خالی پیٹ محبت محسوس نہیں ہوتی


بات گو ذرا سی ہے ،بات عمر بھر کی ہے۔بھوک اور انسان کا تعلق سانس اور زندگی کا تعلق ہے۔فضاوں کا حسن ،موسموں کی دلکشی ،فطرت کی مہربانی، ادب کی لطافتیں ،ساز وآواز کے جادو سے محظوظ ہونے کے لیے ذہن و دل کا شاد ہونا ضروری ہے۔ فکر معاش سے بے فکری لازم ہے خالی پیٹ والے کو چاند بھی روٹی نظر آتا ہے، ٹھنڈے پرسکون ماحول میں بیٹھے ہوئے کو قہر برساتا سورج بھی موسم کا حسن لگتا ہے۔ محبت کا جذبہ ہو یا تعلق کو مستقل کرنے کی خواہش تب ہی مستقل اور ثابت قدم رہ پاتی ہے جب دماغ کو اتنی فرصت نصیب ہو کہ وہ زندگی کی حقیقتوں سے ہٹ کے اپنی خیالی دنیا بسا سکے۔جہاں پریشانی، تکلیف اور جد وجہد کا دور دور تک کوئی خواب خیال بھی نہ ہو۔ زمانہ بدلتا ہے کہ تغیر زندگی ہے۔ اقدار رخ بدلتی ہیں سوچ اور فکر نیا رخ اختیار کرتے ہیں، یہی زندگی کا حسن ہے۔ وقت کا تقاضا ہے یا عملی انداز فکرکا اثر کہ محبت کا جذبہ نیا رخ اختیار کر رہا ہے۔ بے لوث محبت کے قصے، پرسکون، چھوٹے سے گھر کی خواہش، ساتھ مل کے زندگی کے راستے کو حسین بنانے کے خواب قصہ پارینہ ہیں۔ ان کی جگہ اب پر تعیش اور پرسکون بنا جد وجہد کی زندگی کے خواب نے لے لی ہے۔ محبت اندھی نہیں رہی ،اس کی آنکھیں ہیں جو اپنی سہولت اور آسائش کو دیکھ سکتی ہیں، جو عقل پر جذبات کو حاوی نہیں ہونے دیتی۔ معاشرے میں ایک نیا رحجان جنم لے رہا ہے۔ جہاں ہیر اور سسی کی جگہ اس لڑکی نے لے لی ہے جو جانتی ہے کہ زندگی ایک محدود عرصہ وقت ہے جسے جھمیلوں میں گزارنے سے بہتر پرسکون انداز میں گزارنا ہے جس کے خوابوں میں حسین، خو برو، نوجوان محبوب کی جگہ ایک پختہ عمر کے اس شخص نے لے لی ہے جو معاشی طور پہ مستحکم ہو اور ساتھ اس آزادی سے انکار نہ کرے جو من مرضی کی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔

مردوں کے معاشرے میں جہاں یہ خیال کیا جاتا ہو کہ مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، فورٹی ناٹی ہے وہاں ڈھلتی عمر میں دوسری شادی کا خیال کچھ عجب نہیں ہے۔ اس دوران مرد یہ سوچنے کی زحمت کم ہی کرتا ہے کہ وہ عورت جس نے اس کے لیے اپنی زندگی کو وقف کر دیا ہے اب اس مقام پہ ہے جہاں اسے سہارے سے زیادہ محبت اور احترم کی ضرورت ہے۔ اسے دوراہے پہ چھوڑنا اور بے وفائی کا دکھ دینا کس قدر تکلیف دہ ہے۔ اس کی نظر میں وہ عورت ڈھلتی عمر کی مکروہ بڑھیا ہو جاتی ہے جو اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتی۔ اس کے لیے بن سنور کے ادائیں نہیں دکھا سکتی۔اس کی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی۔ اسے اس لڑکی میں بلا شبہ کشش محسوس ہوتی ہے جو اس سے کہیں کم عمر، حسین اور زندگی سے بھر پور ہو۔ یہ ایک طرح کا معاہدے کا رشتہ ہے۔ حسن اور جوانی کے بدلے آسائش اور آزادی کا معاہدہ۔ جسے سادہ لفظوں میں منفعت کی شادی کہا جا سکتا ہے جس میں رشتے سے زیادہ مفاد مقدم ہوتا ہے۔لیکن اس طرح کے تعلق کی عمر کتنی ہو سکتی ہے؟ مادی فائدے پہ قائم اس رشتے کا تکلیف اور مشکل میں گھرنا کس قدر آسان ہے جب یہ احساس سر ابھارنے لگتا ہے کہ کہیں غلطی ہوئی ہے اور ایسی غلطی ہوئی ہے جس کی تلافی کے لیے کوئی ساتھ دینے والا بھی نہیں ہے تو معاملات قابل رحم ہو جاتے ہیں جہاں نہ واپسی کا راستہ ہوتا ہے نہ ہی ان حالات کو جھیلنے کا۔اپنی خواہش کے تعاقب میں پہلے سے موجود رشتوں کو عدم اعتماد کا شکار کرنے کے بعد شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اپنا بنا بنایا گھر اور اپنے ساتھی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے بعد دوسرا مسئلہ ان بچوں کا ہے جو اس تناو کے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں اس صورتحال میں وہ عدم اعتماد کا شکار ہوتے ہیں اس کے اثرات تاحیات رہتے ہیں۔ان سے تعمیری سوچ کی توقع کیونکر کی جا سکتی ہے۔ان کی شخصیت میں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

