تقدیر کے دھاگے تتلی کے پر سے بندھے ہیں
کائنات کی سب سے پہلی تتلی کب جنم لی؟ شاید وہ لمحہ جب کسی قدیم سمندر میں پہلا جاندار اپنے جسم کو ہوا میں اُٹھانے کی خواہش سے لرزا۔ ارتقا کے اس طویل سفر میں، تتلی کے پر صرف رنگین کاغذ نہیں، بلکہ کروڑوں سال کی جدوجہد کے نقش ہیں۔ یہ پرند نہیں، ایک سوال ہے۔ ڈارون کا وہ سوال جو ہمیں اپنے وجود کی گتھی سلجھانے پر مجبور کرتا ہے۔
زید کی کہانی اسی سوال کے سائے میں شروع ہوتی ہے۔ وہ اپنی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے، جہاں چاندنی میں ایک تتلی ہوا کے ساتھ رقص کر رہی ہے۔ کیا یہ وہی تتلی ہے جو کسی فلسفی کے خوابوں میں اُڑتی تھی؟ یا وہ جس نے سائنس دان کی ڈائری کے صفحات کو چھوا تھا؟ زید کو نہیں معلوم، مگر اُس کے دل میں ایک اضطراب ہے۔ کیا وہ واقعی اپنی زندگی کا بادشاہ ہے، یا صرف کائنات کے شطرنج بورڈ پر ایک مہرہ؟
صبح سویرے زید کا الارم بجتا ہے۔ اُس کے ہاتھ خودبخود کیتلی کی طرف بڑھتے ہیں۔ چائے یا کافی؟ وہ سمجھتا ہے کہ یہ اُس کا ”انتخاب“ ہے، مگر حقیقت میں اُس کے جینز کا ایک ڈرامہ شروع ہو چکا ہے۔ اُس کے دادا، جو 1920 میں کراچی سے کینیا گئے تھے، وہاں کافی کے کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کے مطابق، ”ہماری ترجیحات ہمارے آبا و اجداد کے سفرنامے ہوتے ہیں۔“ زید کی پسند کی یہ کافی اُس خاندانی کہانی کا ایک باب ہے جو سمندر پار لکھا گیا۔
جب وہ کافی کا پہلا گھونٹ پیتا ہے، تو اُس کے دماغ کے اندر ایک قدیم جنگ چھڑ جاتی ہے۔ ڈوپامائن کا طوفان اُسے جگانے لگتا ہے۔ یہ وہی کیمیا ہے جو اُس کے جنگلی اجداد کو زہریلے پھلوں اور محفوظ پہاڑی چشموں کی تلاش پر اُکساتی تھی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے الفاظ میں : ”ہمارا دماغ ایک میوزیم ہے جہاں ہر خلیہ ماضی کے فوسلز سمیٹے ہوئے ہے۔“ زید سمجھتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے، مگر درحقیقت وہ اپنے نیوران کے ہاتھوں ایک خواب دیکھ رہا ہے۔
دفتر میں اُس کا ساتھی اُس کی رپورٹ پر تنقید کرتا ہے۔ زید کے ہونٹوں پر ایک جملہ آتا ہے : ”میں تمہیں بتاتا ہوں!“ مگر یہ جملہ اُس کا نہیں۔ یہ اُس کے ڈی این اے میں چھپے ہزاروں سال پرانے شکاری کا ہے۔ کو رٹیسول اُس کی رگوں میں دوڑتا ہے، جیسے کوئی پرانا جنگی نعرہ۔ جاوید احمد غامدی نے کہا تھا: ”جذبات ہماری کمزوری نہیں، ہماری بقا کی دستاویز ہیں۔“ زید کا غصہ دراصل اُس کی نسلوں کا تحفہ ہے۔ ایک ایسا تحفہ جو اُسے شیروں سے بچانے آیا تھا، مگر اب میٹنگ رومز میں الجھنوں کا سبب بنتا ہے۔
شام کو زید اپنی محبوبہ کو میسج کرتا ہے : ”تمہاری یاد آ رہی ہے۔“ یہ الفاظ اُس کے ہاتھوں سے نہیں، بلکہ اُس کے ہائپوتھیلمس سے نکلتے ہیں۔ آکسیٹوسن۔ وہ ہارمون جو چھپے ہوئے جذبوں کو رازداں بناتا ہے۔ اُس کے وجود پر چھا جاتا ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ یہی کیمیا انسانوں کو گروہوں میں باندھتی ہے۔ مگر یہ جال صرف کیمیا نہیں، بلکہ اُس کی زندگی کے ان لاکھوں لمحوں کا نتیجہ ہے جب اُس نے محبت کو سیکھا، ٹوٹا، اور پھر سے جوڑا۔
رات گئے، جب زید سونے کی تیاری کر رہا ہوتا ہے، وہی تتلی پھر اُس کی کھڑکی پر آ کر دستک دیتی ہے۔ وہ اُسے دیکھتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ کل وہ اپنی محبوبہ کو کسی کافی شاپ پر بلائے گا۔ مگر تقدیر کے پاس ایک اور پلان ہے۔ صبح اُٹھتے ہی اُسے پتہ چلتا ہے کہ وہ کافی شاپ بند ہے۔ راستے میں ایک تتلی کے پر نے کسی انجن میں الجھ کر ایک بڑی مشین کو روک دیا ہے۔ مولانا وحید الدین خان کا قول یاد آتا ہے : ”تتلی کے پر پر لکھی تقدیر ہمیشہ انسانی منصوبوں کو شرمندہ کرتی ہے۔“
زید اپنے آپ سے پوچھتا ہے : ”اگر میرے تمام فیصلے میرے جینز، ہارمونز، یا کسی تتلی کے پر نے کر دیے، تو پھر میری آزادی کہاں ہے؟“ ڈاکٹر مبارک علی کا جواب اُس کے ذہن میں گونجتا ہے : ”آزادی کوئی حقیقت نہیں، ایک ڈرامہ ہے۔ ہم اس ڈرامے کے کردار ہیں جو اپنی سکرپٹ خود لکھ رہے ہیں۔ “ زید سوچتا ہے۔ شاید یہی ڈرامہ اُس کی انفرادیت ہے۔ اُس کے جینز اُسے کافی پینے پر مجبور کرتے ہیں، مگر وہ اُس کافی شاپ کا انتخاب خود کرتا ہے جہاں اُس کی محبوبہ بیٹھتی ہے۔
زید کی زندگی ایک ناول کی مانند ہے۔ ہر باب میں ایک نیا سوال، ہر موڑ پر ایک نیا چیلنج۔ کبھی وہ اپنے غصے کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، تو کبھی محبت کے کیمیا پر حیران ہوتا ہے۔ اُسے اب احساس ہوتا ہے کہ اُس کی کہانی صرف اُس کی نہیں۔ یہ اُس کے آبا و اجداد کی جدوجہد، تتلی کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ، اور کائنات کے بے نام تصادموں کا مرکب ہے۔
زید نے اب تک ”رضا“ کا مطلب نہیں سمجھا، مگر اُسے یقین ہے کہ یہ تتلی کے پر کی طرح ہے۔ نازک مگر طاقتور، معمولی مگر کائنات کو بدل دینے والا۔
زید اب بھی اُسی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے۔ تتلیاں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں۔ کبھی وہ اُن کے پیچھے بھاگتا ہے، تو کبھی اُنہیں نظموں میں قید کر لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُس کی زندگی پر کئی قوتیں حکمران ہیں : جینیات، کیمیا، حادثات۔ مگر اُس کے پاس ایک ہتھیار ہے۔ وہ اپنی کہانی کو نئے سرے سے لکھ سکتا ہے۔ ڈارون اُسے ”ارتقا کا سوال“ بتاتا ہے، فلسفہ اُسے ”خودی“ کا راستہ دکھاتا ہے۔ زید اِن کے درمیان اپنا راستہ بناتا ہے : ”میں تتلی بھی ہوں، اور طوفان بھی۔“


