میری زندگی کا مقصد کیا تھا؟


کتنی عجیب بات ہے کہ ایک طویل زندگی گزارنے کے بعد میں کچھ عرصے میں اس دنیا سے کوچ کر جاؤں گا اور موت سے ہمکنار ہوں گا، لیکن مجھے اس زندگی میں اس سوال کا جواب نہ مل سکا کہ میں یہاں کیوں تھا اور میری زندگی کا کیا مقصد تھا؟

زندگی کے مقصد کا تعین کرنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ زندگی کی نوعیت کو سمجھا جائے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زندگی مادی اشیا سے کس طور مختلف ہے؟

لیکن یہ مشکل سوالات ہیں۔ سائنس اس وقت اس اہم سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ کیا زندگی محض ایٹموں اور مالیکیولز کی ایک مخصوص ترتیب کا نام ہے یا ان سے ماورا کوئی اور چیز ہے۔

اس دنیا میں موجود بیشتر افراد کے لیے مقصدیت کا سوال اہم نہیں کیونکہ انہوں نے زندگی کو مقصدیت دینے کے لیے بہت سے بت تراشے ہیں جن میں سب سے بڑا خدا ہے۔ بیشتر انسانوں کے نزدیک زندگی کا مقصد مذاہب کی تعلیمات میں پوشیدہ ہے۔ مذاہب انسانی معاشرے اور افراد کے مابین تعلقات کی نوعیت کا تعین کرتے ہیں۔ خدائی احکامات کی پابندی مقصدیت فراہم کرتی ہے۔

لیکن اگر انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ صورت حال تو اس کے برعکس ہے۔ خدا نے انسان کی زندگی میں مقصدیت پیدا نہیں کی بلکہ انسان نے اپنی زندگی کو مقصدیت دینے کے لیے خدا کا تصور ایجاد کیا۔ کسی مقصد کے بغیر زندگی انسان کو بے معنی لگتی ہے۔ ایک با مقصد زندگی ایک عظیم طاقت یعنی خدا کی دین ہونی چاہیے اور جس کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کی جانی چاہیے۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ایسا خدا تخلیق کیا جائے جو ہر قسم کی زندگی کا خالق، ہر جگہ موجود اور قادرِ مطلق ہو، جو نہ صرف اپنے ساتھ بلکہ دیگر مخلوق بالخصوص انسانوں کے ساتھ ہمارا رشتہ و پیوند طے کرے۔ پھر ہماری زندگی کا مقصد اس خدا کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق زندگی بسر کرنا ہو جاتا ہے۔

اس با مقصد زندگی کے لیے صرف خدا کا تصور ہی کافی نہیں۔ اس دنیا میں ایسی با مقصد زندگی گزارنے کا صلہ بھی ملنا چاہیے۔ صلہ کے تصور کے بغیر تو بات نامکمل رہتی ہے۔ کچھ مذاہب میں ہمیں موت کے بعد کی زندگی میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ اسی سے وابستہ ایک ابدی زندگی کا تصور ہے۔ موت کے ساتھ انسانی زندگی کا خاتمہ ایک با مقصد زندگی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اسی نے اس تصور کو جنم دیا کہ موت تو محض جسمانی ہوتی ہے۔ جسم مر سکتا ہے مگر روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

لیکن سائنسی ریسرچ تو آج تک روح کی موجودگی نہیں ثابت کر سکی۔

اس طور یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر زندگی کا کوئی مقصد ہے تو خدا جیسی عظیم ہستی کا تصور لازمی ہے اور انسانی زندگی کو کسی نہ کسی طرح جزا اور سزا کے تصورات کے ساتھ ابدی ہونا چاہیے۔ لیکن موت کی موجودگی میں ابدیت تب ہی ممکن ہے جب روح کا تصور اپنایا جائے جو مادے سے ماورا کچھ ہے۔

اس صورت حال میں ایک اور مشکل پوشیدہ ہے۔ اگر ہر جاندار چیز کے ساتھ ایک ابدی روح اس طرح وابستہ ہے کہ یہ موت کے بعد بھی زندہ رہتی ہے تو اسے ہماری پیدائش سے پہلے بھی موجود ہونا چاہیے۔ یہ بات منطقی طور پر ناقابل فہم لگتی ہے کہ روح کا سفر انسانی پیدائش سے شروع ہوتا ہے اور پھر ابد تک جاری رہتا ہے۔

لیکن آج تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ہماری روح پیدائش سے پہلے موجود تھی اور کس صورت میں موجود تھی۔

سائنس بہت ترقی کے باوجود انسانی مقصدیت کے بارے میں خدا سے وابستہ بہت سے سوالات کے جواب دینے سے قاصر ہے۔

