ٹرمپ کا ٹیرف اور ہمارے ماہرین معاشیات
ہم جیسے کم پڑھے لکھوں کو معاشیات کے پیچیدہ تصورات اور بھاری بھرکم اصطلاحات کی مشکل سے ہی سمجھ آتی ہے لیکن کیا کریں کہ حکومتوں اور بڑی طاقتوں کے معاشی فیصلے اور پالیسیاں سب سے زیادہ غریب عوام پر ہی اثر انداز ہوتی ہیں۔ اور عوام کی اکثریت ناخواندہ یا کم پڑھی لکھی ہوتی ہے۔ اس لئے ہم اپنے ماہرین معاشیات سے ہی رجوع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سمجھائیں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔
ہمیں یاد پڑتا ہے کہ زمانۂ طالبعلمی میں ہم جنرل ایگریمنٹ آن ٹیرف اینڈ ٹریڈ GATT کا بہت ذکر سنتے تھے جس کا مقصد بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینا تھا۔ 1995 میں اس کی جگہ عالمی تجارتی تنظیم ڈبلیو ٹی او نے لے لی۔ اور عالمگیریت اور دنیا کے ایک عالمی گاؤں بننے کی باتیں ہونے لگیں۔ اتفاق دیکھئے اسی سال ہم نے سندھ میں عورت فاؤنڈیشن کے سیاسی تعلیم کے پروگرام کو چلانے کی ذمہ داری سنبھالی اور نگار احمد کی مہربانی سے قیصر بنگالی، اکبر زیدی، اقبال احمد اور دیگر اہم ماہرین سے رابطہ ہوا۔ خاص طور پر قیصر بنگالی تب سے ہمیں بتاتے چلے آرہے ہیں کہ عالمی تجارتی اور مالیاتی ادارے پاکستان جیسے ملکوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں اور ہماری معیشت کا کیا حال ہونے جا رہا ہے۔
اب دیکھ لیجیے کہ حضرت ٹرمپ جب سے دوسری مرتبہ بر سر اقتدار آئے ہیں، روز ایک نیا ہنگامہ برپا کرتے ہیں۔ اب اس ٹیرف والے معاملے کو ہی لے لیجیے۔ اسے سمجھنے کے لئے ہمارے دوستوں ناصر منصور اور زہرہ خان نے قیصر بنگالی کو مدعو کیا کہ وہ ایک عوام دوست اور غریبوں کا درد دل میں رکھنے والے ماہر معاشیات ہیں اور ببانگ دہل اس دور میں بھی خود کو سوشلسٹ کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر بحران کے بعد ایک نئی شکل میں سامنے آ جاتا ہے۔
1930 کے عشرے میں عالمی کساد بازاری کے بحران سے نکلا اس کے بعد بھی ہم نے اسے کئی بحرانوں سے نکلتے دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ جو کچھ کر رہا ہے، وہ اپنے ہی نظام کے خلاف بغاوت ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے برطانیہ نے یورپی یونین سے نکل کر کی تھی۔ امریکہ میں ٹرمپ کی کامیابی کو سمجھنے کے لئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ اسے ووٹ کن حلقوں سے پڑتے ہیں۔ اس کی کامیابی کی جڑ نیو لبرل ازم میں ہے جو سرمایہ داری کی انتہائی شکل ہے۔
1980 کے عشرے سے نیو لبرل ازم کے تحت عالمگیریت پر بڑی شدت سے عمل درآمد کیا گیا یعنی جو چیز جس ملک میں سستی بنے گی، وہاں سے بنوا لو۔ گاڑی کے جو پرزے جس ملک میں سستے بنتے ہیں، وہاں سے بنواؤ اور پھر لا کر جوڑ دو۔ جو صنعت سستا نہیں بنا سکتی، وہ بند ہو جاتی ہے۔ سرمایہ داری کا محبوب نعرہ فری مارکیٹ یا کھلی منڈی تھا۔ ٹرمپ نے اس نعرے کے خلاف بغاوت کی ہے۔ اب چین مارکیٹ میں سستی مصنوعات لے آیا ہے تو امریکہ کہہ رہا ہے کہ آزاد تجارت ٹھیک نہیں۔
اسد سعید ہمارے دوست مرحوم کرامت علی کے ادارے میں کام کر چکے ہیں۔ اس لئے ہم انہیں مزدور دوست ماہر اقتصادیات کہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے عرصے سے مالیاتی اداروں اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کی جو ساکھ بنی تھی، ٹرمپ کے اقدامات نے اسے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ صرف اداروں کا بلکہ ملکوں کا بھی ایک دوسرے پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ اللہ نہ کرے کہ کبھی یہ تجارتی جنگ فوجی جنگ میں تبدیل ہو جائے۔ پاکستان جیسے ملک اب یا تو امریکہ کے ساتھ دو طرفہ ڈیل کریں گے۔
یا اپنی مصنوعات کی قیمت کم کرنے کی کوشش کریں گے اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے مزدوروں کی اجرت کم کی جائے گی یعنی برق گرے گی تو بیچارے مزدوروں پر۔ مزدور رہنما قمر الحسن کی رائے میں ہمیں نئی منڈیاں دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ابھی تک ہم سب سے زیادہ امریکہ پر اور اس کے ساتھ چین، یورپی یونین اور یو کے پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ ہم نے اپنے پڑوسی ممالک کی طرف کبھی توجہ نہیں دی۔ صنعت کار کہتے ہیں کہ ہم لاگت کم کریں گے۔ خام مال کی قیمت ان کے کنٹرول میں نہیں۔ یوٹیلٹیزکی قیمت ان کے کنٹرول میں نہیں، ٹرانسپورٹ کا کرایہ ان کے کنٹرول میں نہیں اور ٹیکس لگانا گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے صنعت کار نہ صرف مزدوروں کی تنخواہ کم کریں گے بلکہ اگر کوئی سہولتیں دے رکھی ہیں تو وہ بھی واپس لے لیں گے جیسے بونس، میڈیکل اور دیگر الاؤنسز وغیرہ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب سول سوسائٹی کو کیا کرنا چاہیے؟ ہمیں حکومت سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ سوشل سیفٹی نیٹ بنائے جائیں۔ اگر غربت کا خاتمہ کرنا ہے تو مزدوروں کو ٹریڈ یونین بنانے سے نہ روکیں۔ تعلیم اور صحت کے لئے زیادہ بجٹ مختص کریں۔ زراعت کے شعبے پر توجہ دیں، گندم کی کاشت کا رقبہ بڑھائیں اور دالیں خود اگائیں، امپورٹ نہ کریں۔ روزگار کے مواقع فراہم کریں ورنہ لوگ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی طرف چلے جائیں گے۔ قرضوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے حکومت اپنے شاہانہ اخراجات کم کرے۔ لیڈرز سادگی اپنائیں گے تو عوام بھی ان کی پیروی کریں گے۔

