خوابوں کی حقیقت: امن اور ترقی کی تلاش


ہر انسان کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں جیے جہاں امن ہو، سہولت ہو، تعلیم ہو، اور ترقی کے مواقع ہر فرد کے لیے یکساں ہوں۔ میں بھی انہی خوابوں کے ساتھ جیتا ہوں کہ میرے علاقے میں پائیدار امن ہو، میرے گاؤں کے بچے جدید تعلیم سے محروم نہ رہیں اور ہر شخص باعزت زندگی گزار سکے۔

عیدالفطر کی چھٹیوں کے دوران میں اپنے آبائی گاؤں ”دوسلی، نارتھ وزیرستان“ گیا، جہاں میں نے تقریباً تین ہفتے گزارے۔ دوسلی کی فضا، وہاں کی سادگی، بہار کی خوشبو اور ہر طرف ہریالی، انسان کے دل و دماغ کو قدرتی سکون دیتی ہے۔ اس بار بھی موسمِ بہار اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ چھایا ہوا تھا، درختوں پر نئی کونپلیں، پھولوں کی خوشبو، اور صبح کی ٹھنڈی ہواؤں نے دل کو خوش کر دیا۔

گاؤں کی سب سے خوبصورت بات وہاں کی روایات اور سادگی ہے، خاص طور پر عید کی خوشیاں۔ عید کے دن بچوں، نوجوانوں اور بڑوں نے خوب انجوائے کیا۔ سب سے زیادہ جو چیز یادگار رہی، وہ ہماری روایتی کھیل ”انڈوں کی لڑائی“ یعنی ”انډے جانګاول“ تھی۔ ہر کوئی اُبلے ہوئے انڈے لے کر آتا ہے اور ایک دوسرے کے انڈوں سے ٹکرا کر دیکھتا ہے کہ کس کا انڈا سلامت رہتا ہے۔ یہ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ خوشیوں کو بانٹنے، ہنسی مذاق کرنے، اور رشتوں کو قریب لانے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔

لیکن اس بار ہمارا روایتی رقص ”اتن“ نظر نہیں آیا، جو ایک واضح کمی محسوس ہوئی۔ شاید گاؤں کی تیز ترقی اور تبدیلی کے اثرات تھے، یا شاید یہ بھی ایک لمحہ تھا جب امن اور سکون کی تلاش نے ثقافتی سرگرمیوں کو پسِ پشت ڈال دیا تھا۔ تاہم، اس بار دل میں ایک ہلکی سی بے چینی بھی تھی۔ سہولیات کی کمی اور روزمرہ زندگی میں کچھ غیرمعمولی احتیاطی تدابیر، جیسے مخصوص اوقات میں نقل و حرکت پر پابندیاں، ایک الگ قسم کی الجھن پیدا کر رہی تھیں۔

اگرچہ یہ اقدامات مقامی نظم و نسق کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، لیکن ان کا اثر عام لوگوں کی زندگی پر ضرور پڑتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ایسا ماحول ہو جہاں ہر فرد آزادی، تحفظ اور سہولت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ آج میں انہی سوچوں اور امیدوں کے ساتھ ملتان کی طرف روانہ ہوا ہوں، جہاں میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا طالب علم ہوں۔ دل میں یہ خواہش ہے کہ شاید شہر کا ماحول، تعلیم، اور ترقی کی فضا مجھے وہ سکون دے پائے جس کی تلاش میں ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے علاقے وزیرستان اور پوری پشتون بیلٹ میں اس ملک میں پائیدار امن، ترقی، اور خوشحالی لے آئے۔

Facebook Comments HS