سفرِ نیم روز کی روداد


گزشتہ عیدوں کی نسبت اس سال کی عید الفطر بے چینی اور اداسی میں گزری۔ ویسے بھی پردیس میں رہنے والوں کی کیسی عید۔ پردیسیوں کو ہر خوشی کے موقعے پر عزیز و اقربا، کی یادیں بے چین کرتی ہیں۔ ہر چند دیار غیر میں یہی کوشش ہوتی ہے کہ دوست، احباب اور میسر رشتہ داروں کے ساتھ عید کے ایام مل جل کر گزار لیے جائیں۔

اس دفعہ نسبتاً کچھ زیادہ ہی بے چینی کی کیفیت طاری تھی۔ بہرحال جیسے تیسے عید کے دو دن گزرے تھے کہ تیسرے دن کچھ دوست، احباب کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع میسر آیا تبھی چین سا محسوس ہوا۔ اگر چہ اس سے قبل ہر عید الفطر پر دوستوں کی کوشش ہوتی تھی کہ کسی سیاحتی مقام کی سیر پر جائیں لیکن ہم ہر بار مخالفت میں ووٹ دیتے رہے۔ ہر دفعہ اکثریت ہمارے مخالف ہوتی جس کی وجہ سے ہمیں ان کی بات ماننی پڑتی۔ حسبِ سابق اس عید پر دوستوں کی طرف سے ایک سیاحتی پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ منتظمین نے سیاحتی مقام کو حسن بن صباح کی جنت کی طرح قرار دیتے ہوئے خوب ورغلانے کی کوشش کی۔ سبز باغات، ندیاں، جھیلیں اور جھیلوں کے کنارے حوریں اور نہ جانے کیا کیا۔ ہم اس کے جواب میں کہتے رہے۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

خیر دن مقرر ہوا لیکن ہم اپنی ضد پر اڑے رہے، ہمیں آمادہ سفر کرنے کے لیے برابر کوشش جاری تھی، مجال ہے کہ ہم پر کوئی اثر ہو، جیسے جیسے جانے کا وقت قریب آیا فوجی جرنیلوں کی طرح ہمیں پریشرائز کیا گیا کہ آپ کو ضرور آنا پڑے گا۔ حسنِ اتفاق دیکھئے کہ جس سیاحتی مقام کا تعین کیا گیا تھا ہم پچھلے سال ہی وہاں سے ہو کر آئے تھے۔ لیکن مقتدر اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کس کا بس چلے۔ بہرحال با دلِ نا خواستہ ہم نے بھی ہامی بھر لی۔ رخت سفر باندھ کر گیٹ کے باہر آئے تو شش و پنج میں مبتلا ہوئے۔ سفر کے لیے جس گاڑی کی تصاویر دکھائی گئی تھیں وہ نئی نویلی دلہن کی مانند تھی جب کہ جو ہمارے سامنے کھڑی تھی وہ تو ادھیڑ عمر کی طلاق یافتہ خاتون کا منظر پیش کر رہی تھی۔

صبح آٹھ بجے سفر دعاؤں کے ساتھ شروع ہوا۔ آدھے راستے تک تو ہم منہ لٹکائے رہے۔ دل ہی دل میں منتظمین کے خلاف تادیبی کارروائی کا سوچتے رہے۔ لیکن جب محسوس ہوا کہ ہم اپنے اور دوستوں کے ساتھ اچھا نہیں کر رہے تو اپنے جذبات کا رخ بدل دیا۔

گاڑی میں بلند آواز میں قوالیاں اور منقبتیں لگائی گئی تھیں، جھومنے والے جھوم رہے تھے اور گنگنانے والے گنگنا رہے تھے۔ جب کہ کچھ احباب موبائل گیم میں مصروف تھے۔ بیچ راستہ میں اشیائے خورد و نوش لینے کے لیے گاڑی روک دی گئی، پندرہ منٹ کا کہہ کر پورا گھنٹہ راہ تکنے پر مجبور کیا گیا۔ فقیر مغل بادشاہوں کی طرح خطابات سے نوازتے رہے کہ کچھ ملے لیکن ہم نے اُف تک نہ کیا آخر مایوس ہو کر چلے گئے۔

ارے! منزل مقصود کے حوالے سے تو کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔ جی ہاں! تو ہم جا رہے تھے ”ٹھٹہ“ جو کہ چند جھیلوں اور تاریخی مقامات کے حوالے سے مشہور ہے۔ یہ جھیلیں نہ تو زیادہ قابلِ تعریف ہیں اور نہ ہی اتنی لائقِ تنقیص بلکہ معاملہ ”الامر بین الامرین“ کی طرح ہے۔

