آب بیتی – انگریز راج کے بعض منصوبے اور تنازعات
وطن عزیز میں آج کل نئی نہروں کے حوالہ سے بہت زیادہ بحث و تکرار جاری ہے جو کہ صوبائی عصبیت، انتظامی مصلحت اور عوامی ناعاقبت اندیشی کا شکار ہوتی جا رہی جس کے اثرات دیر پا ہوں گے۔
آج کی آب بیتی میں درپیش صورتحال کو تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
جہلم کینال (بعد ازاں ؛لوئر جہلم کینال ) کی منصوبہ بندی 1888 سے 1898 تک کی گئی اور عملی طور پر 1904 میں نہر کی تعمیر مکمل کر لی گئی لیکن اس منصوبہ کی سرکاری طور پر تکمیل 21 ستمبر 1916 کو ہوئی۔ جس کی بنیادی وجہ اس تمام عرصہ میں شاہ پور برانچ کینال کا زیر تعمیر رہنا ہے۔
شاہ پور، شمال مغربی پنجاب کا اہم ضلع تھا جس کا صدر مقام شاہ پور تھا اور موجودہ ضلع سرگودھا کے بیشتر علاقے پر مشتمل تھا۔ اس ضلع میں ٹوانہ برادری نے انگریز سرکار سے مختلف خدمات کے صلہ میں عروج پایا اور بہت بڑی بڑی جاگیریں حاصل کر لی۔ ان جاگیروں کو دریائے جہلم سے نجی نہریں نکال کر جو کہ برساتی نوعیت کی تھی سے آباد کیا گیا۔ ان نہروں سے ٹوانہ خاندان کے علاوہ بھی رقبے سیراب ہوتے تھے جس کے عوض مالکان چہارمی یا فصل کا چوتھا حصہ وصول کرتے تھے۔
1900 کی قحط سالی کے پس منظر میں جب برساتی نہریں خشک ہو گئی تو ضلع شاہ پور کے تمام زمینداروں نے انگریز سرکار سے استدعا کی کہ ان کے علاقے کی برساتی نہروں کو زیر تعمیر جہلم کینال سے منسلک کر دیا جائے
انگریز سرکار نے مسٹر جے ولسن کو جو کہ ڈی سی شاہ پور بھی رہ چکے تھے (جن کے نام سے ولسن پور گاؤں اور ریلوے سٹیشن بھی قائم کیا گیا) کو اس ضمن میں تجاویز مرتب کرنے کی ذمہ داری دی جنہوں نے مستقل طور پر دوامی نہر سے آبپاشی کی تجویز پیش کی جو کہ سرکار نے سیم زدگی کے پیش نظر رد کر دی اور مسٹر ٹپر کی تجویز کے مطابق منظم انداز سے آہستہ آہستہ تمام نجی نہروں کو سرکاری ملکیت میں لانے پر کام شروع کر دیا۔
اس ضمن میں مسٹر جے ولسن نے 1903 میں نجی مالکان سے نہروں کے حصول کے لیے تجاویز مرتب کی جن کی تفصیل یہ ہے
نجی مالکان کے 85 فیصد رقبہ کو دوامی آبپاشی مہیا کی جائے گی
ملک مبارض خان کے 6 ہزار، ملک حاکم خان اور ان کے کزن کے 5 ہزار ایکڑ رقبہ کو 5 سال کے لیے مفت پانی فراہم کیا جائے گا جبکہ اگلے 5 سال آدھے ریٹ پر پانی مہیا کیا جائے گا
دس سال بعد ان زمینداروں کی سرکار پر کوئی ذمہ داری نہ ہو گی اور عمومی طور پر آبیانہ کی ادائیگی پر آبپاشی کر سکیں گے
اس کے بدلے میں نجی نہروں کے مالکان اپنی نہروں اور ان کے حقوق سے بحق سرکار دستبردار ہو جائیں گے
انگریز سرکار نے ان تجاویز سے اتفاق کیا۔ اسی دوران 1905 Punjab Minor Canal Act پاس ہونے پر سرکار نے نجی نہروں کو سرکاری تحویل میں لینے کی کارروائی شروع کر دی۔ 1905 سے 1908 تک شاہ پور کینال کی تعمیر جاری رہی۔
1908 میں جب تقریباً آدھا کام ہو چکا تھا، نجی مالکان نے تجاویز رد کر دی اور سرکار کو ایک نئے مخمصہ سے دوچار کر دیا۔
