گولڑہ شریف سے 95 چک شمالی تک کچی شراب

میں بریڈ فورڈ، برطانیہ، میں پاکستانی کھانوں والے ایک مہنگے اور بڑے ریسٹورنٹ پر چھٹیوں کے دنوں میں ویٹر کا کام کرتا تھا۔ ریسٹورنٹ کے مالک بہت زیادہ امیر اور بہت کم پڑہے لکھے تھے۔ برطانیہ میں نیشنل لاٹری شروع ہو چکی تھی۔ ہر ہفتے لاٹری نکلتی تھی۔ جیک پاٹ تقریبا ایک کروڑ پونڈ کے برابر ہوتا تھا۔ ہر ہفتے کی شام کوئی "خوش قسمت” اچانک ایک کروڑ پونڈ کا مالک بنتا۔ اس امید پر ہم سارے ویٹر بھی کم از کم ایک لاٹری ٹکٹ ضرور خریدتے۔ اس ٹکٹ کی قیمت ایک پونڈ تھی۔ ایک دن کام کے بعد صفائی وغیرہ مکمل کر کے سب لوگ ریسٹورنٹ کے مالک کے ارد گرد بیٹھے گپیں لگا رہے تھے اور لاٹری پر ہی بات ہو رہی تھی۔ مالک کہنے لگا سب لوگ دعا کریں اور ان کا جیک پاٹ نکل آیا تو وہ سارے ویٹرز کو ایک ایک ہزار پونڈ دیں گے۔ سب نے فورا حامی بھری اور دعائیں کرنے کا وعدہ کیا۔ میں نے کہا کہ اگر میری دعا سے جیک پاٹ نکل سکتا ہے تو میں یہ دعا اپنے لیے کروں گا۔ کیونکہ مجھے کروڑ پونڈ ہزار پونڈ سے زیادہ اچھے لگتے ہیں۔
شاہ صاحب بہت بڑے سرکاری افسر تھے۔ اپنی پہچان بحیثیت سید ہی چاہتے تھے اور اسی پر فخر کرتے تھے۔ پنجابی تھے لیکن جب بھی اسلام آباد آتے سندھ ہاؤس میں ٹھہرتے تھے۔ وجہ یہ بتاتے کہ پنجابی منافق ہو گئے ہیں، پٹھان وہابی ہو گیا ہے، بلوچ تو تھا ہی سیکولر اور ہم سادات کی عزت اب صرف سندھ میں ہی رہ گئی ہے اس لئے سندھ ہاؤس ہی ٹھہرتا ہوں۔ شاہ صاحب کی شام بہت اچھی ہوتی تھی۔ اپنی طرف وہ تو حساب کتاب کی ہی پیتے تھے لیکن کسی بھی دوسرے کے لئے وہ بے حساب ہوتی تھی۔ رات گیارہ بجے جب ایک زبردست شام اختتام کو تھی، دو آدمی کمرے میں آئے۔ ان میں سے ایک سندھ ہاؤس کا ملازم تھا لہذا شاہ صاحب کو جانتا تھا اور شاہ صاحب بھی اسے پہچانتے تھے۔ اس نے اپنے ساتھ آنے والے دوسرے شخص کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت پریشان ہے کیونکہ اس کی کوئی اولاد نہیں۔ اس نے گھر والوں سے چھپا کر یہاں اسلام آباد دوسری شادی بھی کئی سال سے کر رکھی ہے مگر قدرت راضی نہیں ہو رہی۔ اس کے ساتھ ہی وہ پریشان حال شخص شاہ صاحب کے پاؤں میں بیٹھ گیا اور دبانا شروع کر دیا۔ شاہ صاحب نے اس کے لئے نرینہ اولاد کی دعا کی اور بیٹے کا نام بھی تجویز کر دیا۔ بونس میں اس کی دوسری شادی کے راز کی حفاظت کی دعا بھی کر دی۔ بے اولاد شخص خوش اور مطمئن ہو کر واپس چلا گیا۔ میں نے شاید اس سارے ڈرامے کو مذاق ہی سمجھا۔
کئی سال پہلے نیدرلینڈ کے ایک شہر روٹرڈیم میں پاکستانی کمیونٹی کی ایک مسجد میں گیارہویں شریف کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایک پیر صاحب تھے جو بریڈفورڈ سے آئے تھے۔ وہ پچاس پچاس یورو لے کر لوگوں کے ماضی قریب میں مرے ہوئے رشتہ داروں کے نام لے کر مغفرت کروا رہے تھے۔ جب وہ تشریف لائے تو سب لوگ بہت زیادہ جھک کر انہیں سلام کر رہے تھے۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا نہ سلام کیا کیونکہ وہ اتنا جھک کر ملنے والے بچوں کو بھی ایک سمائیل (smile) تک نہیں دے رہے تھے۔ تقریب کے بعد اپنے میزبان کے سامنے میں نے اسے ڈرامہ قرار دیا تو وہ بیچارے پریشان ہو گئے۔
