امریکہ سے تجارتی جنگ میں چین کی پیش قدمیاں


دنیا کی کل 110 ٹرلین ڈالر کی داخلی پیداوار میں جب صرف دو ملکوں، امریکہ اور چین کا حصہ 48 ٹرلین اور بقیہ 200 ممالک کا حصہ صرف 62 ٹرلین ڈالر ہو اور یہ دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف تجارتی جنگ کا آغاز کر دیں تو عالمی معیشت میں خطرناک بے یقینی کا پیدا ہونا ناگزیر ہے۔

امریکہ اور چین تیزی سے عالمی بساط پر چالیں چل رہے ہیں۔ امریکہ اس جنگ میں جارحانہ طور پر اپنے تجارتی مفادات کا دفاع کر رہا ہے۔ تاہم، چین کی جانب سے اعلانات کم اور اقدامات زیادہ کیے جاتے ہیں۔ چین کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ امریکہ کو اس وقت تین سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ پہلا مسئلہ اس کی معاشی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی خسارے کا ہے جس پر اسے ہر صورت میں قابو پانا ہے۔ دوسرا مسئلہ بجٹ خسارہ ہے اور تیسرا خطرناک مسئلہ تیزی سے بڑھتے ہوئے قرض کا ہے۔ تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرض لینا پڑتا ہے، قرض کی واپسی کی وجہ سے بجٹ کا خسارہ بڑھتا ہے جس کے لیے مزید قرض لیا جاتا ہے۔ یہ ایک شیطانی چکر ہے جس سے نکلنے کے لیے غیر معمولی، غیر روایتی اور ڈبلیو ٹی او جیسے اداروں کے قوانین کی پرواہ نہیں کی جا سکتی۔ امریکہ اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

چین کو اچھی طرح علم ہے کہ اس سے دو طرفہ تجارت میں امریکہ کو 4۔ 295 ارب ڈالر کا خسارہ ہو رہا ہے۔ 2024 میں امریکہ نے چین سے 438.9 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں جب کہ چین کو امریکی برآمدات صرف 143.5 ارب ڈالر تھیں۔ ٹیرف میں اضافہ امریکہ کی ضرورت اور مجبوری دونوں ہے۔ چین اس مسئلے کو زیادہ عرصے تک نہیں ٹال سکتا کیوں کہ اس کے گودام ان مصنوعات سے بھرے ہوئے ہیں جنہیں امریکہ برآمد کیا جانا تھا۔ زیادہ تاخیر کی صورت میں کاروباری کمپنیوں کو بے پناہ نقصان ہو گا، امریکہ کو بھیجنے والا مال بندرگاہوں پر جمع ہے، متعلقہ فیکٹریوں میں پیداوار بند کرنے اور کارکنوں کو عارضی رخصت پر بھیجنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ مزید براں، مصنوعات کی تیاری پر خطیر سرمایہ خرچ ہوا ہے جس کے ڈوبنے کا شدید خطرہ ہے۔ اب چین کو امریکہ کی متبادل منڈیوں کی فوری تلاش ہے کیوں کہ کسی ایک ملک کی مارکیٹ امریکہ کی متبادل نہیں ہو سکتی۔ چین کی معاشی شرح نمو اس وقت پانچ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ اس تجارتی جنگ کے باعث شرح نمو اگر مزید کم ہو گئی تو چین کی معاشی مشکلات بڑھ جائیں گی۔

مذکورہ عوامل کے باعث چین نے خارجہ تعلقات میں پیش قدمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نے سب سے پہلے اپنے تین پڑوسی ملکوں پر توجہ مرکوز کی ہے۔ چین کے صدر شی جن پنگ نے تین ہمسایہ ملکوں کا پانچ روزہ دورہ کیا۔ وہ سب سے پہلے ویتنام کے سرکاری دورے پر گئے چین جس کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ پچھلی ایک دہائی کے دوران چین، ویتنام میں بہت بھاری سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ جو چینی صنعتیں دس سالُ پہلے پاکستان کے انڈسٹریل زونز میں لگنی تھیں وہ ہماری اندرونی سیاسی محاذ آرائی کے باعث نہ لگ سکیں اور ان کا بڑا حصہ ویتنام منتقل کر دیا گیا، جس کی بدولت ویت نام کی برآمدات 405 ارب ڈالر کی قابل رشک حد تک پہنچ گئیں۔ ویتنام نے چین کو 61 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کیں اور چین سے 144 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کیں۔ ویتنام کی سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ امریکہ ہے جسے وہ 136.6 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد اور صرف 13.1 ارب ڈالر کی اشیاء درآمد کرتا ہے۔ جس میں اس کو 123.5 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ صدر شی جن پنگ نے حالیہ دورے میں ویتنام کے ساتھ ریل نیٹ ورک سمیت چالیس بڑے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں تا کہ وہ امریکہ کو چین پر ترجیح نہ دے۔ تاہم، ویتنام بھی جانتا ہے چین کو فوقیت دینے کی صورت میں اسے امریکہ کی جانب سے بہت بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا ہو گا۔ کیا چین اس حوالے سے ویتنام کو ہونے والے نقصان کی تلافی کرنے پر تیار ہو گا؟ یہ وہ سوال ہے جو ویتنام نے چین کے صدر کے سامنے رکھا ہو گا۔ اس امر کا امکان کم ہے کہ چین ایسی کوئی مثال قائم کرے گا کیونکہ اس صورت میں ہر ترقی پذیر ملک اس سے یہی سہولت طلب کرے گا۔ ویتنام کے بعد چینی صدر نے طویل عرصے بعد ملائشیا کا دورہ کیا جہاں ان کا شان دار استقبال ہوا۔ یہ ملک چین کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے میں شامل ہونے والا یہ پہلا ملک تھا اور اس وقت آسیان کی سربراہی بھی اس کے پاس ہے۔ ملائشیا کی آبادی 3 کروڑ 41 لاکھ، جی ڈی پی 488 ارب ڈالر اور فی کس سالانہ اوسط آمدنی 14423 ڈالر ہے۔ اس کی کل برآمدات 440 ارب ڈالر اور درآمدات 300 ارب ڈالر ہیں یعنی اسے 140 ارب ڈالر کا تجارتی فائدہ ہوتا ہے جو اسے معاشی طور پر طاقتور بناتا ہے، چین کا اس کی طرف جھکاؤ کا بڑا سبب بھی یہی ہے۔ ملائشیا، امریکہ کو 14.6 اور چین کو 13.3 فیصد اشیاء برآمد کرتا ہے جب کہ چین سے اس کی درآمدات 30.29 اور امریکہ سے 14.18 فی صد ہیں۔ چین کی کوششں ہے کہ ملائشیا کو برآمدات بڑھا کر امریکہ سے برآمدات میں امکانی کمی کے کچھ حصے کو پورا کر لیا جائے۔ ٹیرف کے معاملے پر چین کے صدر کی سنجیدگی اس امر سے بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں حالیہ غیر ملکی دوروں میں کمبوڈیا کو خاص اہمیت دی ہے۔ کمبوڈیا معاشی اعتبار سے طاقتور ملک نہیں ہے۔ اس کی جی ڈی پی صرف 51.5 ارب ڈالر ہے۔ وہ 26.16 ارب ڈالر کی اشیاء برامد کرتا ہے اور اس کی درآمدات 28.5 ارب ڈالر ہیں وہ امریکہ کو سب سے زیادہ 36.7 فیصد اشیاء برآمد کرتا ہے۔ جب کہ چین سے اس کی درآمدات سب سے زیادہ ( 39.4 فیصد) ہیں۔ چین اور کمبوڈیا کے قدیم تعلقات ہیں۔ چین چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کی تجارت میں امریکہ کی وجہ سے کوئی کمی واقع نہ ہونے پائے۔ امریکہ سے ٹیرف جنگ میں چین اس وقت کسی ملک سے ایک ڈالر بھی کھونے کو تیار نہیں ہے۔ صدر شی جن پنگ نے جن تین ہمسایہ ملکوں کا دورہ کیا ہے ان سے چین کے کئی تنازعات بھی ہیں جن میں بحیرہ جنوبی چین کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ آسیان میں شامل ملکوں کو اس سمندری علاقے پر چین کے موقف سے اختلافات ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ چین مشرقی ایشیائی ملکوں کے تحفظات کو کتنا دور کر سکے گا۔

چین کی بین الاقوامی تجارت کا ایک مشکل پہلو بھی ہے۔ چین سے تجارت میں صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ زیادہ تر ملکوں کو خسارے کا مسئلہ درپیش ہے۔ جس کے مضمرات کا سامنا اسے کرنا پڑ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ جذباتی نہیں بلکہ دانش مند سیاست دان ہیں۔ انہوں نے چین کو ہدف بنا کے ان تمام ملکوں کی سودے بازی کی قوت مضبوط کر دی ہے جن سے چین مذاکرات کرے گا۔ چین ہندوستان سے تعلقات مزید بہتر کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہندوستانی صدر دروپتی مورمو کو صدر شی جن پنگ نے مبارک باد کا جو پیغام بھیجا ہے اس کا متن انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان پر امن بقائے باہمی کی بنیاد پر گہری ہم آہنگی اور تعاون کے خواہاں ہیں۔ چین کی جانب سے چین اور ہندوستان کو تاریخ کی دو عظیم تہذیبوں کے نمائندہ ملک قرار دے کر کہا گیا کہ دونوں کو ایک دوسرے کی کامیابی کے لیے مل کر کام کرنا اور آگے بڑھنا چاہیے۔ صدر شی نے اس تناظر میں کہا کہ چین اور ہندوستان کے درمیان ”ڈریگن۔ ہاتھی ٹینگو“ جیسا رشتہ قائم ہونا چاہیے۔ ٹینگو کو دونوں ملکوں کے مذکورہ علامتی جانوروں کے رقص سے تعبیر کیا گیا ہے، ہندوستان چین سے اپنے سرحدی تنازعات کا دیر پا حل اور اس سے اپنے تجارتی خسارے میں کمی چاہے گا جو اب 100 ارب ڈالر کی خطرناک حد سے تجاوز کر گیا ہے۔

