آبی سفارتکاری اور وولر بیراج


مشترکہ پانی کی تقسیم چاہے کسی چک کے ایک موگہ سے نکلنے والے کھال کی ہو یا دریائے سندھ، گنگا، جمنا، نیل جیسے عظیم دریاؤں کے پانی کی، ایک مستقل تصفیہ طلب مسئلہ رہتا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے کئی علاقائی و عالمی قوانین بھی موجود ہیں تاہم اکثر فریقین کی ہٹ دھرمی، ضد، انا، یا بسا اوقات مجبوریاں، اس مسئلہ کو قانونی بساط سے بہت دور کسی ہمہ جہت مذاکراتی میز پر لے جاتی ہیں۔

جس طرح ہمارے نہری دیہات میں کھال نکے کی مسماری کے نتیجہ میں بات قطع تعلقی، طلاق اور قتل و غارت تک جا پہنچتی ہے، اسی طرح قومی و بین الاقوامی مشترکہ پانیوں کے حقوق کی پامالیاں علاقائی و عالمی بحرانوں اور بسا اوقات جنگوں کا باعث بن جاتی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اسے آبی سفارتکاری یا واٹر ڈپلومیسی کہتے ہیں۔

موجودہ ملکی ہیجان کے پس منظر میں تاریخ کی ایک طویل لیکن پرمغز آبی سفارتکاری کا احوال ملاحظہ کریں اور اپنا محاسبہ کرنے کی کوشش کریں۔

1900 کے آس پاس جب پنجاب سرکار، اپر اور لوئر جہلم کینال کی منصوبہ بندی کر رہی تھی تو یہ خدشات پیدا ہوئے کہ موسم سرما اور قحط سالی کی صورت میں دریائے جہلم کا پانی دونوں نہروں کی مجموعی ضرورت پورا کرنے سے قاصر ہو گا۔ اس خدشہ کے پیش نظر منگلا سے اوپر ریاست کشمیر کے مختلف مقامات پر دریائے جہلم کا جائزہ لے کر مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی۔

اس پس منظر میں 1902 میں پنجاب سرکار کے کشمیر دربار میں سفیر سر لوئی ولیم ڈین نے تجویز پیش کی کہ ریاست جموں کشمیر کے علاقہ بانڈی پورہ میں سوپور سے ذرا اوپر دریا ایک بہت بڑے دلدلی علاقہ میں جھیل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اگر جھیل کے دھانے پر دریا کی کھدائی کر کہ دلدلی پانی کی نکاسی کو موثر بنا کر ایک بیراج تعمیر کر دیا جائے تو اس میں پانی ذخیرہ کر کہ دریائے جہلم کی سرمائی ضروریات پورا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

1903 کو پنجاب سرکار کے انجینئرز نے چیف انجنیئر سر جان بینٹن کی نگرانی میں جھیل کا سروے کیا اور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے 50 لاکھ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا جس میں منافع کی شرح 5.1 فیصد رکھی گئی۔ اس سے پنجاب سرکار کو 7 / 5 سال پانی کی یقینی فراہمی جبکہ ریاست کشمیر کو محض کشتی رانی کی سہولت اور دلدلی زمین سے نجات کے سبز باغ دکھلائے گئے۔ تاہم کشمیر دربار نے پنجاب سرکار کی نیت کو بھانپتے ہوئے نہ صرف منصوبہ میں اپنا حصہ ڈالنے سے انکار کر دیا بلکہ ذخیرہ شدہ پانی کا خالص منافع اور زیر آب آنے والی زمین کے معاوضہ کا مطالبہ بھی کر دیا۔

1904 میں میجرلوبنیئر، ایک کینیڈین نژاد برطانوی انجینئر جو کہ مہاراجہ کشمیر کہ مشیر تھے، نے دربار کو باور کرایا کہ دریا کی کھدائی اور مجوزہ بیراج کی تعمیر سے پن بجلی بنائی جا سکتی ہے۔ جس پر کشمیر دربار نے نومبر 1904 میں 4 فیصد خالص منافع کے ساتھ 1 لاکھ 96 ہزار روپے سالانہ کے عوض بیراج اور آبی ذخیرہ کی ازخود تعمیر کرنے کی پنجاب سرکار کو پیشکش کر دی۔

ادھر سر جان بینٹن جو کہ ٹرپل کینال پروجیکٹ پر مصروف عمل تھے، نے سفارتی پینترا بدل کر لوئر جہلم کینال کا رقبہ 4 لاکھ 10 ہزار ایکڑ سے کم کر کے 3 لاکھ 30 ہزار ایکڑ تک محدود کر کہ نہر کا سرمائی بہاؤ 38 سو سے 28 سو کیوسک پر لانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی جس سے وولر بیراج کی افادیت محدود ہو کر 1 / 14 سال رہ گئی وہ بھی صرف 30 ہزار سے لے کر 55 ہزار کی مالیت کے ساتھ۔ اس محدود افادیت کے باعث پنجاب سرکار نے وولر بیراج کا منصوبہ ترک کر دیا۔ ادھرکشمیر دربار نے میجر لوبنیئر کی سربراہی میں دریا کی کھدائی کر کہ پن بجلی کا منصوبہ لگانا شروع کر دیا۔

