قائد اعظم کی ازدواجی زندگی
قائد اعظم محمد علی جناح کی ازدواجی زندگی صرف گیارہ بارہ برسوں پر محیط تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں، ایک پندرہ سولہ برس کی عمر میں خاندان کی مرضی سے اور دوسری محبت کی شادی 42 برس کی عمر میں کی۔
محمد علی جناح کی پہلی شادی صرف پندرہ، سولہ برس کی عمر میں ہوئی۔ وہ سندھ مدرسہ الاسلام میں پانچویں جماعت کے طالب علم تھے۔ جب ان کے والد پونجا جناح بھائی نے انہیں لندن کی ایک فرم گراہم شپنگ کمپنی میں تربیتی شاگردی کے لیے انگلستان بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ایک خطیر پیشگی رقم بھی وہاں جمع کروا دی۔ محمد علی کی والدہ مٹھی بائی کو تمام ماؤں کی طرح ان سے بہت محبت تھی۔ انہیں اپنے بیٹے کی جدائی کسی صورت میں بھی گوارا نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کے روشن مستقبل کے لیے ان کی جدائی کا دکھ صرف اس صورت میں برداشت کرنے کی حامی بھری کہ خوبرو نوجوان محمد علی انگلستان جانے سے قبل یہاں شادی کریں گے تاکہ دیار غیر میں ان پر کوئی لڑکی فریفتہ نہ ہو جائے۔
قائد اعظم کی پہلی شادی 1892 میں ان کی چچا زاد بہن ایمی بائی سے ہوئی جو اس وقت 14 برس کی تھیں۔ ان کے والد کا نام سرکھیم جی تھا۔ محمد علی جناح اس وقت 16 برس کے تھے۔ محمد علی نے سندھ مدرسہ الاسلام سے اپنی تعلیم ختم کی اور شادی کے لیے کاٹھیاواڑ کے گاؤں پانیلی چلے گئے۔ وہاں بہت سادہ طریقے سے شادی اور رخصتی کی رسومات ادا کی گئیں۔ شادی کے بعد قائد اپنے اہل خانہ کے ساتھ کراچی آ گئے اور وہاں سے وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے انگلینڈ روانہ ہو گئے۔ 1893 میں کراچی میں ایک وبائی مرض میں ایمی بائی جناح اور والدہ قائد اعظم شیریں عرف مٹھی بائی انتقال کر گئیں۔ جب قائد وکالت کی تعلیم حاصل کر کے کراچی واپس آئے تو اپنی اہلیہ اور والدہ کے سانحات وفات کی خبر سن کر بہت دنوں تک آزردہ رہے۔
محمد علی جناح کی دوسری شادی سر ڈنشا پٹیٹ کی بیٹی رتن بائی عرف رتی سے ہوئی۔ رتی کے دادا نے برصغیر میں پہلی کاٹن مل لگائی تھی اور پٹیٹ خاندان کا شمار بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں ہوتا ہے۔ سر ڈنشا پٹیٹ ایک ممتاز بنک کار تھے۔ مالا بار ہلز بمبئی میں پٹیٹ ہال بمبئی کی اشرافیہ کی باہمی ملاقاتوں کے لیے مشہور تھا۔ محمد علی جناح سر ڈنشا کے دوست تھے اور ان سے عمر میں صرف تین برس چھوٹے تھے۔ محمد علی اکثر ڈنشا کے گھر جاتے رہتے تھے۔
رتن بائی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی 20 فروری 1900 کو پیدا ہوئیں اور ان کی پرورش بڑے ناز و نعم میں ہوئی۔ ان کے ملبوسات اور زیورات بہت ہی اعلیٰ، نفیس اور قیمتی ہوتے تھے جن سے بمبئی کے امراء اور رؤسا کی بیگمات بہت متاثر تھیں۔ رتن بائی کو ان کے اعلیٰ ذوق کے باعث بلبل بمبئی بھی کہا جاتا تھا۔ سر ڈنشا اور ان کی بیٹی رتن بائی پارسی مذہب کے پیروکار تھے۔ رتن بائی کے شوق اور مشاغل بہت اعلیٰ تھے۔ وہ سولہ برس کی عمر میں ممتاز انگریزی شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں، سیاست اور گھڑ سواری بھی ان کے پسندیدہ مشاغل تھے۔
ایک دفعہ جناح اور رتن بائی اپنے خاندان کے ساتھ چھٹیاں گزارنے تفریحی مقام دارجلنگ گئے۔ وہاں دونوں کی چاہت کا آغاز ہوا۔ جناح نے اپنے دوست ڈنشا سے بین المذاہب شادیوں کے متعلق پوچھا اور ان سے ان کی بیٹی کا رشتہ مانگا۔ جناح کے اس اظہار سے وہ ایک دم سکتے میں آ گئے اور انہوں نے اس رشتے سے یکسر انکار کر دیا، جناح نے رتی کے ساتھ شادی کے لیے بہت سے دلائل دیے لیکن ڈنشا اس رشتے کے لیے کسی صورت رضامند نہ ہوئے۔ رتی بھی جناح کی چاہت میں گرفتار ہو چکی تھیں۔ جناح نے رتی سے کہا جب تک وہ اٹھارہ برس کی نہیں ہو جاتی وہ اپنی مرضی سے نکاح نہیں کر سکتی ہیں۔
