سانپوں کے متعلق ہمارا رویہ

آج صبح کھیت میں جیسے ہی ایک دھڑے (کھیت کے کنارے ) سے نیچے اتر رہا تھا کہ اچانک ایک کوبرا سانپ پر نظر پڑی۔ ایک دو سیکنڈ اگر میرا قدم پہلے پڑ جاتا تو کوبرا یقیناً قدم بوسی کرتا۔ دھڑے کے ساتھ ایک پھلاہی کا درخت تھا اور ساتھ سروٹ کا گھنا پودا۔ میں درخت کے نیچے ابھی اس اچانک ٹاکرے کے سحر میں گم یہ سوچ رہا تھا کہ روزمرہ کی زندگی میں ہمیں کچھ ایسے چہرے نظر

Read more

بڑا کم ظرف تھا جو کر گیا ویراں شاموں کو

30 نومبر 1967 کو جب پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تو نوجوان احمد رضا قصوری بھی اس میں شامل ہو گئے۔ ان کے خاندان نے 1970 سے پہلے کبھی کسی یونین کونسل کا الیکشن بھی نہیں جیتا تھا۔ 7 دسمبر 1970 کو پاکستان کے پہلے اور تباہ کن عام انتخابات میں احمد رضا قصوری بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر 30 سال کی عمر میں قومی اسمبلی کے رکن بن گئے لیکن کچھ عرصے بعد اپنے مزاج کی

Read more

پاکستان کی بقا بلوچستان سے جڑی ہے

نوروز خان 1860 کے آخر یا 1870 کے اوائل میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بلوچی بلوچستان کے زرکزئی قبیلے سے تھا جسے زہری بھی کہا جاتا ہے۔ بلوچستان کا علاقہ چار شاہی ریاستوں قلات، مکران، لسبیلہ اور خاران پر مشتمل تھا۔ یہ ریاستیں کبھی افغانیوں، کبھی ایرانیوں اور کبھی دہلی کے حکمرانوں کی مطیع رہیں۔ 1875 یعنی نوروز خان کی پیدائش تک اس علاقے میں امن تھا۔ 1875 میں برطانوی راج کی نظر جیسے ہی اس وسیع علاقے پر پڑی

Read more

بہن بیٹی کے نام سے خوفزدہ معاشرہ

گزرے دسمبر میں ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ دعوتِ ولیمہ میں ملک بھر سے اہم شخصیات شریک تھیں۔ جہاں بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر فائز لوگ، سیاستدان، وکلا اور کاروباری شخصیات موجود تھیں وہاں کئی مذہبی رہنما بھی تھے۔ جیسا کہ ہمارے ہاں ولیمے کا کھانا کھولنے سے پہلے کسی مولانا صاحب کو دعا کے لیے کہا جاتا ہے، تو اس ولیمے میں دعا کی سعادت چکوال کے ایک معروف عالمِ دین کو حاصل ہوئی۔ دعا کے دوران

Read more

چکوال میں انسانیت سوز واقعہ

چکوال میں تھانہ نیلہ کے گاؤں گگھ میں گزشتہ دو سال سے زرعی زمین ہتھیانے کی غرض سے ایک ویران گھر میں بند رکھے گئے بہن بھائی کو بازیاب کروانے کے لیے جب بارہ فروری کی شام نیلہ پولیس نے چھاپہ مارا تو کمرے سے بہن کی لاش برآمد ہوئی جو پولیس ذرائع کے مطابق آٹھ سے دس دن پرانی تھی جبکہ ملحقہ کمرے سے بھائی کو بھی بازیاب کر لیا گیا جو خوف کی وجہ سے ابھی تک کچھ

Read more

نو کا مطلب نو ہوتا ہے

چکوال میں پاکستان تحریک انصاف کے سابقہ وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز نے پی ٹی آئی کے دور میں ایک عظیم کارنامہ یونیورسٹی آف چکوال کے قیام کی شکل میں سر انجام دیا۔ راجہ یاسر کے دادا راجہ سرفراز خان نے چکوال میں 1949 میں کالج بنا کر خود کو امر کیا تھا۔ یونیورسٹی کا قیام بلاشبہ چکوال کی تاریخ میں ایک عظیم واقعہ ہے۔ یہ یونیورسٹی جہاں ہمارے مستقبل کے معمار تیار کرنے کی درسگاہ ہے وہاں چکوال کی

