وقف قانون میں تبدیلی


مارٹن نیمولر اپنی ایک نظم میں کہتا ہے کہ وہ سوشلسٹوں کے پیچھے آئے اور میں خاموش رہا کیونکہ میں سوشلسٹ نہیں تھا پھر وہ ٹریڈ یونین کارکنوں کے پیچھے آئے اور میں خاموش رہا کیونکہ میں ٹریڈ یونین کا کارکن نہیں تھا پھر وہ یہودیوں کے پیچھے آئے اور میں خاموش رہا کیونکہ میں یہودی نہیں تھا پھر وہ میرے پیچھے آئے اور بولنے والا کوئی نہ بچا تھا۔ ہندوستان کے مسلمان اس کی عملی تفسیر ہیں، البتہ وہ خوش قسمت ہیں، کہ ایک ذی ہوش طبقہ ابھی بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کو ساتھ لے کر ہی ان کی داد رسی اور ان کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم ہو سکتا ہے۔

مودی اور اس کی جماعت کو مسلمانوں کا وجود بُری طرح کھٹکتا ہے۔ دیگر اقلیتوں کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ مودی نے بھارت کے مسلمانوں کی نسل کُشی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کی املاک کو بُلڈوز اور ان کی معیشت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔ مختلف حیلوں بہانوں سے ان کا دائرہ حیات تنگ تر کیا جا رہا ہے جس کی تازہ ترین مثال وقف بورڈ ترمیمی بِل ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ نے سو سالہ قدیم مسلم وقف قانون کو رد کر کے ایک نیا قانون پاس کیا ہے۔ سابقہ قانون کے تحت تمام اراکین کا مسلمان ہونا ضروری تھا۔ اب اس میں غیر مسلم اراکین کی شمولیت لازمی کر دی گئی ہے۔ یہاں تک کہ مرکزی وقف کونسل میں 22 میں سے 12 اراکین اور ریاستی وقف بورڈز میں 11 میں سے 7 اراکین غیر مسلم ہو سکتے ہیں۔ نیز ریاستی وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر کا بھی مسلمان ہونا ضروری نہیں۔ یہ نیا قانون کس قدر ظالمانہ ہے اس کی ایک شق کے مطابق اب صرف ایسا شخص ہی وقف یا اسلامی مذہبی و فلاحی مقاصد کے لیے زمین یا جائیداد عطیہ کر سکتا ہے، جو کم از کم پانچ سال سے با عمل مسلمان ہونے کا ثبوت پیش کرے گا۔ وہ دینداری کا ثبوت کیسے فراہم کرے گا اس کی وضاحت نہیں۔ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ وہ پچھلے پانچ سال سے باعمل مسلمان ہے یا اسلام پر عمل پیرا ہونے کا معیار کیا ہے؟ تنگ نظری اور تعصب پر مبنی یہ قانون تضاد ات کا مجموعہ ہے۔ متولی کی وقف جائیداد بیچنے پر دو سال کی سزا کو چھ ماہ اور ناقابل ضمانت جرم کو قابل ضمانت بنا دیا گیا ہے۔ کسی جائیداد پر حکومت اور وقف بورڈ کے تنازع کی صورت می وقف نہیں مانا جائے گا۔ تاریخی طور پراس خطے میں چھ بڑے واقعات رونما ہوئے۔ پہلا 1857 ء کی جنگ آزادی، دوسرا 1920 ء میں گاندھی کی قیادت میں کانگریس کا نیا آئین اور سوراج کا مطالبہ، تیسرا 1947 ء میں تقسیم ہند اور آزادی، چوتھا 1971 ء میں بنگلہ دیش کا قیام ’پانچواں 1984 ء میں سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پر حملہ اور 1992 ء میں بابری مسجد کا انہدام‘ جو دراصل اعتماد کا انہدام تھا۔

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات

مودی حکومت اب تک یہ مسلم دشمن اقدامات کرچکی ہے۔

1۔ متنازعہ شہریت بل جس کے تحت مسلمانوں کو بھارت میں اپنی شہریت ثابت کرنا ہے۔ مسلمانوں کی مزاحمت پر حکومت کو اسے موخر کرنا پڑا۔
2۔ بابری مسجد کو مندر میں تبدیل کر دیا گیا۔
3۔ گائے ذبح کرنے کے الزام میں درجنوں مسلمان شہید کر دیے گئے۔
4۔ لَو جہاد مہم کے ذریعے بیسیوں مسلم نوجوان شہید کیے گئے۔
5۔ دھرم پری ورتن یعنی مذہب کی تبدیلی کی مہم کے تحت مسلمانوں کو ہندو بنانا شروع کیا گیا مگر یہ اسکیم کامیاب نہ ہو سکی۔
6۔ مسلمانوں کو تنگ کرنے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے وقف بل پاس کرایا گیا۔ کئی سیکولر سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ لوک سبھا میں بل کی حمایت میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ آئے۔

جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے
ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اونچا سر دیکھا

وقف ایک خالص مذہبی معاملہ ہے۔ وقف زمینوں کی دیکھ بھال وقف بورڈ کے ذمے ہوتی ہے۔ ان زمینوں کو مدرسے، اسکول، اسپتال، قبرستان، مساجد اور عید گاہ وغیرہ کے قیام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وقف قانون میں 1995 اور 2013 میں تبدیلی کی گئی۔ اب نئی ترمیمات نے بل کی شکل ہی بدل دی ہے۔ نئی ترمیمات کے تحت اب غیر مسلم نمایندے بھی وقف بورڈ کا حصہ ہوں گے۔

کچھ مسلمان یہ سوال کر رہے ہیں کہ جب مسلمانوں کے معاملات میں ہندوؤں کو دخل اندازی کا موقع دیا جا رہا ہے تو پھر مسلمانوں کو بھی ہندوؤں کے مندروں وغیرہ کی زمینوں کے ٹرسٹ میں شامل کیا جائے۔

بی جے پی 15 برس سے مسلم کارڈ کے سہارے ہی حکومت پر قابض ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلم ممالک نے بابری مسجد اور دوسرے سانحات پر چپ سادھے رکھی۔

حادثہ سے بڑا حادثہ یہ ہوا
لوگ ٹھہرے نہیں حادثہ دیکھ

وقف ترمیمی قانون کی منظوری نے اتر پردیش میں تقریباً 98 فیصد وقف جائیدادوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ وقف کی پوری جائیدادوں کا 27 فیصد حصہ اسی صوبہ میں ہے۔ نئے قانون کے تحت وقف جائیدادوں کے فیصلے کا اختیار وقف بورڈ سے منتقل ہو کر ضلع مجسٹریٹ کے پاس ہو گا، ترمیم کا اطلاق ان 57,792 سرکاری جائیدادوں پر ہو گا، جو مختلف اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں اور مجموعی طور پر 11,712 ایکڑ پر محیط ہیں۔ وقف ایکٹ کی منظوری نے مسلم کمیونٹی کو مایوس اور الگ تھلگ کر دیا ہے۔ آئین میں دیے گئے ان کے حقوق نظر انداز کر دیے گئے۔ اس عمل نے مسلم نوجوانوں میں بیگانگی کا احساس پیدا کیا ہے، جو اب اپنے ملک کے سیاسی منظرنامے میں اپنی جگہ کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔

یہ اہل وفا کس آگ میں جلتے رہتے ہیں
کیوں بجھ کر راکھ نہیں ہوتے

حیدر آباد کے ممبر پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ میں کہا یہ وقف ترمیمی ایکٹ بھارت کے مسلمانوں کے ایمان اور عبادت پر حملہ ہے۔ مودی حکومت نے اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے اور یہ جنگ آزادی، سماجی و معاشی سرگرمیوں اور شہریت پر تو تھی ہی، اب مدارس، مساجد اور خانقاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہندو، سکھ، جین اور بدھ مت کے ماننے والوں کی وقف کی گئی جائیدادوں کا تحفظ برقرار رہے گا جبکہ مسلمانوں سے یہ حق چھین لیا گیا ہے۔ اس قانون کے ذریعے شاید مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ان کی حالت ایسی ہو چکی ہے جیسے جنگل میں چرواہا بکریوں کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور ان کی دیکھ بھال بھیڑیوں کے سپرد کر دی گئی ہو جو اس کو شیر سے بچانے کے نام پر خود نوچ رہے ہیں۔ وسط ایشیاء پر روسی قبضے کے بعد سب سے پہلے اوقاف ضبط کیے گئے۔ جب عوام نے چندہ جمع کر کے مسجدیں چلانا شروع کیں، تو چندہ ٹیکس لگایا گیا۔ لوگوں نے اب گھروں میں نمازیں ادا کرنا شروع کیں، مساجد ویران ہو گئیں۔ ایک چیز خوش آئند ہے کہ بھارتی مسلم زعما کو یہ سمجھ آ گئی ہے کہ ان کو کنارے لگایا گیا ہے۔ ورنہ جب ان سے درخواست کی جاتی کہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کچھ ہونٹ تو ہلائیں، تو ان کے منہ کا ذائقہ خراب ہوجاتا تھا۔

Facebook Comments HS