آبی سفارتکاری اور وولر بیراج

مشترکہ پانی کی تقسیم چاہے کسی چک کے ایک موگہ سے نکلنے والے کھال کی ہو یا دریائے سندھ، گنگا، جمنا، نیل جیسے عظیم دریاؤں کے پانی کی، ایک مستقل تصفیہ طلب مسئلہ رہتا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے کئی علاقائی و عالمی قوانین بھی موجود ہیں تاہم اکثر فریقین کی ہٹ دھرمی، ضد، انا، یا بسا اوقات مجبوریاں، اس مسئلہ کو قانونی بساط سے بہت دور کسی ہمہ جہت مذاکراتی میز پر لے جاتی ہیں۔ جس طرح

Read more

آب بیتی – انگریز راج کے بعض منصوبے اور تنازعات

وطن عزیز میں آج کل نئی نہروں کے حوالہ سے بہت زیادہ بحث و تکرار جاری ہے جو کہ صوبائی عصبیت، انتظامی مصلحت اور عوامی ناعاقبت اندیشی کا شکار ہوتی جا رہی جس کے اثرات دیر پا ہوں گے۔ آج کی آب بیتی میں درپیش صورتحال کو تاریخ کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جہلم کینال (بعد ازاں ؛لوئر جہلم کینال ) کی منصوبہ بندی 1888 سے 1898 تک کی گئی اور عملی طور پر 1904 میں نہر

Read more