اسی دوران 1917 میں رتی کے والد ڈنشا نے عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ جناح ان بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے فریقین کی رضامندی دیکھ کر رتی کو 18 برس کی عمر ہونے کے بعد جناح سے شادی کی اجازت دے دی۔
سر ڈنشا کا خیال تھا کہ اس وقفہ کے دوران رتی، جناح سے شادی کو بھول جائے گی، لیکن رتی کی جناح سے محبت بڑھتی گئی اور انہوں نے اسلام کا بھی کافی مطالعہ کر لیا تھا۔ جناح کے کہنے پر رتی نے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا اور انہوں نے 18 اپریل 1918 کو مولانا نذیر احمد خجندی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ رتی کا نیا نام مریم جناح رکھا گیا۔
19 اپریل 1918 بمطابق 7 رجب 1339 ہجری کو جمعہ کے دن جناح کی رہائش گاہ پر مولانا حسن نجفی نے اثنائے عشری مسلک کے مطابق ان دونوں کا نکاح پڑھایا اور یوں مریم اور جناح رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ جناح نے اپنی اہلیہ کو 125000 روپے اور ایک ہیرے کی انگوٹھی بطور تحفہ دی۔ مریم جناح کا حق مہر 1000 روپے باندھا گیا تھا۔ مریم اور جناح کا نکاح باقاعدہ لکھا گیا اور رجسٹر کرایا گیا تھا۔ جب اخبارات کے ذریعے سر ڈنشا پٹیٹ کو رتی اور جناح کی شادی کا علم ہوا تو انہوں نے ایک دفعہ پھر جناح کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا کہ جناح نے ان کی بیٹی کو اغواء کر کے اس سے شادی رچا لی ہے۔ عدالت نے جب رتی سے پوچھا کہ کیا جناح نے آپ کو اغواء کیا ہے تو رتی نے نہایت بہادری سے جواب دیا کہ نہیں، میں نے جناح کو اغواء کیا ہے۔ جناح اور ڈنشا رتی کی یہ بہادری دیکھ کر ششدر رہ گئے۔
شادی کے دوسرے روز ہی نو بیاہتا جوڑا ہنی مون کے لیے لکھنؤ چلا گیا جہاں انہوں نے راجہ صاحب محمود آباد کے محل نما مکان میں قیام کیا۔ 14 اگست 1919 کو ان دونوں کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس کا نام دینا جناح رکھا گیا۔ مریم جناح، اپنے شوہر جناح کی سیاسی مصروفیات کے باعث ذہنی بیمار اور چڑچڑاہٹ کا شکار ہو گئیں۔ وہ اپنے گھر سے ایک ہوٹل میں منتقل ہو گئیں اور اپنی بیٹی کی پرورش سے لاتعلقی اختیار کرلی۔ 1928 میں وہ آنتوں کی سوزش اور تپدق میں مبتلا ہو گئیں۔ مریم جناح کی والدہ علاج کے لیے انہیں فرانس لے گئیں۔ جناح اپنے سیاسی معاملات میں مصروف ہو گئے۔ مریم جناح نے اپنی بیماری کی حالت میں فرانس سے ایک محبت بھرا خط جناح کو لکھا جس میں انہوں نے جناح کی محبت کو سراہا اور اپنی زندگی سے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
جناح کو جب اہلیہ کی بیماری کی خبر ملی تو وہ فوراً فرانس پہنچے اور کافی دنوں تک اپنی اہلیہ کی تیمارداری کرتے رہے ان کے ساتھ ہی ہسپتال میں رہے۔ اپنی اسی بیماری میں مریم جناح واپس بمبئی آ گئیں۔ جہاں 20 فروری 1929 کو صرف 29 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہو گیا اور انہیں آرام باغ قبرستان بمبئی میں دفن کیا گیا۔ جناح ان کی آخری رسومات میں شامل تھے اور اپنی اہلیہ کی محبت میں پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔ وہ جب تک بمبئی میں رہے اکثر آرام باغ قبرستان میں اپنی اہلیہ کی قبر پر جاتے رہتے تھے۔ آخری بار پاکستان روانہ ہونے سے قبل وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے۔ مریم سے جناح کی شادی صرف 11 برس پر محیط تھی۔
جناح اور مریم کی شادی سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بڑے بڑے مضبوط اعصاب والے رہنماؤں کے سینے میں بھی عام انسانوں کی طرح دل ہوتا ہے جس میں محبت کے جذبات پائے جاتے ہیں، وہ ان کا اظہار بھی کرتے ہیں اور ان پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔ تاہم ان کی ملی اور قومی ذمہ داریوں اور مصروفیات کی بنا پر ان کی ازدواجی زندگی اور تعلقات میں کچھ اتار چڑھاؤ بھی آ جاتے ہیں۔