Read more

گاہ کا موہنا

بظاہر جمعہ کے دن گاہ گاؤں میں کسی شخص کی موت نہیں ہوئی تھی لیکن گاؤں کے لوگ صبح سے ہی راجہ محمد علی مرحوم کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہو گئے تھے۔ نمازِ جمعہ کے بعد تو پورا گاؤں ہی راجہ محمد علی کی بیٹھک پر امڈ آیا۔ ”ایسے لگتا ہے ہمارے گھر کا کوئی فرد فوت ہو گیا ہے“ ، گاؤں کے سکول کے ہیڈ ماسٹر الطاف حسین نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ 26 دسمبر کو ہندوستان

Read more

مطیع اللہ جان کا مسئلہ

عباس ناصر کا شمار پاکستان کے چند ان معتبر اور بڑے صحافیوں میں ہوتا ہے جن کا دامن میدانِ صحافت میں ساری زندگی تج دینے کے بعد بھی اجلا اور شفاف ہے۔ ”دی مسلم“ ، ”بی بی سی“ ، ”دی نیوز“ ، ”ڈان“ اور ”ہیرالڈ“ جیسے اداروں کے ساتھ وابستہ رہنے والے عباس ناصر 2006 سے 2010 تک ڈان کے ایڈیٹر رہے اور 2010 کے بعد لندن مقیم ہو گئے۔ تب سے عباس ناصر ڈان میں ہر ہفتے باقاعدگی سے

Read more

چکوال میں بیوہ کے ذہنی مریض بیٹے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ

جمعرات کی شام چکوال شہر میں چوا چوک کے قریب واقع ایک کم آبادی والے محلے رحمن آباد میں جب اندھیرا چھا رہا تھا تو 68 سالہ ایک ماں کی زندگی بھی تاریکی میں ڈوب رہی تھی۔ کیچڑ زدہ کچی گلی کے کونے پر واقع دو کمروں کے چھوٹے سے گھر کے باہر ایک لوڈر رکشہ کھڑا تھا جس پر اس بدقسمت ماں کا چھوٹا بیٹا اور بیٹے کا ایک دوست گھر کا سامان رکھ رہے تھے۔ مالک مکان سر

Read more

اور میلہ کرسال بھی نہ بچ سکا

جب 1965 کی جنگ اپنے عروج پر تھی اور بھارتی طیارے پاکستانی سرزمین پر بم پھینک رہے تھے، چکوال کا تاریخی ثقافتی میلہ ”میلہ کرسال“ بلا روک ٹوک جاری رہا۔ ستمبر 1998 میں جماعت اسلامی کی نرسری سے اٹھی غازیانِ ملت کی تنظیم ”پاسبان“ کے مجاہدوں نے کرسال میلے پر یلغار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر رقص و موسیقی کی کوئی تقریب ہوئی تو پھر معاملات پاسبانیوں کے ہاتھ میں ہوں گے۔ کرسال میں غازیانِ ملت کے لشکر کے

Read more

چکوال کا نور خان گاندھی

چکوال شہر سے جانب شمال بمشکل آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر دس بارہ گھروں پر مشتمل ڈھوک سارنگ آباد ہے۔ جب اٹھارہویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں چوہدری سارنگ خان نے اپنی اس بستی کی بنیاد رکھی تو اس وقت ”ڈھاب پڑی“ گاؤں کچھ فرلانگ کے فاصلے پر تھا لیکن انتظامی ریکارڈ میں ڈھوک سارنگ کو چک نورنگ جو ڈھوک سارنگ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر آباد تھا کا داخلی گاؤں قرار دے دیا گیا۔

Read more

رنجیت سنگھ اور قلعہ کسک کے راجہ کے مابین تاریخی معرکے کی کہانی

کوہستانِ نمک کے جنجوعہ راجاؤں کی بدقسمتی ہی یہی تھی کہ ان کا ہر فرد فنِ سپہ گری کا پہلوان تو تھا ہی مگر اس جری قوم کو نہ ہی کوئی ہومر مل سکا جو اس قوم کی بہادری کے قصے کو ایک طویل رزمیہ نظم میں پروتا اور نہ ہی ڈیوڈ بینیوف جیسے کسی مصنف اور نہ ہی وولفگانگ پیٹرسن جیسے کسی ہدایت کار کی نظر اس قوم کے تابناک ماضی پر پڑی کہ وہ اس قوم کے بہادروں