خدا کس شکل میں موجود ہے؟ ہر فرد کا اپنا تصور ہے۔
کسی کے نزدیک وہ آسمانوں سے بالا تر عرش پر مکین ہے تو کسی کے نزدیک وہ رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔ کسی کے نزدیک وہ انسانی معاملات میں دخل نہیں دیتا تو کسی کے نزدیک ایک پتہ بھی اس کی براہ راست مداخلت کے بغیر نہیں ہل سکتا۔

آسمانوں کا تصور انسانی اختراع لگتا ہے۔
کائنات کو خوب ٹٹولنے کے باوجود جنت اور دوزخ کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

موت کے بعد کیا ہوتا ہے، اس کے بارے میں بھی موجودہ سائنس مکمل طور پر خاموش ہے اس امر کے باوجود کہ اربوں انسان اور کھربوں دوسرے جاندار موت سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔

ان سوالات کی موجودگی یہ احساس دلاتی ہے کہ سائنس، فلسفہ اور مذہبی عقائد خدا کی موجودگی سے وابستہ بنیادی سوالوں کا جواب فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔

ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب میں خدا کا تصور بہت مختلف ہے لیکن کسی کے پاس اپنی سچائی کا کوئی معروضی پیمانہ نہیں۔ مذاہب کی نوعیت علاقائی ہے، آفاقی نہیں۔ کسی مذہب کی سچائی کی بنیادیں محض وہ روایات ہیں جن پر وہ مذہب قائم ہے۔ اس طور صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں سینکڑوں مذاہب ہیں، ہر مذہب میں خدا کا تصور دوسروں سے مختلف ہے، ہر مذہب کے پیروکار محض اپنے مذہب کو سچا سمجھتے ہیں اور دوسرے مذاہب کو گمراہی کا راستہ، لیکن ان سب کے پاس اپنی سچائی کا ثبوت محض وہ روایات ہیں جن پر وہ مذہب قائم ہے۔

صورت حال کچھ اس طرح ہے کہ میں ایک کتاب لکھوں جس میں اپنے آپ کو آئن سٹائن سے بڑا سائنسدان قرار دوں اور اگر کوئی مجھ سے میری عظمت کا ثبوت مانگے تو ثبوت میں وہی کتاب پیش کر دوں۔

اس طور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ خدا کا تصور ایک با مقصد زندگی کا جواز فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ میرے نزدیک جو لوگ اپنی زندگی میں مقصدیت خدا اور مذہب میں تلاش کرتے ہیں وہ ایسے راستے پر ہیں جس کی کوئی منزل نہیں۔ حالانکہ یہ ضرور ہے کہ دنیا کی ایک بہت بڑی اکثریت نے ان ہی تصورات میں اپنی زندگی کا جواز تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اکثر اوقات خدا کا مذہبی تصور انسانوں کے لیے کافی ہوتا ہے اور انسانی زندگی میں مقصدیت کا سوال معنی نہیں رکھتا۔

اب سوال یہ ہے کہ خدا جیسے معروضی تصور کے بغیر کس طور اپنی زندگی کے مقصد کی تلاش جاری رکھی جائے۔

اس سوال سے ابھرتا ہوا سوال یہ ہے کہ ہمارے وجود کا منبع کیا ہے؟ وہ کیا عوامل تھے جس نے مجھ کو اور دوسری مخلوقات کو بحیثیت جاندار پیدا کیا؟

یہ بات ہمیشہ ہماری سمجھ سے بالا تر رہی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ ہم کسی کائناتی حادثے کے نتیجے میں یہاں موجود ہیں اور ہمارے اس دنیا میں موجود ہونے کے پیچھے کوئی الہیاتی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ یہ دنیا، بلکہ پوری کائنات، چند خود کار قوانین کے طور پر چل رہی ہے۔ ان قوانین کے تحت ارتقا جاری ہے اور ہم بھی اسی ارتقا کا حصہ ہیں۔ جس طرح سورج کی گرمی سمندروں کے پانی کو بخارات میں تبدیل کرتی ہے، اور پھر یہ بخارات بادل میں تبدیل ہوتے ہیں اور بارش کا سبب بنتے ہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، اسی طرح کائنات میں بکھرے مختلف ایٹم اور مالیکیول ایک ساتھ جڑ کر ایک جاندار چیز کو جنم دیتے ہیں اور پھر یہ جاندار چیز قوانین فطرت کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی کے مراحل طے کر کے موت سے ہمکنار ہوتی ہے اور بالآخر دوبارہ اسی قسم کے بھٹکتے ہوئے ایٹموں اور مالیکیول میں تبدیل ہوجاتی ہے جہاں سے ابتدا ہوئی تھی۔