1908 سے 1914 تک شاہ پور نہر کے مختلف پہلووں کا از سرنو جائزہ لے کر مختلف تجاویز پیش کی جاتی رہی۔ بالآخر 1914 میں شملہ کانفرنس کی تجاویز کے تحت کمشنر راولپنڈی ڈویژن کو نجی مالکان سے ایک حتمی بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
کرنل پوپہیم ینگ کمشنر راولپنڈی نے ملک ٹوانوں کے نسبتاً حق میں تجاویز پیش کیں جو کہ کچھ اس طرح تھیں:
نجی نہروں کے مالکان کے 35 ہزار ایکڑ رقبہ جو کہ پہلے سے نہری ہے کو رعایتی آبیانہ کے عوض آبپاشی فراہم کی جائے گی
رعایتی آبیانہ جو کہ 1 روپیہ 8 آنہ فی ایکڑ ہے میں سے 12 آنے رائلٹی اور 12 آنے مرمت کی مد میں ہوں گے
20 ہزار ایکڑ رقبہ جو کہ دیگر لوگوں کی ملکیت ہے، کو اسی رعایتی نرخ پر آبپاشی میسر ہو گی اور اس کا آبیانہ نجی نہری مالکان سے ہی وصول کیا جائے گا جبکہ اس رقبہ کا چہارمی (چوتھا حصہ محصول) جو کہ نجی نہری مالکان پہلے سے وصول کر رہے ہیں، کرتے رہیں گے
پنجاب حکومت نے 35 ہزار کی بجائے 30 ہزار ایکڑ کے لیے ان تجاویز سے اتفاق کیا تاہم ملک ٹوانوں نے یہ رد کر کے اپنی تجاویز پیش کیں اور جو کہ انگریز سرکار کو قبول نہ کیں اور کرنل پوپہیم ینگ نے یہ کہہ کر رد کر دیں:
ہم 4 آنہ فی ایکڑ کی رائلٹی قبول نہیں کر سکتے کہ اس صورت میں شاہ پور برانچ سے منافع کی شرح 4 فیصد سے بھی کم ہو جائے اور نہر کی تعمیر ممکن نہ رہے گی۔
ہم رعایتی آبیانہ اس صورت میں کہ 20 سال بعد چہارمی ختم کر دیا جائے گا، نہیں دے سکتے کہ اس سے منصوبہ کی لاگت اس تخمینہ سے بھی بڑھ جائے گی جس سے ہمیں 4 پیسے آنے کی امید ہے
لہذا ہم نجی نہری مالکان کی مرضی کے معاہدے کے مطابق شاہ پور برانچ کو مکمل نہیں کر سکتے، اور اگر یہ ممکن ہو بھی تو زبردستی کا معاہدہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔
انگریز سرکاری نے بذریعہ چٹھی نمبر 547۔ 1 مجریہ 5 اگست 1916 کو وقتی طور پر شاہ پور برانچ کا منصوبہ ترک کر کہ لوئر جہلم کینال کے منصوبہ کو بذریعہ چٹھی نمبری 640۔ 1 مجریہ 21 ستمبر 2016 حتمی طور پر مکمل کر دیا۔
1916 میں ترک کیا جانے والا شاہ پور برانچ کا منصوبہ 1952 میں دوبارہ شروع کیا گیا اور بھاری لاگت کے علاوہ فرسودہ ڈیزائن کے باعث آج تک مسائل سے دوچار ہے۔
ڈیم نہریں اور زمینوں کی آبادکاری انسانیت عامہ کی فلاح کے لیے ہیں اس لیے پہلے رائے عامہ ہموار کی جانا ضروری ہے۔ اگر کسی فریق کو اختلاف ہے تو پہلے اس کا حل تلاش کیا جائے نہ کہ چابکدستی کے روش اپنا کر عوامی فلاحی منصوبوں کو ہمیشہ کے لیے عوام سے دور کر دیا جائے
ٹوانوں نے انگریزوں سے ہی انعامی جاگیریں حاصل کر رکھی تھیں تاہم سات براعظموں پر حکومت کرنے والی انگریز سرکار کے صبر و استقامت اور کام کی لگن کو داد دیں کہ تمام تر عسکری طاقت و قوت ہونے کے باوجود شاہ پور کی محدود سی کالرہ سٹیٹ سے مذاکرات میں اپنے قیمتی 10 سال گنوا دیے جبکہ اس منصوبہ کی تاخیر سے ہونے والے عوامی نقصان کا شمار اور تدارک اب بھی مشکل ہے
اس میں سبق ہے عقل والوں کے لیے۔