Read more

کلکتہ ریپ کیس اور فیس بکی مخلوق

9 اگست کی صبح 31 برس کی ایک زیرِ تربیت خاتون ڈاکٹر کلکتہ کے مشہور ”آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل“ کے سیمینار ہال میں نیم برہنہ حالت میں مردہ پائی گئی۔ پوسٹ مارٹم سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔ معاملہ جب میڈیا نے اجاگر کیا تو پورا بھارت ہل گیا۔ چھ گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جس کی شناخت سنجے رائے کے نام سے

Read more

ناممکن واپسی کی اذیت

پچیس سال پہلے سردار کول جیت سنگھ سیٹھی کے چچا سردار درشن سنگھ سیٹھی نے کاغذ پر پینسل سے ایک نقشہ بنایا۔ کول جیت سنگھ نے پچیس سال تک وہ نقشہ اس آس پر دل سے لگا کر رکھا کہ زندگی میں ایک دن اس نقشے کی مدد سے وہ اپنے دادا کی بنائی ہوئی حویلی کو ڈھونڈ لیں گے۔ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے سب سے بڑے شہر لاس اینجلس میں مقیم کول جیت کو اپنے خواب کی تعبیر

Read more

دائروں کا سفر – چکوال اور راولپنڈی کے الیکشن کا احوال

وقت اور تاریخ دونوں ہی ظالم ہیں۔ زندگی کے معاملات میں بعض دفعہ وقت انسان کوایک دو راہے پرلا کھڑا کرتا ہے جہاں فیصلہ کرنے کے لیے فقط چند لمحوں کی مہلت ملتی ہے۔ اب یہ اس شخص پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ان چند لمحوں میں سقراط کا رستہ اختیار کرتا ہے یا سقراط کو زہر دینے والوں کا ۔ کراچی کا حافظ نعیم الرحمن بنتا ہے یا چکوال کا سردار غلام عباس۔ یہ فیصلہ کن گھڑی جلد

Read more

وہالی کے سرداروں کی 76سال بعد آمد

بدھ کا دن ( 29 نومبر) چوآسیدن شاہ کی دلربا جھنگڑ وادی میں آباد تاریخی گاؤں وہالی زیر کی تاریخ کا ایک یاد گار اور غیر معمولی دن تھا کہ کل وہالی کے بانیوں کے وارثان 76 سال کے بعد پہلی دفعہ اپنے اس آبائی گاؤں آئے جو کبھی ریاستِ وہالی کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اور جسے 1947 میں ایک بپھرے ہوئے جتھے نے ایک ہزار سے زائد انسانوں سمیت آگ لگا کر بھسم کر دیا تھا۔ بدھ کے

Read more

چکوال مدرسہ کیس – بچوں کے ساتھ جنسی درندگی

”جب میں دو ہفتوں کے بعد ہاتھ میں فروٹ لیے اپنے بچوں سے ملنے مدرسہ جامعہ المصطفی گیا تو میرا بیٹا سامنے آتے ہی مجھ سے لپٹ گیا اور رونا شروع کر دیا۔ میں نے جب بیٹے سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو اس نے بتایا کہ ہمارے استاد حافظ ذیشان اور حافظ انیس نے نہ صرف میرے ساتھ غلط حرکات کی ہیں بلکہ بدفعلی بھی کی ہے۔ میں نے یہاں نہیں پڑھنا، مجھے یہاں سے لے جائیں“ ۔

Read more

کوئے ملامت کو آباد رکھنے والا

عجیب شخص تھا۔ صبح سویرے کتاب اٹھاتا تو شام تک، شام تک کیا رات گئے تک کتاب ہی پڑھتا رہتا۔ بالکل اسی انداز سے دیوتا بیکس کی تعظیم کرتا۔ تارک ہوتا تو لمبے عرصے تک دست کشی اختیار کر لیتا۔ حتیٰ کہ کئی کئی سال گوشت تک نہ کھاتا۔ ہاتھ کی انگلیوں میں پتھر سجائے، دائیں بازو میں کڑے، گلے میں زنجیر، قمیض کے بٹن کھلے، آستینیں چڑھائے یہ خوش لباس باغی ساری زندگی اپنی دھن میں مست رہا۔ لوگ

Read more