لیکن دوسری طرف تاریخی مقامات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے ایک تو مکلی قبرستان ہے جس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے اور تاریخی قبرستانوں میں ہوتا ہے۔ یہ تاریخی یادگار عالمی ثقافتی ورثہ میں بھی شامل ہے۔ اس کا رقبہ تقریباً چھے سو ایکڑ پر مشتمل ہے اور مجموعی طور پر پانچ سے دس لاکھ تک قبریں ہیں۔ اس کی تعمیرات چودھویں صدی سے اٹھارہویں صدی تک ہوئی ہے۔ ان قبروں میں سندھ کے بادشاہان، صوفیاء، شعراء، علماء اور دیگر اہم شخصیات دفن ہیں۔

علاوہ ازیں ان قبروں میں ہندو اسلامی، مغلیہ، صفوی اور ترخانی طرز تعمیر کی آمیزش دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں سما خاندان، ارغون اور ترخان حکمرانوں کے مزارات بھی موجود ہیں۔ ان قبروں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں قدیم فنِ تعمیر، سنگ تراشی اور خطاطی کے نمونے بھی ملتے ہیں۔ قبریں پکی اینٹوں، خوبصورت ٹائلوں اور نفیس سنگ تراشیوں سے بنی ہوئی ہیں۔ کئی مقبروں پر قرآنی آیات اور فارسی اشعار خوبصورت انداز میں کندہ ہیں۔ بعض عمارتیں بڑے گنبدوں اور محرابوں سے مزین کی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ ٹھٹہ میں دوسرا اہم تاریخی مقام شاہ جہاں مسجد ہے جو مغل بادشاہ شاہجہان نے اپنے دور حکومت میں بنوائی ہے۔ یہ صرف ایک مسجد ہی نہیں بلکہ عہد مغلیہ کے فن تعمیر کا شاہکار بھی ہے۔

مکلی قبرستان میں آدھا پونا گھنٹہ تاریخ گردانی میں گزارا نیز اس تاریخی ورثے کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کیا۔ وقت کی کمی کی وجہ سے اس جگہ کا مکمل جائزہ نہیں لیا جا سکا لیکن بقدر امکان دور و نزدیک سے مشاہدہ کیا۔ اس تاریخی مقام کا جائزہ لینے کے بعد بہت خوشی محسوس ہوئی چوں کہ ایک دلی خواہش ہے کہ کم از کم پاکستان میں موجود تاریخی مقامات کی سیر کیا جائے، گزشتہ سال بھی یہاں آنے کی خواہش شرمندہ تعبیر نہیں ہوئی تھی لیکن اس دفعہ ہمارے لیے یہ ایک بہترین موقع تھا سو اس سے بھرپور استفادہ کیا۔

بہر حال آگے کا سفر شروع کیا اور آدھے گھنٹے کے بعد گاڑی روک دی گئی اور کہا گیا کہ بھئی! ہم پہنچ گئے ہیں۔ ابھی اتر جائیں۔

گاڑی سے اترے ہی تھے کہ ریگستانی گرمی کی حدت نے استقبال کیا، دل چاہ رہا تھا واپس گاڑی میں بیٹھ کے اے سی کے مزے لیے جائے۔ لیکن کیا کرتے اترنا ہی پڑا۔ کافی دیر سائے کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے رہے۔ پتا چلا کہ پاکستان میں ایسی جگہیں بھی ہیں جہاں درخت کا سایہ بھی بغیر پیسوں کے میسر نہیں، یہ میرے لیے حیرت کا مقام تھا۔

المختصر پڑاؤ ڈالنے کے لیے جگہ کا انتظام کیا گیا۔ اگر چہ مکلی قبرستان پہنچ کر ہی میری سیر مکمل ہو چکی تھی اور اب یہاں میرے لیے کچھ خاص نہیں تھا۔

لیکن جس مقام پر رکے تھے اسے کینجھر جھیل کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلی بار آنے والے دوست بہت خوش تھے، ان سے رہا نہیں گیا فوراً کپڑے تبدل کر کے تیراکی میں مگن ہوئے۔

کچھ دوستوں کو کھانا پکانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ہم کچھ وقت تک سوچتے رہے کہ کپڑے تبدیل کر کے جھیل میں تیراکی کے مزے لیں لیکن یہ بات ستانے لگی کہ ہم صرف نہا سکتے ہیں تیر نہیں سکتے۔ ہم چند حفاظتی انتظامات کے ساتھ شلوار میں خوب ہوا بھر کر کشتی کی طرح پانی میں جھومتے رہے اور جھیل میں تیراکی کے مزے لوٹنے کی خوب کوشش کرتے رہے۔ کچھ افراد ہمیں دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ جب کہ ہمیں ان کی بے بسی پر ترس آ رہا تھا، بیچارے تیر بھی نہیں سکتے تھے اور شلوار کی جگہ ٹراؤزر پہن کے آئے تھے وہ صرف مینڈکوں کی طرح جھیل کے کنارے پھدکتے رہے۔

جھیل پر کافی رش تھا، خواتین اور چھوٹی، چھوٹی بچیاں ایک دوسرے کے سہارے جھیل کے اندر جانے کی کوشش کر رہی تھیں دوسری طرف دوشیزاؤں کے چہرہ کا میک اپ پوڈر جھیل میں سفیدی بکھیر رہا تھا۔ جھیل میں تیرنے کے لیے اجرت پر ٹیوب بھی میسر تھے۔ چند نام نہاد تیراکوں نے اس کا سہارا لیا۔

سب غل غپاڑے میں مصروف تھے اور کچھ احباب جن میں شرارتی کیڑا بدرجہ اتم موجود تھا وہ دوسروں کو ڈبونے میں لگے ہوئے تھے، اتنے بے رحم کہ کیا کہیں۔ پہلے تو بڑے احترام سے ٹیوب پر بیٹھنے کی دعوت دیتے تھے۔ کچھ لمحوں بعد پاکستانی حکومتوں کی طرح الٹا گرا دیتے۔

کھانا تیار ہوا کھانا کھانے سے پہلے ظہرین کی نماز پڑھی۔ پھر کھانے پر بیٹھے بہت مزے کی کڑاہی بنائی گئی تھی لیکن تیل اتنا تھا کہ اپنی شکل بھی ٹیڑھی میڑھی نظر آ رہی تھی، ساتھ میں سلاد اور بوتل کا بھی اہتمام تھا۔ خوب کھا پی کے اگلے راؤنڈ کے لیے جھیل کی طرف جانے کا ارادہ کیا تھا کہ صدا آئی کہ جو افراد پہلے تیر چکے ہیں وہ اب سیخ کباب بنانے کے لیے رک جائیں تاکہ پہلے جو کھانے پکانے میں مصروف تھے وہ تیرنے جا سکیں۔

کچھ دوستوں نے احساس کیا، وہ رکے اور سیخ کباب بنانے لگے۔ لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو سب سے پہلے جھیل کے مزے لوٹنے گئے تھے اس بار بھی ان کا من نہیں بھرا تھا، حد تو یہ کہ سب سے آخر تک جھیل کی زینت بنے رہے یہاں تک کہ شام کے پانچ بج گئے۔ اس دوران کیمرے اور موبائلوں سے تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں۔ کچھ دوست دریائی گھوڑوں کی طرح پانی میں سر نکال کر مسلسل تیراکی کرتے رہے۔ ہم نے بھی تیراکی کے تمام اصول اپناتے ہوئے حتیٰ الامکان تیرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔

بہر حال تھک ہار کر جب جھیل سے لوٹ آئے تو اس وقت تک جلے بھنے، کچے پکے سیخ کباب تیار ہوچکے تھے۔ اسی دوران سیخ کے ساتھ سلاد اور میٹھا خربوزہ کھانے کا نیا تجربہ بھی کیا گیا۔ اس نیم کامیاب تجربے میں مصالحہ سے بھرپور سیخ، کھیرا، گاجر اور خربوزہ شامل تھے۔ مختلف ذائقوں سے بھرپور نوالہ حلق سے دھکا دیتے ہوئے توندِ شریف کے حوالے کیا گیا۔ اس کے بعد اللہ ہی جانے نظامِ انہضام کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ اس منزل کو بھی پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد واپسی کے لیے رخت سفر باندھا اور روانہ ہوئے۔

اکثر دوستوں میں اب تک وہی مستی باقی تھی جو سفر کے آغاز میں تھی۔ مگر ہماری حالت کچھ اچھی نہیں تھی چوں کہ رات بھر کے جاگے ہوئے تھے اور شدید نیند کا غلبہ تھا لیکن ایسے شریف احباب کی صحبت میں مجال ہے کہ کوئی ایک پل بھی سونے پائے۔ رات کے آٹھ بجے اپنی منزل تک بخیریت پہنچ گئے۔ گاڑی سے اترتے ہی بد ہضمی کا شکار دوستوں نے بیت الخلا کا رخ کیا۔ ہم پر سخت نیند کا غلبہ تھا تھوڑی دیر استراحت کے بعد نماز مغربین کے لیے کھڑے ہوئے جھیل کے ڈوبتے نکلتے ہوئے مناظر ذہن میں لیے نماز مکمل کی اور فوراً محو خواب ہوئے۔

Facebook Comments HS