ہم گرو جی کے ساتھ چائے کے ایک ڈھابے پر بیٹھے گپ لگا رہے تھے کہ ادھر ایک "جوگی سادھو سنت فقیر” آ نکلا اور اپنی غیبی طاقت سے لوگوں کو مستقبل کا خبریں اور کاروبار میں کامیابیاں آفر کر رہا تھا۔ اسے دلوں کے حال معلوم ہونے اور دلوں کو موم کر دینے کا دعوی بھی تھا۔ گرو جی نے پوچھا، یہ بتاؤ کہ میں تمہیں ایک روپیہ دوں گا یا نہیں۔ وہ بے چارہ پریشان ہو گیا کیونکہ اس کا جواب بڑی آسانی سے غلط ثابت کیا جا سکتا تھا۔ اس کی غیبی طاقت ساتھ چھوڑ گئی اور وہ مزید کوئی وقت ضائع کئے بغیر چلتا بنا۔ غیبی طاقت کا بھانڈا پھوڑنا کتنا آسان ہے۔ صرف ایک سوال ہی چاہیئے ہوتا ہے۔ سوال سوچنے سے آتا ہے اور "سوچنا” سیکھنے کا کوئی موقع ہی نہیں ہے۔
سوال کرنا تو بد تمیزی میں آتا ہے۔ اپنی محنت پر بھروسہ یا فخر کرنا غرور اور نا شکری میں آتا ہے۔ یہاں بچے تک تو دعاؤں سے پیدا ہوتے ہیں۔ بندوق کی گولی امام ضامن سے دوسری جانب مڑ جاتی ہے۔ خوابوں سے آپ کے مرے ہوئے دوست کے جنت میں درجے کی خبر آتی ہے۔ حتی کہ کرکٹ میچ میں سنچری ماں باپ کی دعاؤں سے بنتی ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کہ سائنس گناہ ہے۔ پرویز ہود بھائی کی باتوں سے بچوں کو دور رکھیں ورنہ گناہ کی جانب راغب ہو جائیں گے۔
ساری قوم کو اندھے یقین کی بیماری ہے اور معجزوں کا انتظار ہے۔ غیبی طاقتوں تک رسائی کی کوشش جاری رہتی ہے۔ بیماری میں دوائی کی بجائے تعویز گنڈے، کامیابی کے لئے محنت کی بجائے دعائیں اور محبت کی بجائے محبوب قدموں میں لانے کے لئے جادو ٹونے کا سہارا ہماری روزمرہ کی زندگی ہے۔ ان دیکھے خوف کا پرچار اتنا زیادہ ہے کوئی کہہ ہی نہیں سکتا کہ میں نے محنت سے کچھ حاصل کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جونہی اپنی محنت پر بھروسے کی بات کی قدرت ناراض ہو جائے گی اور سب کچھ چھن جائے گا۔ جب کوئی بھی کامیاب شخص یہ نہیں کہہ پاتا کہ محنت سے کچھ حاصل ہوا ہے تو کون محنت پر بھروسہ کرے گا۔ سب کو ان دیکھے سہارے ہی چاہیئے ہوں گے۔
بہت سے دھوکے باز ان دیکھے سہارے بنے پھرتے ہیں۔ کوئی سوال تو کرتا نہیں۔ کوئی کسی کا ٹیسٹ تو لیتا نہیں کہ اگر وہ دعا سے دوسروں کے کاروبار میں چمک لا سکتا ہے تو خود کیوں بھیک مانگ رہا ہے۔
غیبی سہاروں کے دھوکے سے نکلنا ہے تو ہمیں سائنسی رویے اپنانے ہوں گے۔ اور جب تک ہم سائنسی رویے نہیں اپناتے تب تک، جہاں بھی ہم ہیں، گولڑہ، بریڈ فورڈ، روٹرڈیم اور چک 95 شمالی میں جھوٹے سہاروں کی آفر یونہی موت برساتی رہے گی۔ چک 95 شمالی کی خبر بالکل ایسی ہی تھی جیسے وقفے وقفے سے کچی شراب سے مرنے والوں کی آتی ہے۔ کچی شراب اور جھوٹے سہاروں میں بہت کچھ مشترک لگتا ہے۔