امریکہ نے چین پر ٹیرف بڑھا کر % 245 کر دیا ہے جس کے بعد چین نے ان ملکوں کو خبردار کر دیا ہے جو امریکہ کی خوشامد پر اترے ہوئے ہیں۔ نظر آ رہا ہے کہ چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ ایک بڑی عالمی سیاسی جنگ میں بھی تبدیل ہونے والی ہے۔

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh

One thought on “امریکہ سے تجارتی جنگ میں چین کی پیش قدمیاں

  • 23/04/2025 at 3:44 صبح
    Permalink

    دنیا انتہائی تیزی سے ایک یقینی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
    امریکہ کی معاشی حالت پہلے ہی پتلی تھی۔ ڈی ڈالرائزیشن اور سونے کی ڈالر سے علیحدگی اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ معیشیت دانوں کو عرصے سے امریکی تباہی کی طرف دستک دیتا سنائی دے رہا تھا۔
    کچھ کھیل کرما کا بھی ہوتا ہے۔
    امریکہ نے جس طرح کا سلوک دنیا کے متعدد ممالک بالخصوص مسلمان اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے ساتھ رکھا اور ان کو لگ بھگ تباہی تک پہنچادیا۔ لاکھوں بچے اور افراد موت کے منہ میں چلے گئے حالیہ شام، افغانستان، یمن، مصر، عراق، کبھی ایران، پاکستان، کیوبا، چلی وغیرہ۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر غزہ / فلسطین میں جو کچھ کروایا۔۔۔۔مکافات عمل نے اس کو لپیٹ میں تو لینا ہی تھا اور ہے۔
    جو چاپ آہستہ سنائی دے رہی تھی قبلہ ٹرمپ نے اس کے پیروں میں پہئے فٹ کردیئے ہیں۔
    جدید سائنس کے مطابق امریکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شدید سونامی / سیلاب / ٹائفون کی ویسے بھی زد میں ہے اوپر سے امریکہ نے ماضی میں ڈبلیو ٹی او کے نام سے کبھی جو غنڈہ گردی کی تھی کہ تمام ممالک کو اپنی کسٹم ڈیوٹیاں زبردستی کم کرنی تھیں اس کا ہم جیسے ممالک نے زبردست نقصان اٹھایا۔
    پاکستان کی متعدد مقامی انڈسٹریاں بند ہوگئیں۔
    اب جب اسی تجارتی خسارے کے ناگ نے امریکہ کو لپیٹ میں لیا ہے تو ٹرمپ کی سمجھ میں کچھ نہ آیا اور بجائے گرم سالن آہستہ آہستہ ٹھنڈا کرکے کھاتے یعنی ڈیوٹیاں یا ٹیرف تھوڑا تھوڑا بڑھاتا اس حماقت کو اتنا بڑھا لیا کہ اب اسے نہ اگلتے بن رہا ہے نہ نگلتے۔
    چین تو اس مشکل سے نکل ہی جائے گا۔ وہ کچھ سبسڈی دیکر اس مال کو کسی اور یورپی یا ایشیائی منڈی میں کھپا ہی لے گا۔ ممکن ہے یہ مال کسی تیسرے ملک کی معرفت ری پیک ہوکر چلا جائے۔
    لیکن میں عنقریب امریکہ میں ناگہانی آفات اور دہشت گردی کے حملے ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ فلسطینی عرب، یمن، افغانستان، عراق اور ایران کی طرف سے کچھ نیا ممکن ہے یا امریکی سرزمین پر بھی نہ ہو۔ سمندر یا فضا یا کسی اور ملک میں جہاں امریکہ کے مفادات موجود ہوں۔ اردن، اومان یا قطر میں۔

    چین کے پاس فی الوقت نا صرف قیمتی معدنیات کا ہتھیار موجود ہے بلکہ مجھے لگتا ہے کہ عنقریب چین اور اس کے چند اتحادی ( جاپان یا یورپی) ممالک امریکی بانڈ میں کی گئی سرمایہ کاری کو نکال لیں گے۔ اسی طرح مکن ہے امریکی شیئر بازار سے بھی وہ اپنی سرمایہ کاری نکال لیں۔ یہ امریکی ڈالر اور معیشیت کے لئے بہت بڑا اور ناقابل تلافی جھٹکا ہوگا۔
    ممکن ہے امریکہ اس معاملے میں کچھ چوں چراں کرے مگر اس سے اس پر دوسرے ممالک کا اعتماد اور خراب ہوگا۔

    اگر ان سب کو سمیٹا جائے تو ممکن ہے آئندہ دنوں میں ہم اسرائیل یا امریکہ میں کسی سیاسی راہ نما پر قاتلانہ حملہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے بھی ایران کا پرانا حساب بھی ابھی تک برابر نہیں ہوسکا ہے۔

Comments are closed.