مُفتی مُنیب! تیرے صدقے جاواں
کراچی سے ایک معروف اُردو اخبار 17 اپریل 2025 کو خبر شائع کرتا ہے کہ مفتی منیب الرحمان نے بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لفظ اقلیت سے محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے، مسلم پاکستانی اور غیر مسلم پاکستانی ہونا چاہیے۔ اِس سے ہر ایک کے لئے اونرشپ کا احساس پیدا ہو گا، پاکستان میں غیرمسلموں کو جتنے حقوق حاصل ہیں دنیا میں کہیں نہیں۔ بھارت میں 20 کروڑ مسلمان ہیں ایک بھی مخصوص نشست نہیں۔ برطانیہ اور یورپ میں کہیں مسلمانوں کے لیے مخصوص نشست نہیں۔ انھوں نے کہا بغیر کسی ثبوت کے مذہب کی جبری تبدیلی کا الزام لگایا جاتا ہے ”۔
موصوف کا یہ بیان پڑھ کر مُنیر نیازی کے اِس مصرعے کے ساتھ چہرے پر ہنسی سی چھا گئی کہ ”کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں؟“ مفتی صاحب کو اُن کی اس ”ذہانت“ پر فوری جواب دینے کو جی مچلتا رہا مگر عیدِ قیامت المسیح (ایسٹر) اور پاک ہفتہ کی عبادات میں شمولیت کے باعث تاخیر واجبی تھی۔ بہرحال، مفتی صاحب کے بیان پر ہم چند گزارشات پیش کیے دیتے ہیں۔
لفظ ”اقلیت“ دنیا بھر میں تسلیم اور کم تعداد کے افراد کی نشاندہی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق کئی دستاویزات اور معاہدے موجود ہیں جن میں لفظ ”اقلیت“ استعمال ہوا ہے۔ بین الاقوامی قانون تسلیم کرتا ہے کہ تقریباً ہر ملک میں اقلیتیں موجود ہیں۔ لفظ ”اقلیت“ دنیا بھر میں روزمرہ کی زبان میں ایک بڑی آبادی کے اندر ان گروہوں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو نسل، مذہب، زبان یا دیگر خصوصیات کے لحاظ سے وہاں کی اکثریت سے مختلف یا کم ہوتے ہیں۔
المختصر، لفظ ”اقلیت“ ہرگز کوئی گالی، کمتری، دھتکارے جانے یا رد کیے جانے کا احساس نہیں اور نہ ہی اِس سے کسی محرومی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اِسے ”شودر“ کے زُمرے یا معنی میں لینا بھی مناسب نہیں۔ لفظ ”اقلیت“ محض کسی گروہ کی تعداد یا عددی حیثیت بیان کرتا ہے نہ کہ سماجی رُتبہ یا کسی قسم کا کوئی پروٹوکول۔
ہم تو حیراں ہیں کہ مفتی صاحب کے بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس میں ایسا متنازعہ خیال پیش کرنے یا ایسا یک طرفہ نقطہ چھیڑنے کے مقاصد ہی کیا تھے؟ کہ جس میں مذہبی اقلیتیوں کی رائے کو مقدم ہی نہ رکھا گیا ہو۔
مفتی صاحب کی مانند ہم تو کسی کو ”غیر“ قرار دینے کے قطعاً حامی نہیں۔ ”غیر“ قرار دینا ہم وطن شہریوں کے ساتھ آئینی غداری جیسا جرُم ہے۔ کسی کی مذہبی شناخت کو ہی چھپا دینا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے؟ یہ تو ایسے ہی کہ کسی اجتماع میں اعلان کیا جائے کہ ”غیر مرد“ (جو مرد نہیں، گویا مقصد خواتین کو مخاطب کرنا ہے ) اپنی نشستوں پر کھڑے ہو جائیں، یا ”غیر پنجابی“ (جن کا تعلق پنجاب سے نہیں ) ہاتھ اُٹھائیں یا ”غیر جواں افراد“ (جو یقیناً جوانی کی حدیں پار کر چُکے ہوں ) پہلے کھانا کھائیں گے۔ گویا آپ کسی ایک مذہب، یا جنس یا علاقائیت کو باقی سب کی شناخت کا معیار کیسے بنا سکتے ہیں کہ فلاں فلاں اور باقی وہ سب جو فلاں فلاں نہیں ہیں، مطلب کہ جو غیر ہیں۔
