انصاف جو راکھ میں سے نکلا


Writing and Outlining

آج 21 اپریل 2025 ہے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے ایک ایسی داستان کا آخری ورق رقم کیا ہے جو ہمیں انصاف کی بے نوری مزدور کی خاموشی اور ریاستی بے حسی کے ان اندھیروں میں لے جاتی ہے جہاں روشنی کی ایک کرن کے لیے سالوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔

آصف جاوید اب ہمارے درمیان نہیں لیکن ان کی کہانی اب صرف ایک ذاتی سانحہ نہیں رہی۔ آج جب عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نیسلے آصف جاوید کے ورثا کو 75 لاکھ روپے کی کمپنسیشن دے تو یہ فیصلہ صرف ایک مالی ہرجانہ نہیں یہ ایک اعتراف ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے۔

لیکن کیا واقعی یہ کافی ہے؟

آصف جاوید نے صرف اپنے حق کی جنگ نہیں لڑی وہ اس پورے نظام کے خلاف کھڑا ہوا جو کارپوریشنز کے مفاد میں مزدور کی آواز کو دبا دیتا ہے۔ اس کی خود سوزی نے ہماری اجتماعی نیند کو جھنجھوڑا۔ وہ جلتا رہا اور ہم دیکھتے رہے وہ مرتا رہا اور سسٹم خاموش رہا۔ اور آج جب فیصلہ آیا تو ایک لمحے کو لگا کہ شاید اب کچھ بدلے گا۔

بدلتا تب ہے جب یاد رکھا جائے۔

آصف جاوید کی داستان کو میں نے 12 مارچ 2025 کو تحریر کیے گئے اپنے مضمون میں قلمبند کیا تھا جہاں میں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا انصاف کی دہلیز پر ایک مزدور کی خود سوزی ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے؟ کیا مزدوروں کے حقوق کی بات کرنا جرم بن چکا ہے؟ آج اس سوال کا جزوی جواب ملا ہے لیکن اس سوال کی شدت اب بھی قائم ہے۔

ہمیں آصف جاوید کو یاد رکھنا ہے اس کے چھ بچوں کی آنکھوں میں جھانکنا ہے اس کی بیوہ کی خاموش چیخ سننی ہے۔ یہ فیصلہ انصاف کی پہلی سیڑھی ہو سکتا ہے لیکن آخری منزل تب ہے جب کوئی دوسرا آصف کسی فیکٹری کے دروازے پر اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے اور سسٹم اسے سنے دبائے نہیں۔

اب وقت ہے کہ ہم وہ اتحاد بنائیں جس کا خواب آصف جاوید نے جلتے ہوئے دیکھا تھا مزدوروں کسانوں طلبہ کا اتحاد یہ نظام جو صرف منافع کو دیکھتا ہے اس کے خلاف ایک موثر اتحاد بنائیں کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو اگلا آصف کہیں اور کسی اور کورٹ کے باہر پھر اسی طرح جل جائے گا۔

اور شاید ہم وہ جملہ پھر سے دوہرائیں گے کہ تاخیر انصاف کا انکار ہے۔

لیکن اگر ہم آج کھڑے ہو گئے متحد ہو گئے تو آصف جاوید کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ وہ ایک یاد ایک علامت ایک مزاحمت کا استعارہ بنے گا۔ اور شاید پھر نظام بدلے گا۔

Facebook Comments HS