آؤ، منٹو کو برداشت کریں

ان سارے ہنگاموں میں یہ واقعہ دب گیا کیونکہ کسی نے شور نہیں مچایا۔ مگر یہ بھی کراچی کی حالیہ ثقافتی تاریخ کا واقعہ ہے کہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس جیسے عرفِ عام میں ناپا (NAPA) کہا جاتا ہے، حالاں کہ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ کس نے ناپا اور کتنا ناپا؟ کوئی بتائے نہ بتائے، ناپا نے چودہ روزہ تھیٹر اینڈ میوزک فیسٹی ول کا انعقاد کر ڈالا۔ روز ایک نیا کھیل، ایسا کھیل جو اس شہر کے لوگوں نے دیکھا نہ سنا۔ اس جشن میں لگ بھگ چوبیس پرفارمینسز ہوئیں جن میں اٹھارہ ڈرامے شامل تھے۔ ڈراموں کا تعلق پانچ مختلف ملکوں سے تھا مگر سب سے بڑھ کر اپنے ملک کے فنکار ایک سے ایک نئے روپ میں جلوہ افروز ہورہے تھے۔

پیمانے پر اور شہر کی مصروف شاہراہوں پر برپا کیے جانے والے ڈراموں کی شعبدہ گری اپنی جگہ، مجھے تو محدود سطح کے اور مختصر تھئیٹر کے یہ فن پارے زیادہ معنی خیز معلوم ہوئے، زندگی کی معنویت سے لبریز ۔
اس رنگ رنگ جشن میں کئی ملکوں سے فن کار آئے ہوئے تھے لیکن پہلی بار ایسا ہوا کہ فلسطین سے تعلق رکھنے والا ایک گروپ پاکستان آیا۔ ان کا کھیل ظاہر ہے کہ ان کی اپنی صورت حال کے بارے میں تھا، لیکن کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ صورت حال آفاقی نہیں؟ اس کھیل میں اشاروں، کنایوں سے کام لیا گیا تھا اور کچھ حصّہ چُپ سوانگ کی طرح تھا۔ بعض ٹکڑے اتنے مضحکہ خیز تھے کہ تکلیف دہ معلوم ہونے لگے۔ ایسے ہی ایک حصّے کے دوران پیچھے سے آواز آئی اور میں نے مُڑ کر دیکھا کہ ٹیلی وژن کی معروف اداکارہ زور زور سے ہنس رہی تھیں، یہ ہنسی ان کا ردعمل تھی۔ اسی طرح اگلے دو ڈرامے جو میں نے دیکھے ان میں بھی لوگ موقع بے موقع بہت ہنس رہے تھے۔ خاص طور پر ایسے سین میں جو زہرخند یا مہمل کا نمونہ پیش کررہے تھے۔ ایک کھیل کے دوران میرے برابر بیٹھے ہوئے مشہور صحافی نے پیچھے سے ہنسنے اور سرگوشی کرنے والوں کو گُھرک دیا۔ ان کو تو چپ کروا دیا لیکن میں سوچنے لگا کیا کراچی والے دوسروں کی اذیت پر ہنسنا پسند کرنے لگے ہیں؟ گویا آگے آتی تھی حال دل پر ہنسی، اب ہر اک بات پر آتی ہے!
یوں تو اس پورے جشن میں ایک سے بڑھ کر ایک موسیقی کے پروگرام اور ڈرامے پیش کیے گئے جن کے بارے میں بہت کچھ لکھنے کی گنجائش ہے لیکن میں دو ڈراموں کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا جو ناپا کے مختصر سے آڈیٹوریم میں بھی نہیں کھیلے گئے بلکہ ان کو جگہ ملی تو زیرِزمین، یعنی وہ بیسمنٹ میں دکھائے گئے۔ ڈراموں کی ایک پوری اور متوازی لہر، اس تہہ خانے میں جاری تھی اور اس میں وہ ڈرامے رکھے گئے جو نوجوان قلم کاروں کی فکر کا نتیجہ تھے اور انتظامیہ کے نزدیک ان میں تھوڑی بہت گنجائش تھی۔ تہہ خانے میں باقاعدہ اسٹیج تھا اور نہ سیٹ، حاضرین کی کرسیاں سامنے تھیں بلکہ بہت س لوگ سامنے فرش پر بیٹھ گئے تھے۔ اس وجہ سے ان ڈراموں میں ایک فوری پن (immediacy) اور بے تکلفی سی تھی۔ جیسے ڈرامہ دیکھنے والوں کو ڈرامے کے اندر داخل ہونے کا موقع مل گیا ہو۔ اس ڈرامے کی تکلیف دہ صورت حال کے انداز۔ اب آپ یہ فیصلہ کیجیے کہ ڈرامہ اس کمرے کے اندر ہے یا باہر؟ اور آپ خود کہاں ہیں؟
یہ دونوں ڈرامے تجرباتی ہونے کی وجہ سے تہہ خانے میں رکھے گئے ہوں گے لیکن دونوں کا تجربہ بہت کامیاب گیا۔ اسٹیج کرافٹ میں 
ایک گھر میں رات گئے ٹیلی فون بجنے لگتا ہے اور جب فون اٹھایا جائے تو دوسری طرف سے کوئی نہیں بولتا۔ یہ فون بار بار آتا ہے اور کوئی نہیں بولتا۔ بولنے اور خاموشی کے درمیان مکالموں سے شروع ہونے والے اس کھیل کا نام ’’چُپ‘‘ بالکل ٹھیک لگا۔ اس ڈرامے کی ایک خوب صورتی خاموشی کے وہ وقفے بھی تھے جو بولتے بولتے کرداروں کے درمیان آجاتے تھے اور پھر ذرا دیر بعد غائب ہو جاتے۔ اپنی بات کہنے، سننے کے لیے وہ کردار دوبارہ جدوجہد کرنے لگتے۔ یہ ڈراما ابلاغ کی شکست کے بارے میں بھی ہوسکتا تھا، اگر اس کا سیاسی و سماجی سیاق اتنا معنی خیز نہ ہوتا۔ یہ کسی تجریدی یا علامتی صورت کا بیان نہیں، ایسے گھر کی کہانی جسے ہم پہچان سکتے ہیں اور دل ہی دل میں شُکر گزار ہو سکتے ہیں کہ یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔ یا پھر شاید یہی ہمارا گھر ہے، ہمیں خبر نہیں ملی ہے۔
اس ڈرامے کے ہدایت کار سُنیل شنکر تھے اور اسے محمد فواد خان نے لکھا تھا جو اس سے پہلے کراچی میں داستان گوئی کے احیاء کی کامیاب کوشش کرچکے ہیں۔ فواد اب تک پڑھنت کے ماہر جانے جاتے تھے، اب انھوں نے لکھت میں اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ ان کے مکالمے بہت آہستگی سے سامنے آتے ہیں، اس لیے متاثر کرتے ہیں، فواد نے اپنا کردار کامیابی کے ساتھ نبھایا مگر مجھے بختاور مظہر نے بہت متاثر کیا۔ برسوں پہلے میں نے انھیں ’’سلطان کا فیصلہ‘‘ میں شاہانہ وقار والی ملکہ کے روپ میں دیکھا تھا، اب وہ اس ماں کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ جس کا بیٹا گھر نہیں آیا۔ وہ بہت کچھ کہتی ہے اور اس سے زیادہ کہتے کہتے رہ جاتی ہے۔ اس کردار کی ساری تکلیف اور کشمکش جیسے بختاور مظہر نے اپنے چہرے کے تاثرات میں سمیٹ لی تھی۔
فواد کے کھیل میں شور شرابا تھا اور نہ احتجاج کی لے بلند ہوئی۔ اس کے باوجود اس میں سب کچھ کہہ دیا گیا۔ ان قوتوں کا نام لیے بغیر حوالہ بھی دے دیا گیا جن کی مرضی سے سب کچھ ہوتا ہے۔ مُلک میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ گھر کی کشمکش میں نظر آتا ہے۔ کردار اکہرے اور سطحی نہیں ہیں۔ ان میں تضاد ہے اور ان کے محرکات ذرا دیر میں کُھلتے ہیں۔ مگر کُھل کر سامنے نہیں آتے۔ کھیل کا کمال اس کے under-statement میں ہے۔ اتنے کم الفاظ میں اتنی گہری معنویت، یہ خوبی تو افسانوں میں ہوا کرتی تھی۔ کیا یہ ڈرامہ دوبارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے؟ ایک بار دیکھ کر دل نہیں بھرا۔