اس طور انسانی زندگی کسی مقصدیت سے عاری محسوس ہوتی ہے۔ اس دنیا میں اس کا رول کسی حشرات الارض یا کسی اور جاندار شے سے مختلف نہیں لگتا۔

یوں یہ دنیا روبوٹوں کی دنیا معلوم ہوتی ہے جس کی پروگرامنگ پہلے سے کی گئی ہے۔ قوانین فطرت پروگرامنگ کا رول ادا کرتے ہیں۔ پھر بامقصد زندگی کا تصور ہی ماند پڑ جاتا ہے۔ ہماری زندگی اور اس میں کی گئی ہر حرکت پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتی ہے۔

کیا کوئی اور امکان ہے جو ہماری زندگی میں مقصدیت کا جواز فراہم کر سکے؟

جب یہ کہا جاتا ہے کہ بہترین زندگی وہ ہے جس میں ہم انسانی اقدار کو فروغ دینا اپنا مقصد قرار دیں۔ ہم دوسروں کے ساتھ وہی کرنا پسند کریں جو ہم چاہیں کہ وہ ہمارے ساتھ کریں، اور دوسروں کے ساتھ وہ نہ کریں جو ہم چاہیں کہ دوسرے ہمارے ساتھ نہ کریں، تو ہم بنیادی طور پر اپنی بقا کی جبلت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں جو ہر جاندار کی فطرت کا حصہ ہے۔ ہزاروں، بلکہ لاکھوں، سال پہلے ہمارے آبا و اجداد اور دوسرے جانداروں میں بھی یہ جبلت موجود تھی اور اس نے ان کی بقا میں اہم رول ادا کیا ہے۔ یہ اس جبلت کا نتیجہ ہے کہ ہم آج زندہ ہیں۔

پھر آج سے تقریباً دس ہزار سال قبل تہذیب کا فروغ ہوا جس کی بدولت آہستہ آہستہ ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے آج کے دور میں نہایت جدید و نفیس مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ ہم اقوام کی صورت میں منظم ہو چکے ہیں۔ اب ہمیں اپنی بقا کی جبلت پر بھروسا کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اقوام نے انسانوں کو قوانین کی بیڑیوں میں اس طور جکڑ دیا ہے کہ اب ہماری بقا ان قوانین کی پیروی میں منتقل ہو گئی ہے۔

اقوام کے تصور نے ایک طرف تو ہمیں ایک بہت نفیس زندگی گزارنے کا موقع دیا ہے، ایسی زندگی جس کا تصور ہزاروں سال پہلے ہمارے آبا و اجداد نہیں کر سکتے تھے۔ مشترکہ کوششوں کی بدولت سائنس نے انسان کو بہت سی سہولتوں کا عادی بنایا ہے اور فنون لطیفہ نے زندگی میں لطافت پیدا کی ہے۔ لیکن دوسری طرف مقصدیت سے وابستہ سوال جوں کا توں موجود ہے۔ انسانی تہذیب کے ارتقا کے دوران ہم نے یہ تو سیکھا ہے کہ کس طرح باہمی تعلقات کے ذریعے ہم انسانیت کے لیے ایک پر امن اور آسائشوں سے بھر پور ماحول پیدا کر سکتے ہیں لیکن اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ انسانی زندگی کہاں سے آتی ہے اور اس کا کیا مقصد ہے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سوال کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا تھا، ہمیشہ جواب طلب رہے گا۔ سائنسی فریم ورک میں اس سوال سے وابستہ پیش رفت تب ہی ممکن ہو سکتی ہے جب ہم چند اہم سوالوں کا جواب معلوم کر سکیں۔

زندگی کی نوعیت کیا ہے؟
کیا روح کا وجود ہے؟
کیا موت کے بعد کوئی زندگی ہے؟

اگر سائنسی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ زندگی محض ایٹموں اور مالیکیولز کا ایک مخصوص مرکب ہے اور روح جیسی ماورا چیز کا وجود نہیں اور موت کا انجام خاتمہ ہے اور کسی زندگی بعد از موت کا امکان نہیں، تو یہ سمجھنا حق بجانب ہو گا کہ انسانی زندگی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے اور کچھ نہیں۔ ہماری زندگی کی نوعیت نباتات سے بہت زیادہ مختلف نہیں۔ اس طور زندگی میں مقصدیت کا سوال دم توڑ جائے گا۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو مقصدیت سے وابستہ سوال زندہ رہے گا، شاید ہمیشہ کے لیے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy