سانپوں کے متعلق ہمارا رویہ
آج صبح کھیت میں جیسے ہی ایک دھڑے (کھیت کے کنارے ) سے نیچے اتر رہا تھا کہ اچانک ایک کوبرا سانپ پر نظر پڑی۔ ایک دو سیکنڈ اگر میرا قدم پہلے پڑ جاتا تو کوبرا یقیناً قدم بوسی کرتا۔ دھڑے کے ساتھ ایک پھلاہی کا درخت تھا اور ساتھ سروٹ کا گھنا پودا۔ میں درخت کے نیچے ابھی اس اچانک ٹاکرے کے سحر میں گم یہ سوچ رہا تھا کہ روزمرہ کی زندگی میں ہمیں کچھ ایسے چہرے نظر آتے ہیں جن کو جی بھر کے دیکھنے کا دل کرتا ہے لیکن وہ غائب ہو جاتے ہیں۔ یہ Fleeting Images ہمیں پچھتاوے کی دلدل میں دھنسا کر خود پھر کبھی نظر نہ آنے کے لیے آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ شہر کی شاہراؤں پر اور بازاروں میں ہمارے ساتھ یہ حادثات اکثر پیش آتے ہیں جب کوئی چاند سا چہرہ قیامت خیز سراپا لیے ہماری آنکھوں کو چند لمحوں کے لیے خیرہ کر کے شہر کی بھیڑ میں گم ہوجاتا ہے اور ہماری آنکھیں پھر بے سود اسی چہرے کی تاک میں لگی رہتی ہیں اور دل میں نہ مٹنے والی ایک کسک رہ جاتی ہے۔ اس کوبرا سانپ کے متعلق بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ اسے جی بھر کر دیکھا نہیں اور یہ صاحب غائب ہو گئے ہیں۔ ابھی یہی سوچ رہا تھا کہ پھلاہی کے درخت کے اوپر سے صاحب نے آواز دی کہ میں یہاں ہوں۔ پھنکار سن کر درخت کی طرف دیکھا تو کوبرا پھلاہی کے درخت کی ایک ٹہنی سے پھن پھیلائے لپٹا ہوا تھا۔ اب دوسرے پچھتاوے نے آن لیا کہ میں موبائل گھر چھوڑ کے آیا ہوا تھا۔ آس پاس کے کھیتوں میں نظر دوڑائی کہ کوئی بندہ نظر آئے اور اس کے موبائل سے کوبرے کی ویڈیو بنا لوں لیکن کوئی بندہ گندم کاٹتا نظر نہ آیا۔ پھر یاد آیا کہ گاؤں میں کل شام ایک بزرگ فوت ہو گئے تھے اور ان کا جنازہ آج تھا۔ اس لیے گاؤں کا کوئی آدمی جنازے سے پہلے گندم کاٹنے یا کٹوانے نہیں آئے گا اور نہ ہی جنازے سے پہلے تھریشر لگے گا۔ کوبرے کی ویڈیو اور تصاویر نہ لینے کا رنج رہا۔ حالانکہ اس سے پہلے تین کوبرا سانپوں کی تصاویر اور ویڈیو بنائیں تھیں۔
ہمارے ہاں بھورے رنگ کا کوبرا سانپ پایا جاتا ہے۔ یہ انسان کو دیکھ کر فوراً گھاس میں یا بل میں چھپنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر قریب کوئی درخت ہو تو فوراً اس پر چڑھ جاتا ہے۔ لیکن جب یہ دیکھے کہ بھاگنا ممکن نہیں تو پھر یہ پھن پھیلا کر سیدھا کھڑا ہوجاتا ہے۔ میں نے کوبرا سانپ کو کئی بار دیکھا۔ تین دفعہ تو مجھے دیکھ کر یہ درخت پر چڑھ گیا۔ (کیا میں یہ بڑھک مار سکتا ہوں کہ مجھے دیکھ کر تو کوبرا سانپ بھی درخت پر چڑھ جاتا ہے ) ؟
برصغیر کے مسلمانوں اور ہندوؤں کا سانپوں کے متعلق تصور بھی دو انتہاؤں والا ہے۔ ہم مسلمان سانپ کو اپنا دشمن جبکہ ہندو سانپ کی پوجا کرتے ہیں۔ ہمیں سانپ جہاں بھی ملے یا ہم اسے مار دیتے ہیں یا ڈر کے بھاگ جاتے ہیں۔ یا پھر کسی دوسرے بندے کو سانپ مارنے کے لیے بلاتے ہیں۔ یہ صرف ہماری جہالت اور سانپ کے متعلق وہ خوف اور غلط تصور ہے جو صدیوں سے ہمارے ذہنوں میں ٹھونسا گیا ہے۔ حقیقت میں سانپ انسان کا دشمن نہیں بلکہ ایک بہت مفید دوست ہے۔ سانپ کا ہمارے ماحول میں بہت اہم کردار ہے۔ اگر سانپ نہ ہوں تو ہماری فصلوں کو چوہے برباد کر دیں۔
2017 تک میں جب بھی کوئی سانپ دیکھتا تو اسے مار دیتا۔ ہمارے پرانے گھر میں لکڑی کی چھت تھی جس میں چڑیوں کے گھونسلے ہوتے۔ سانپ اس پرانے گھر کی چھت میں اکثر چڑیوں کے بچے کھانے کے لیے آتے۔ ہماری جب بھی نظر پڑتی تو گھر میں سپ سپ کا شور بلند ہوتا۔ کبھی ابو تو کبھی تایا ڈنڈا یا بندوق لے کر سانپ کو مار دیتے۔ جب مجھ پر جوانی آئی تو قتلِ سانپ میں میں نے اپنے ان بزرگوں کو بھی مات دے دی۔ اگر کوئی سانپ کسی بل یا لکڑی کے چھت میں گھس جاتا تو میں ایک کپڑے کو مٹی کے تیل یعنی کیروسین آئل میں بھگو کر اور پھر کسی چھڑی پر لپیٹ کر بل کے آگے رکھتا۔ سانپ مٹی کے تیل کی بو کی وجہ سے فوراً باہر آ جاتا اور میں اسے مار دیتا۔
2017 کے ساون میں ہمارے نئے گھر کی تعمیر ہو رہی تھی۔ زیر تعمیر مکانات میں معمار تعمیراتی کام کے لیے گٹر پہلے بنواتے ہیں تاکہ اس میں پانی ذخیرہ کیا جا سکے اور بجلی بند ہونے کی صورت میں وہ پانی استعمال کیا جا سکے۔ برسات کی ایک شام جیسے ہی میں نے گٹر میں دیکھا تو پانی میں ایک کوبرا سانپ نظر آیا۔ گھر کے ساتھ ہمارا پڑوسی آصف حمید ٹریکٹر پر ہل چلا رہا تھا۔ میں نے آصف کو آواز دی کہ سانپ ہے، جلدی آؤ۔ آصف ہل چھوڑ کر پہنچ گیا۔ میں نے آصف کو کہا کہ اس کو برے کو مارنے سے پہلے میں اس کی تصاویر بناؤں گا۔ آصف نے کلہاڑی سے سانپ کو باہر نکالا اور میں نے اس کی تصاویر بنائیں۔ سانپ کو تو پھر اسی کلہاڑی سے دشمن سمجھ کر مار دیا۔ لیکن جب میں نے اس کی تصاویر فیس بک پر لگائیں تو میرے دوست محمد فیصل جو اسلام آباد میں ڈیلی ٹائمز کے ساتھ وابستہ ہیں نے کمنٹ کیا کہ اس کا مطلب ہے ہم کل تک ایک دلچسپ فیچر کا انتظار کریں۔ فیصل کا یہ کمنٹ پڑھ کر میرے ذہن میں خیال آیا کہ سانپوں پر ایک فیچر لکھا جا سکتا ہے۔ میں نے اس پر کام شروع کیا۔ سانپوں کے ماہرین اور وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے افسران سے بات کی۔ سانپوں کے متعلق تحقیقاتی مقالے پڑھے۔ 15 اکتوبر 2017 کو میرا فیچر ڈان اخبار کے سنڈے میگزین میں WILDLIFE: THE SERPENT ’S TALE کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس فیچر نے میرا سانپوں کے متعلق تصور بدل کر رکھ دیا۔ اگرچہ 2019 کی برسات کی ایک رات میں گھر میں اکیلا تھا جب ایک سنگ چور چارپائی کے پاس آ گیا اور میں نے ڈر کی وجہ سے اسے مار دیا کہ مجھے رات کو وہاں اکیلے سونا تھا۔ لیکن 2019 کے بعد میں نے کسی سانپ کو نہیں مارا اور دوستوں کو بھی یہی تلقین کی کہ سانپ کو نہ مارا کریں۔ تاہم نادانی اور سانپوں کے متعلق عدم آگاہی کی وجہ سے جو سانپ مارے ہیں اس کا دکھ ہے۔
2017 میں پنجاب وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عبدالعلیم چوہدری نے مجھے بتایا تھا کہ پاکستان میں سانپوں کی 77 اقسام میں سے چودہ اقسام سمندری سانپوں کی ہیں اور یہ چودہ کی چودہ زہریلی اقسام ہیں۔ جبکہ زمینی سانپوں میں گیارہ اقسام زہریلی ہیں۔ پاکستان میں پائے جانے والے سانپوں میں چار سانپ انتہائی زہریلے ہیں جنہیں ”بگ فور“ کہا جاتا ہے۔ ہمارے چکوال بلکہ پورے خطہ پوٹھوہار میں یہ چاروں سانپ پائے جاتے ہیں۔ ان سانپوں میں ایک کوبرا ہے جسے ہم اپنی بولی میں چھجلیپ کہتے ہیں، دوسرا کریٹ یعنی سنگ چور، تیسرا رسل وائپر جسے ہم کاوڈیاں والا یا کوڑیوں والا سانپ کہتے ہیں اور چوتھا ساسکیلڈ وائپر جسے جلیبی، پشتی، لنڈی یا کھپرا سانپ کہتے ہیں۔ یہ چار سانپ اگر انتہائی زہریلے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ یہ آپ کو جہاں ملیں آپ انہیں مار دیں۔ یاد رکھیں سانپ کسی انسان یا کسی مال مویشی کو اس وقت تک بالکل نہیں ڈستا جب تک اس کو چھیڑا نہ جائے، یا یہ محسوس کرے کہ انسان یا کوئی جانور اس پر پاؤں رکھنے والے ہیں۔ صرف اس صورت میں سانپ خواہ وہ زہریلا ہو یا غیر زہریلا ہو اپنے بچاؤ کے لیے ڈستا ہے۔ اگر ان چاروں سانپوں میں سے کوئی ایک سانپ بھی کاٹ لے تو ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ سانپ کے ڈسنے سے متاثرہ شخص کی فوراً موت واقع نہیں ہوتی بلکہ اگر کوئی زہریلا سانپ ڈس لے تو پہلے گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ شخص کو قریبی ہسپتال پہنچا کر اینٹی وینم لگوایا جائے تو اس شخص کی موت نہیں ہوتی۔ ہاں اگر کوبرا ڈس لے تو متاثرہ شخص کو تیس منٹ کے اندر اندر قریبی ہسپتال پہنچنا چاہیے کیونکہ کوبرا کے زہر کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم پاکستان اور ہندوستان میں زیادہ تر اموات سنگ چور کے کاٹنے سے ہوتی ہیں اور یہ چاروں زہریلے سانپوں میں سب سے زیادہ زہریلا سانپ ہے۔ سنگ چور کے ڈسنے سے زیادہ اموات اس لیے ہوتی ہیں کہ اس کے کاٹے کا درد بہت ہلکا سا ہوتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اسے کسی مچھر نے کاٹا ہے۔ دوسرا یہ سانپ کوبرا کے برعکس دن کو نہیں بلکہ رات کو باہر نکلتا ہے اور برسات کے موسم میں جب اس کے بل میں پانی گھس جاتا ہے تو یہ سکون کے لیے انسان کے بستر میں بھی گھس جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کو سوتے ہوئے کاٹ جائے تو پھر وہ شخص دائمی نیند ہی سو جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہر سال چالیس ہزار لوگ سانپ کے ڈسنے کا شکار ہوتے ہیں اور آٹھ ہزار کے لگ بھگ زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پاکستان میں سانپ کے ڈسنے کی اموات بروقت ہسپتال پہنچ کر اینٹی وینم نہ لگوانا اور سانپ کے ڈسنے کے خوف کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ دیہاتی علاقوں میں سانپ کے ڈسنے کے بعد متاثرہ شخص کو قریبی ہسپتال لے جانے کی بجائے کسی خود ساختہ پیر یا سپیرے کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ اب چونکہ زیادہ تر سانپ زہریلے نہیں ہوتے اور ان کے ڈسے شخص کو موت کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا تو پیر کے دم کی بلے بلے ہوجاتی ہے۔ لیکن زہریلے سانپ کے ڈسے شخص پر کسی پیر یا سپیرے کا جادو نہیں چلتا اور وہ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ جہاں پاکستان میں ہر سال آٹھ ہزار لوگ سانپ کے ڈسنے سے مر جاتے ہیں وہاں امریکہ میں ہر سال صرف پانچ لوگ سانپ کے ڈسنے سے مرتے ہیں حالانکہ امریکہ میں تیس اقسام کے زہریلے سانپ پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں سانپ کے کاٹنے سے شرح اموات بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہاں لوگ سانپ کے کاٹنے کے بعد کسی پیر یا سپیرے کے پاس نہیں جاتے بلکہ ہسپتال جاتے ہیں اور وہاں لوگوں کو سانپوں کے متعلق آگاہی بھی ہوتی ہے۔
ڈاکٹر زولٹن تاکاکس مشہور ٹاکسنالوجسٹ یعنی علمِ زہر کے ماہر ہیں۔ وہ 2010 میں پاکستان میں پائے جانے والے سانپوں پر تحقیق کرنے پاکستان آئے تھے۔ اس تحقیق کے بعد انہوں نے ڈان اخبار میں ایک کالم لکھا تھا جس میں انہوں نے حیران کن انکشافات کیے تھے۔ ڈاکٹر زولٹن نے پاکستان کو سانپوں کی جنت قرار دیتے ہوئے یہ لکھا تھا کہ بیس اقسام کی اہم ترین دوائیں سانپوں کے زہر سے تیار ہوتی ہیں جن میں کینسر کی دوا بھی شامل ہے۔ پاکستان یہ دوائیں درآمد کرنے کے لیے اربوں ڈالر لگا دیتا ہے جبکہ ہم یہی دوائیں اپنے سانپوں کے زہر سے تیار کر کے برآمد کر سکتے ہیں اور اربوں ڈالر کما سکتے ہیں۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیں کہ ہمارے پاس اتنے قیمتی سانپ موجود ہیں اور ہم ان کے تحفظ کی بجائے انہیں مار دیتے ہیں۔ حکومتی سطح پر سانپوں کے تحفظ، ان کی افزائش یا فارمنگ کا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ نہ ہی ہمارے ٹی وی چینلز پر ملک میں موجود سانپوں یا دوسری جنگلی حیات کے متعلق آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ اور یہ جو سانپ ہمارے گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں یہ ہمیں ملنے کے لیے نہیں آتے بلکہ گھر میں اگر چوہے، مینڈک یا چڑیاں ہوں تو یہ ان کے شکار کے لیے آتے ہیں۔ یا پھر برسات کے موسم میں خشک جگہ کی تلاش میں گھروں میں آ جاتے ہیں۔ ہم جب کھیتوں میں گھر بناتے ہیں تو ہمیں یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہم سانپوں کے علاقے پر قابض ہو رہے ہیں۔ سانپوں کے متعلق ہمارے اس بے رحمانہ اور جاہلانہ رویے کی وجہ سے ہمارے علاقوں سے سانپ ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں صرف اتنی بات سوچنی چاہیے کہ جب ایک معمار ایک دیوار کی تعمیر میں ایک آدھی اینٹ بھی فالتو یا بلا مقصد نہیں لگاتا تو قدرت کسی مخلوق کو بغیر مقصد کے کیوں پیدا کرے گی؟