دوسری طرف آنکھوں میں پر تعیش اور آزاد زندگی کا خواب لیے ان دیکھے سفر پہ نکلنے والی لڑکی ہوتی ہے۔ جس کے اس فیصلے کو خاندان آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ وقت کے ساتھ اسے بھی اندازہ ہونے لگتا ہے کہ زندگی محض عیش و عشرت کا نام نہیں ہے۔ اس کی فنٹسی دم توڑنے لگتی ہے اور با رضا کیا گیا سمجھوتہ عذاب لگنے لگتا ہے جس سے نکلنے کا چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ساتھ ہی خود اعتمادی بھی ہوا ہونے لگتی ہے۔ اپنے حوالے سے کیے گئے زندگی کے اہم فیصلے کا اتنا نا پائیدار نکلنا تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ اس سب کے باوجود معاشرے کے بدلتے ہوئے رنگ ڈھنگ میں یہ عمل ماضی کی نسبت کا فی عام ہے اور خاندانی اکائی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک دوست نے بتایا کہ اس کی سابقہ ہم جماعت کے خاوند نے دوسری شادی کی ہے اور وہ شدید زہنی دباو میں ہے،علیحدگی چاہتی ہے لیکن گھر والے ساتھ نہیں دے رہے۔معاشرے کا خوف، لوگ کیا کہیں گے، بیٹی ایک بوجھ جیسے تصورات ایسے خاندانوں کو کوئی ٹھوس قدم اٹھانے سے بازرکھتے ہیں کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ غلطی ان کی بیٹی کی نہیں ہے کوئی ایسا عمل نہیں کرتے کہ جس سے اتنی غیر ذمہ داری سے اہم رشتے کو نقصان پہنچانے والے شخص کو کوئی تکلیف پہنچے۔ وہ لڑکی خود ایم فل میتھے میٹکس ہے لیکن گھریلو زندگی گزار رہی تھی، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی جب خاندان کی سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے اپنی زندگی میں آئے مسئلے سے نہیں نمٹ سکتی تو کم تعلیم یافتہ لڑکی کیا کرے گی۔ دوسری بات یہ کہ اتنی اچھی ڈگری ہونے کے باوجود اپنے ہنر اور اہلیت کو استعمال نہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔ اگر وہ معاشی طور پہ مضبوط ہوتی تو عین ممکن تھا کہ ان حالات میں بغیر سہاروں کی تلاش کے بہتر قدم اٹھا سکتی اور دوسری جانب اس کے خاوند کو یہ فیصلہ لینے سے پہلے سوچنا پڑتا کیونکہ اسے ادراک ہوتا کہ اس کی بیوی بے سہارا نہیں بلکہ زندگی خود جی سکتی ہے۔اس معاشرے میں جو ابھی گھٹن کا شکار ہے جہاں گھریلو عورت کی حیثیت آج بھی پاوں کی جوتی جیسی ہے کہ جب دل چاہے بدل لو میں رشتوں کا لا پرواہی سے بغیر سوچے سمجھے بنانا نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے سے منسلک لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔جو سماج کو ایک ایسے مقام پہ لا رہا ہے جہاں بنیادی سماجی ادارے کی اکائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔تو مالی و جسمانی آسودگی اور آزادی حاصل کرنے کا تصور اپنی جگہ لیکن اس کا حاصل کرنے کا طریقہ مناسب ہونا چاہیے۔ رشتوں کی تجارت اور منفعت پہ مبنی تعلق محض پریشانی اور دکھ کا باعث ہی بنتے ہیں۔

Facebook Comments HS