سوال تو یہ ہے کہ کسی کو ”غیر“ کہنے یا اُسے اُس نام سے پکارنے جو وہ نہیں ہے، کی بجائے اُسے اُس نام یا شناخت سے ہی کیوں نہ پکارا جائے کہ جو وہ ہے یا جس پر اُسے فخر ہے؟ کسی فرد کو جو وہ نہیں ہے کی بجائے جو وہ ہے پکارنا اخلاقی برتری ہے۔ معلوم نہیں غیر مسلم کی تجویز پیش کرنے کی بجائے شہریوں کو مسیحی پاکستانی، ہندو پاکستانی یا سکھ پاکستانی کہنے سے کہاں درد اُٹھتا ہے؟ تعداد میں کم شہریوں کو کسی ایک اکثریتی مذہب کی پہچان دینے کی بجائے اُنہیں وہی پہچان کیوں نہ دی جائے، جو وہ ہیں۔ اِس سے اُن کا مذہبی پس منظر بھی عیاں ہوتا ہے اور شہریت بھی۔
موصوف کا مسیحیوں، ہندووں اور سکھ پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں ”حاصل حقوق“ پر بھی سر فخر سے بلند ہے۔ لہٰذا اُن تک یہ خبر پہنچانا انتہائی ضروری ہے کہ آئین اقلیتوں کے اعلیٰ ریاستی عہدوں پر انتخاب کی اجازت نہیں دیتا۔ انتخابی نظام میں مساوات کا کلیہ بے کار کی بحث ہے۔ سرکاری محکموں میں مذہبی شناخت اہلیت کا معیار ہے اور دیگر سماجی ذمہ داریوں میں مذہبی اقلیتوں کو تو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جاتا۔ نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم میں اکثریتی اور اقلیتی طلبا کو مساوی حیثیت و حقوق حاصل نہیں ہیں۔ اور تو اور وطنِ پاک میں مذہبی اقلیتوں کے لیے کھیلوں کے میدان بھی ”ممنوعہ علاقہ“ ہیں۔
مفتی صاحب کے علم میں یہ معلومات بھی لانا لازم ہیں کہ بھارت میں ڈاکٹر ذاکر حسین خان نے 1962 سے 1967 تک نائب صدر اور مئی 1967 سے مئی 1969 اپنی وفات تک ہندوستان کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں ہیں۔ اس کے علاوہ فخرالدین علی احمد بھی 1974 سے 1977 تک بھارت کے صدر رہ چکے ہیں۔
محمد اظہر الدین، عرفان پٹھان کے علاوہ محمد شامی، محمد سراج، محمد کیف سمیت درجنوں کھلاڑی اپنی مذہبی شناخت کے باوجود بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل رہے ہیں۔ یہ جاننا بھی فائدہ مندہ ہو گا کہ صادق خان 2016 سے لندن کے میئر کے عہدے پر فائز ہیں۔
اقلیتوں کے مساوی حقوق جوشیلے نعروں، جذباتی تقریروں اور جھوٹے دعووں سے نہیں بلکہ اپنے جغرافیہ میں عملی اقدامات سے ممکن ہیں۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں معلومات محض چند سیکنڈ کی مار ہیں۔ لہٰذا جگ ہنسائی سے بچنے کے لئے جس بات کا مکمل علم نہ ہو اُس پر لب کشائی سے اجتناب کیا جائے نیز اگر کسی نقطہ پر کوئی دعویٰ کرنا مقصود ہو تو اُس پر مکمل تحقیق اور بیان میں صداقت ہونا لازمی ہے۔
باقی رہی بات جبری تبدیلی مذہب کی تو آئیے حضور ہم آپ کو صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے شہر شرقپور شریف میں واقع سُبحان پیپر مِل لئے چلتے ہیں۔ جہاں جبراً تبدیلی مذہب کا شکار وقاص مسیح جس نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تو آج اپنا گلا کٹوا کے اور قوتِ گویائی سے متاثر ہوئے بیٹھا ہے۔ آپ کو وقاص مسیح سے مُلاقات کی دعوت ہے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔


