ہو چکیں غزہ میں بلائیں سب تمام


مضمون کے عنوان میں غالب کے مصرع میں بگاڑ کی معذرت لیکن یہ خیال آتا ہے کہ اگر آج کے دور میں وہ زندہ ہوتے تو غزہ کے متعلق کیا سوچتے؟ انہوں نے 1857 کی جنگ آزادی کے دوران ہوئی دلی کی بربادی کا ذکر ایک روزنامچے اور اپنے دوستوں کو لکھے خطوط کی صورت میں کیا تھا؛ 2025 کا غزہ اُنہیں کیسے اظہار پر مائل کرتا؟

میں نے کچھ ہفتے پہلے ایک مضمون میں غزہ میں موجود فلسطینیوں کی اسرائیلی بمباری میں ہلاکتوں کو ’کیا غزہ اپنے پکاسو کی تلاش میں ہے؟‘ میں موضوع بنایا تھا اور 1937 میں سپین کے ایک قصبہ پر فضائی بمباری میں ہوئی اموات سے مماثلت دی تھی۔ بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہلاکتوں سے متاثر ہوئے پکاسو نے اُس قصبہ کے نام پر رکھی گورنیکا نامی پینٹنگ بنائی تھی جو جلد ہی جنگوں میں ظلم و بربریت کا عالمی استعارہ بن گئی؛ سپین کی اُس خانہ جنگی کا اختتام البتہ دوسری جنگ عظیم کا آغاز ثابت ہوا جو خود تاریخ کی سب سے تباہ کن جنگ ٹھہری۔

میں نے اپنے اُس مضمون میں سوال اٹھایا تھا کہ اسرائیل کی اپنی سرحدیں پھیلانے کے جنون کی وجہ سے دہائیوں سے ہو رہی تباہی اور ہلاکتوں پر بہت سے ادیب، شاعر، پینٹر اور جرنلسٹ اپنا احتجاجی رول انتہائی بہادری سے مسلسل ادا تو کرتے آئے ہیں مگر یہ کامیابی نہیں ملی کہ فلسطینیوں کا کوئی بھی احتجاج یا ردعمل بشمول 7 اکتوبر کو غزہ سے حماس کا حملہ اسرائیلی تسلط کا نتیجہ مانا جاتا، تو کیا ایسا سب تخلیقی اظہار بے سود ہی ثابت نہیں ہوا؟

چاہے اس تاریخ کو دہرانا بھی شاید بے سود ہی سہی لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ کیسے 1918 میں منظور ہوا صہیونی منصوبہ 1948 میں اسرائیلی ریاست کی شکل میں سامنے آیا اور اُسکے نتیجہ میں فلسطینی حکومیت کی بنیاد پڑی۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کیسے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر عالمی طاقتوں یا فاتحین نے یورپ کے یہودیوں کو ہزاروں میل دور ایک ایسے علاقہ میں نقل مکانی کی اجازت دے دی جہاں پہلے سے لاکھوں انسان صدیوں سے بسے تھے اور اس تاریخ کے سامنے لیکن یہودی نسلی، مذہبی اور مظلومیت کے بیانیہ کی ایسی دیوار کھڑی ہے جسے آج تک عبور کرنے کی کوئی اخلاقی اور اصولی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔

غالب جن کی نثر اور نظم رنگ و نسل اور قوم و مذہب کی تفریق سے بالاتر انسان دوستی اور حساسیت سے معمور تھی کیا اسرائیل اور اُسکی اتحادی حکومتوں کے علاوہ اکیسویں صدی میں عالمی نظام سے بھی مایوس نا ہو چکے ہوتے؟ اگر اسرائیل کو (بقول اُس کے ) اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے اس قدر ظلم کا سہارا لینا پڑتا ہے اور جس ظلم کو عالمی طاقت کے ایوانوں میں موجود اُس کا حق دفاع گردانتے ہیں تو کیا یہ اسرائیل کے ساتھ عالمی نظام کی ٹھیکیدار مغربی جمہوریتوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کا بھی ثبوت نہیں؟

غزہ میں جاری قتال سے تقریباً ایک سو سال پہلے 1928 میں پیرس میں ایک امن کانفرنس میں بشمول عالمی طاقتوں کے دنیا کے بیشتر ممالک نے اس اصول کو اپنایا تھا کہ طاقت کے زور پر اب کوئی ملک دوسرے پر قبضہ قائم نہیں رکھے گا۔ اُس اصول کا نفاذ حقیقی معنوں میں دوسری جنگ عظیم کے بعد تب سامنے آیا جب فاتحین نے مفتوحہ علاقوں کو اپنے مستقل قبضہ میں نہیں لیا جو پہلی جنگوں میں معمول تھا۔ لیکن اُس اصول سے استثنا کی کچھ مثالیں بھی ہیں جن میں بدقسمتی سے سب سے نمایاں اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر دہائیوں سے مسلسل پھیلتا قبضہ ہے۔

