جمہور، جمہوریت اور جمہوری رویے
جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے
علامہ اقبال نے تو جمہوریت کا بڑا سیدھا اور سادہ سا جواب دیا ہے کہ یہ ہے کیا۔ اس کے باوجود آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جمہوریت ہے کیا؟ حالانکہ اسے پڑھتے پڑھاتے، سمجھتے سمجھاتے ایک عرصہ گزر چکا ہے۔ پھر یہ جمہوریت نامی جو بلا ہے، آفت ہے، کوئی چیز ہے جو بھی ہے رب جانے کیا ہے؟ علامہ کے مطابق کہ یہ طریقہ حکومت ہے۔ ہوتا ہو گا کہیں مگر سمجھ نہیں آئی البتہ سنا بہت ہے۔ سننے سے یاد آیا کہ ”جمہور نی آواز“ جس میں چاچا دوسہ باتیں کیا کرتا تھا۔ ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے یہ پروگرام نشر ہوتا تھا۔ شاید یہ پروگرام ہی جمہوریت ہو گا۔ چونکہ اس کا نام بھی جمہور نی آواز تھا۔ آج کل کا پتہ نہیں کہ نشر ہوتا ہے کہ نہیں چونکہ ریڈیو پاکستان کا بھی وہی حال ہے جو ہمارے یہاں جمہور اور جمہوریت کا حال ہے۔ اب یہ بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ چاچے دوسے کا نام جمہور ہے یا پھر ان لوگوں کو وہ جمہور کہتا ہے جن کی باتیں کرتا تھا مطلب ہم اور آپ یعنی ہم لوگ جیسے بھائی لوگ ہوتا ہے۔ ویسے یہ دو طرح کے لوگ ہیں ہم لوگ اور بھائی لوگ، بھائی لوگ جو ہوتے ہیں وہ ہم لوگ کو اپنی مرضی سے ہماری خواہش سے ہماری تمنا سے جینے نہیں دیتے، چلنے نہیں دیتے، اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے نہیں دیتے اور ہماری ایک بھی نہیں چلنے دیتے۔ اور یہ بات بڑی عجیب بات ہے اور انتہائی بے ہودہ طور پر عجیب بات کہ بھائی لوگ ہم لوگ کا نام لے کر کہ ہم لوگ نے ہم لوگ کو کہا ہے ہم لوگ کا بات کرو گویا ہم لوگ ہم لوگ کا نمائندہ ہے۔ حالانکہ ہم لوگ نے کبھی بھی بھائی لوگ کو نہیں کہا ہوتا کہ وہ ہمارا نمائندہ ہے اگر ہے تو پھر ہم لوگ کا زندگی کیوں اجیرن ہے؟ بس کچھ یونہی جمہوریت کا طرز ہے جو شدید بے طرز ہے۔ ہاں چونکہ چاچے دوسے کا نام تو چاچا دوسہ ہے پھر وہ ہمیں ہی جمہور کہتا ہو گا مطلب ہماری آواز کا نمائندہ حالانکہ بھائی لوگ کی طرح آواز بھی دوسے کی اپنی ہی ہوتی تھی۔ البتہ چاچے دوسے کی باتیں بڑی مزے کی ہوتی تھیں، پوٹھوہاری زبان کا بھی اپنا ہی مزے دار سواد ہے۔
ہاں وہ سچ میں تو علامہ قبلہ کے حوالے سے کچھ کہنے، لکھنے جا رہا تھا کہ انہوں نے یہ بتایا کہ جمہوریت کوئی طریقہ ہے جس سے حکومت قائم کی جاتی ہے بنائی جاتی ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ بندوں کو اس میں گنتے ہیں اور تولتے نہیں ہیں۔ مطلب لوگوں کا اس طریق میں وزن نہیں کیا جاتا ہے۔ یعنی کوئی ایسا بھی طریقہ ہو گا جس میں بندوں کا وزن کر کے حکومت بنائی جاتی ہوگی۔ میرے خیال میں تو ہمارے یہاں وزن کے مطابق ہی حکومت قائم ہوتی ہے۔ بارہا دفعہ دیکھا کہ جس طرف لوگوں کی قلیل تعداد تھی انہوں نے حکومت بنا لی بلکہ ہمارے یہاں تو عمومی طور پر قلیل تعداد والے ہی حکومت بناتے اور بگاڑتے ہیں۔ جنہیں ہم عرف عام میں تانگہ پارٹی کہتے ہیں یہ ہی حکومت بنانے اور بگاڑنے والے ہوتے ہیں۔ کبھی اچھل کے اس پلڑے کبھی اچھل کے اُس پلڑے۔ ایک اکیلا بندہ بھی حکومت بنا اور بگاڑ سکتا ہے اسے کہتے ہیں ’ون مین یونین‘ ۔ ایک بندہ پارٹی وہ ایک بندہ حکومت بنا سکتا ہے جیسے ”سالا ایک مچھر ہیجڑا بنا دیتا ہے“ ۔ بس یہی طرز حکومت ہے پتہ نہیں اسے کیا کہتے ہیں؟ اس طرزِ حکومت کا نام ابھی رکھا نہیں گیا، ہوتا تو یقیناً اس کے بارے میں دانشور بلکہ سیاسی دانشورگرد ضرور کچھ بتاتے کچھ اشارے کرتے جس سے ہمیں کچھ اندازہ ہو جاتا کہ اچھا یہ ہے اس کا نام، جو کہ نہیں معلوم۔
کس نام سے پکاروں کیا نام ہے تمہارا
کیوں تجھ کو دیکھتے ہی دل کھو گیا ہمارا
یقیناً یہ قلیل لوگ یہ ایک بندہ اپنے وزن کے بل بوتے پر ہی یہ سب کچھ کر سکتا ہے یقیناً یہ بھاری آدمی ہے اس کے بھار کی وجہ سے حکومت قائم ہوئی یا پھر بگڑی۔ خیر چھوڑیئے جس کا نام ہی معلوم نہیں جس کی سمجھ ہی نہیں آئی اس کا ذکر ہی کیا۔ جمہوریت بہر طور کچھ نا کچھ سمجھ آتی ہے جیسا کہ اس میں بندوں کو گنا جاتا ہے اور گنے جانے تک ہی بات قبلہ محترم نے کی ہے۔ تعداد کے کم یا زیادہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ جمہوریت میں لوگ گنے جاتے ہیں کون لوگ؟ بھائی لوگ یا پھر ہم لوگ؟ چلیں یہی مان لیتے ہیں سب لوگ۔ سب لوگ گنے جاتے ہیں۔ سب لوگوں کی پرچیوں کو گنا جاتا ہے کس کی پرچی کس طرف؟ ”بے شک پرچی ولا جیت جاتا ہے“ ۔ اور کہتے ہیں کہ جس کی پرچیاں کثیر تعداد میں ڈبے میں سے برآمد ہوں تو وہ امیدوار جیت کا مستحق ہوتا ہے اسے حکومت کرنے کا اختیار ہو جاتا ہے۔ یہ بات کچھ یوں سمجھ میں آئی کہ جمہور ہم کو یعنی ہمیں کہتے ہیں مطلب عوام کو کہتے ہیں جمہوریت طریقہ کار جس کی بدولت اپنے نمائندے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے اور مزے کی بات یہ کہ اس میں عوام کے سامنے عوام کی مرضی کے بغیر نمائندے آ جاتے ہیں کہ ہم آپ کی نمائندگی کریں گے۔ یعنی کہ ہم لوگوں نے اپنے میں سے کوئی بندہ منتخب کر کے پیش نہیں کیا کہ یہ بندہ نمائندہ ہے ہمارا۔ بلکہ کچھ لوگ خود بخود سامنے آ جاتے ہیں کہ ہمیں منتخب کریں ہم آپ کے لیے وہ سب کچھ کریں گے جو آپ چاہتے ہیں۔ جب وہ لوگ مطلب نمائندے عوامی محدود چوائس اور مرضی کے ساتھ جمہوری طریقہ سے منتخب ہو جاتے ہیں۔ تو پھر وہ اپنی تمام خواہشیں اور تمنائیں پوری کرتے ہیں جو کہ ہمیشہ ناتمام نامکمل رہتی ہیں۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ اپنی ادھوری خواہشات کی تکمیل کے لیے ہمارے نمائندہ کے طور پر سامنے آ جاتے ہیں۔ اور پھر پرچی والے جیت جاتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ گزشتہ ستر سالوں سے ہمارے یہاں جاری و ساری ہے۔
حالانکہ بے چاری جمہوریت، طرز جمہوریت قبل ازمسیح بڑھیا ہے۔ مگر آج بھی یہ خوف ناک بڑھیا اپنی جادوئی چرب زبانی کے باعث اپنے آپ کو حسین و جمیل دوشیزہ کے طور پر پیش کرتی ہے اور ہم لوگ سادہ لوگ اس نائکہ کی باتوں میں آ جاتے ہیں سرمایہ دار اور سرمایہ کار کے ہاتھوں استحصال کا شکار بنتے رہتے ہیں۔ اس بیسوا نے کبھی بھی عوامی خواہش عوامی امنگ عوامی تمناؤں عوامی آرزوؤں کا احترام نہیں کیا۔ میرے ہم وطنوں نے عراق کی بربادی کے خلاف جلسے جلوس کیے۔ میرے ہم وطن اپنے دکھ اپنی تکلیفیں بھول کے افغانوں سے محبت کی ان کا ساتھ دیا۔ میرے یارانِ وطن کشمیر کے بغیر تڑپتے نظر آتے ہیں۔ میرے بھائی بند فلسطین کے درد میں بے چین ہیں مگر کوئی درماں نہیں وہ جمہوری نمائندے پھر کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ یہ جمہوریت پھر کیا ہے؟ مجھے تو فراڈ دھوکہ اور سرمایہ دار کی لونڈیا کے طور پر نظر آتی ہے۔ انیس بیس کے فرق کے ساتھ پوری دنیا میں یہ طرز حکومت، یہ تماشا ایسے ہی دکھائی دیتا ہے۔ عام بندے کے ساتھ اس کا دور پار سے بھی کوئی تعلق نہیں بس یہ عام بندے کے جذبات کا خون کرتی ہے لہو پیتی ہے۔ سوٹی والے، پیسے والے کے آگے پیچھے، دائیں بائیں رقصاں رہتی ہے۔ اچھا سو باتوں کی ایک بات وہ یہ کے ہم بھی اسے دیکھ کر راضی ہیں آنکھیں ٹھنڈی کرتے رہتے ہیں جیسے ماڑا آدمی میلہ بیساکھی میں، جس میں کوئی شو دیکھنے کی بھی سکت نہیں ہوتی وہ ہماتڑ کھسروں کے سرخی پوڈر اور قلیل ٹھمکوں سے خوش ہو جاتا ہے، بس ہم سرخی پوڈر اور چند ٹھمکوں پر راضی بالرضا ہیں۔ ورنہ یہ نام نہاد جمہور پرست نمائندوں کی کیا مجال کہ چوں چرا کر جائیں۔ جمہور جب طاقت کا سرچشمہ بن جائیں گے تو جمہوریت پھر ان کی خادمہ بن جائے گی۔