اپریل 1912 میں بنگال روانگی سے قبل مشیر باتدبیر نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی کہ دریا کی کھدائی سے جھیل سے پانی کے اخراج کی شرح بڑھ گئی ہے جو کہ موسم سرما میں دریا میں پانی کے بہاؤ کی کمی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس پر پنجاب سرکار سر پکڑ کر بیٹھ گئی لہذا 1913 میں انسپیکٹر جنرل اریگیشن ورکس مسٹر مائیکل نیدرسول اور مسٹر سکریچلے کو صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کشمیر روانہ کیا، جنہوں نے 1 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کے زیاں کا مراسلہ جاری کر کہ اس امر کی تصدیق کر دی۔

1915 میں پنجاب سرکار نے اس مسئلہ کے حل کے لیے سبکدوش ہونے والے چیف انجینئر آر ای پرویس کی خصوصی طور خدمات حاصل کیں۔ اس کی رپورٹ کے مطابق 1 لاکھ ایکڑ فٹ پانی کے زیاں کو روکنے کے لیے 13 لاکھ روپے کی لاگت سے بیراج بنایا جا سکتا ہے اور اگر 3 لاکھ 34 ہزار ایکڑ فٹ ذخیرہ کا بیراج بنانا ہے تو 14 لاکھ روہے لاگت آئے گی۔ 1916 میں حکومت ہند نے پنجاب سرکار کو کشمیر دربار کے ساتھ 4 لاکھ 45 ہزار ایکڑ ذخیرہ کا بیراج تعمیر کرنے کے لیے مذاکرات کی اجازت دے دی جس میں درج ذیل پیشکش کی گئی۔

سب سے پہلے پنجاب سرکار بیراج کی مجموعی لاگت جس کا تخمینہ 15 لاکھ روپے ہے ادا کرے گی۔
اس کے ساتھ پنجاب سرکار نقل مکانی، زیر آب آنے والی زمین کی مالیت اور پہلے سے ہونے والی دریا کی کھدائی کے اضافی 1 لاکھ روپے سالانہ ادا کرے گی۔
مکمل پانی ذخیرہ کرنے کی ناکامی کی صورت میں ادائیگی کی رقم کم کر دی جائے گی۔
مرمتی کام کے اخراجات سرکار اور دربار مشترکہ طور پر ادا کریں گے۔

کشمیر دربار نے اس کے بدلے ایک نئی پیشکش کی کہ وہ اپنے طور پر 4 لاکھ 45 ایکڑ فٹ ذخیرہ کا بیراج بنائیں اور چلائیں گے بدلہ میں پنجاب سرکار ساڑھے 9 روپے فی ایکڑ فٹ پانی کے حساب سے آبیانہ ادا کرے گی۔ اس کے بعد طویل مذاکرات کے نتیجہ میں دونوں ریاستوں کے چیف انجینئرز نے اپنی اپنی سرکار کو یہ حتمی شرائط پیش کیں۔

دربار اپنے خرچے پر 4 لاکھ 40 ہزار ایکڑ فٹ کا بیراج بنائے گا۔
ہر سال یکم اگست سے 15 ستمبر تک پانی کو روک کر ذخیرہ نہیں کیا جائے گا۔
دربار دریا کی کھدائی سے اس امر کو یقینی بنائے گا کہ پانی کا بہاؤ 25 سو کیوسک تک جاری رہے۔
بیراج کی تعمیر اور پانی ذخیرہ کرنے کی مد میں سرکار دربار کو 1 لاکھ 80 ہزار روپے سالانہ ادا کرے گی۔

مندرجہ بالا احوال لوئر جہلم کینال کی 1919 میں چھپنے والی تکمیلی رپورٹ جو کہ رسول بیراج کی لائبریری میں محفوظ ہے، سے نقل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مصنف کے مطابق تا دم تحریر دونوں ریاستیں کسی معاہدہ پر نہیں پہنچی تھیں۔

اس تمام عمل سے ثابت ہوا کہ پیچیدہ سے پیچیدہ معاملات کو بھی مل بیٹھ کر دیکھا پرکھا اور حل کیا جا سکتا، محض الزام تراشی سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اسی طرح مذاکرات بامقصد اور نتیجہ خیر ہونے چاہئیں تاکہ مسائل کا حتمی حل نکالا جا سکے۔

آئیے آبی سفارتکاری کو ایک موقع دیں۔

Facebook Comments HS