غالب ایسے قبضہ کی نا انصافی پر یقیناً چپ نا رہتے۔ ان کی انسان دوستی اگرچہ ایسی تھی کہ اُن کی 1857 سے متعلق تحریر میں باغیوں کے ہاتھوں بہت سے بے گناہوں کے قتل کے ذکر میں تاسف کے جذبات کو بعض لوگوں نے انگریز دوستی سے تشبیہ دی۔ وہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہوئے حماس کے حملہ میں مارے گئے بے گناہوں کا بھی ایسے ہی تاسف سے ذکر کرتے۔ لیکن جیسے وہ برصغیر کی پہلی جنگ آزادی میں باغیوں کی پسپائی کے بعد انگریزوں کے ہاتھوں ہوئی بربادی کے ذکر سے نہیں چُوکے اسی طرح حماس کی ایک روزہ کارروائی کے جواب میں اسرائیل کی ڈیڑھ سال سے چل رہی بربریت پر بھی نوحہ گر ہوتے۔

اس مضمون سے 7 اکتوبر کو ہوئے حملہ اور غزہ میں ڈیڑھ سال سے چل رہی بربریت یا ظالم اور مظلوم یا محاصر اور محصور میں کوئی برابری قائم کرنا مقصود نہیں بلکہ بلا تفریق قوم و مذہب ایک انسان کے قتل اور امن کے اتنے معاہدوں اور عالمی اداروں کے قائم ہو چکنے کے بعد اب بھی ظلم پر مائل اکیسویں صدی کی انسانیت پر افسوس کا اظہار ہے۔ غزہ کی مثال میں ایسا کہنا خاص طور پر بنتا ہے جہاں اس وقت ہو رہا سب ظلم پہلے بھی ہو چکا ہے۔ 2008 میں ہوئی غزہ کی پہلی جنگ میں بھی اسرائیل پر تمام متعلقہ اداروں اور تنظیموں نے جنگی جرائم کے وہی الزام لگائے تھے جو اب لگائے جا رہے ہیں۔ تب بھی ایک امریکی صدر کی حلف برداری کی خاطر سیزفائر تو ممکن ہوا مگر غزہ کا محاصرہ تب بھی ختم نہیں ہو سکا تھا۔

غزہ کے قیدیوں کا اسرائیلی جیل توڑنے کی کوشش کرنا حیران نہیں کرتا لیکن حملہ میں مظلوموں کو بھی مارنا اور یرغمالی بنانا ناقابل قبول لگتا ہے۔ اسرائیل کا ردعمل حیران نہیں کرتا مگر اُس ایک روزہ حملہ کو بہانہ بنا کر مزید علاقے پر قبضہ اور تمام بین الاقوامی اصول بالائے طاق رکھتے ہوئے عالمی برادری کی پوری آگاہی میں ڈیڑھ سال سے جاری نسل کشی کی مہم میں ہزاروں بے گناہ مردوں عورتوں بچوں کو قتل اور غزہ کے گھروں سکولوں اور ہسپتالوں کو ملبہ کے ڈھیر میں بدل دینا عالمی انصاف کے تصور یا انسانیت سے مایوس کر دیتا ہے۔

اسرائیل کے جنگی جہازوں سے گرائے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں اور میزائلوں کی دن رات کی گرج میں جی رہے بھوکے پیاسے انسان، جو پہلے اپنا گھر بار چھوڑ کر بچوں کو اٹھائے پیدل قافلوں میں میلوں دور کیمپوں میں مہاجر بنے اور اب ایک سیزفائر کی امید میں لوٹ کر دوبارہ اسی بمباری کا نشانہ بن چکے ہیں، یہ نا سوچتے ہوں گے کہ اس زندگی سے وہ اچانک موت اچھی تھی جو انہیں میں سے کچھ کے ماں باپ بچوں رشتہ داروں اور دوستوں کو مل گئی؟ شاید بہت سے فلسطینی پکاسو کی گورنیکا سے واقف ہوں گے، لیکن یقیناً ان میں سے بہت کم جانتے ہوں گے کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے برصغیر کا غالب بھی اپنے اشعار سے مظلوموں کے غم اور بے بسی کی ایک تصویر بنا گیا ہے۔

غالب نے اپنے کلام میں 1857 کے دلی کی بربادی کی جو تصویر کھینچی ہے وہ 2025 میں غزہ کے ملبہ کے درمیان بیٹھے سب کچھ لٹا چکے ہونے والوں کے لئے بھی متعلقہ ہے۔ کوئی کیا کہ سکتا ہے کہ غالب آج کے غزہ کے بارے میں اپنی حساسیت کا اظہار کن الفاظ میں کرتے مگر اُن کی ڈیڑھ سو سال پہلے لکھی نثر و نظم رہتی دنیا کے لئے آسمانی و زمینی طاقت کی منشا کے سامنے انسان کی بے چارگی کا ایک استعارہ تو ہے۔

غالب کے بہت سے اشعار فلسطینیوں کی بے چارگی یا غزہ کی بربادی کے عکاس بن سکتے ہیں۔ یہ اشعار اتنا معانی سمیٹے ہوئے ہیں کہ کسی بدقسمت انسانی تجربہ کا پورا احاطہ ہو جائے اور شاید ایسے کسی انتخاب کا آخری شعر یہ ہو سکتا ہے ؛

ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے

Facebook Comments HS