدیہ اور بنا سوچے کہا کہ صرف یاد کرنے کی حد تک۔
جی بیٹی اب مجھے بتاؤ کہ کولھو کے بیل میں اور آپ کے رویے میں کیا فرق ہوا بھلا سوائے مختلف ٹاسک کے؟
بیٹی نے اتفاق کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔
بیل کو گھومنے پر مجبور کرنے والے بھی انسان ہی ہیں اور نئی نسل کو مخصوص اور فکس پیرامیٹرز میں رہتے ہوئے جوابات رٹوا کر نمبرز کی ریٹ ریس میں مبتلا کرنے والے بھی انسان ہی ہیں بس طریقہ واردات کا فرق ہے۔
اساتذہ کو پیپرز چیک کرنے کے لیے رہنمائی کے طور پر باقاعدہ ”کی“ فراہم کی جاتی ہے، جوابات کو عقل کی پہنچ سے دور رکھنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
ماضی میں تو کولھو کے بیل ہوا کرتے تھے لیکن آج کے دور میں ہماری نسل کو سسٹم کے بیل بنے رہنے پر مجبور کر دیا گیا ہے، انسانی تاریخ کا اس سے بڑا المیہ بھی کیا ہو گا کہ ہماری نسل کے پاس دماغ تو ہے لیکن فکر و فہم پر روایات کے کڑے پہرے ہیں۔

