ٹرمپ بے وفا کے نام شِکووں بھرا خط
سنہری بالوں والے کاؤبوائے ڈونلڈ ٹرمپ!
کیسے ہو؟
آج صبح پارک میں واک کرتے ہوئے کووں کی کائیں کائیں سنتے ہوئے تم بہت یاد آئے۔ بس یہ کوے سفید و سرخ رنگ کے نہ تھے۔ جانی! جھوٹے وعدے کرنے والے بڑے بڑے ”پاپڑ“ دیکھے پر تو نے تو سب کا ریکارڈ ہی توڑ دیا۔ نہ تو خان باہر آیا، نہ ٹیرف واپس ہوا، نہ ڈالر آیا، نہ بی بی کا کاسمیٹکس آیا، نہ بابو کے سر پہ بال اُگانے والا تیل آیا، نہ چاکلیٹ بوائے کو لنچ کرایا اور نہ گولفر کو دورے پہ بلایا۔ ”مویا! تُوں تاں نِرا بے اعتبارا تے بے وفا نِکلاں اِیں“ (مر جانے آ! تم تو بہت بڑے بے اعتبارے اور بے وفا نکلے ہو) ۔
ہمارا حال نہ پوچھ۔ اِدھر تو کسان کی گندم دو ہزار روپے من اور سرمایہ دار کی فلور ملز کا آٹا چار ہزار روپے من۔ سیاسی مسخروں کی بستی، چرس مہنگی گندم سستی۔ اچھا، چھوڑ۔ تُو سُنا، اندرون فرید گیٹ قصائی والا پھٹہ کب لگا رہا ہے؟ یار! بڑا منافع ہے اس کاروبار میں۔ تیرا مزاج ویسے بھی اس کاروبار سے ملتا جلتا ہے۔ بڑا نوٹ چھاپے گا تُو۔ بس یہ ذہن میں رہے یہاں جو بھی کاروبار کرو ”صاحب لوگوں“ کو خرچہ پانی دینا پڑتا ہے ورنہ؟ حرام بیچ، حلال بیچ، مردہ بیچ، سب چلے گا۔ یہاں تو لوگ گدھے کے گوشت سے بنی ڈش کھا کر ڈکار نہیں مارتے تُو اگر اُس جانور کا گوشت بھی یہاں بیچے گا جس کا نام لینا یہاں کے لوگ پسند نہیں کرتے تو وہ بھی بِک جائے گا۔ کیا پتہ بِک بھی رہا ہو اور کسی نہ کسی صورت میں لوگ کھا بھی رہے ہوں۔ محلّہ کجل پورے والا چِھیما قصائی تمہیں سلام بول رہا ہے۔ وہ تو کہتا ہے ”ٹرمپ چولستان میلہ میں بچھڑا ہوا میرا گم شدہ بھائی ہے جسے ایک سیاح امریکن جوڑے نے گود لے لیا تھا“ ۔
ٹرمپُو! جہاز میں ڈالرز بھر کر سوئٹزرلینڈ سے تیرا ملک ہمارے ہمسایہ میں ہر ماہ بجھواتا رہا۔ کچھ ہمارا بھی سوچ۔ ہم بھی پچھتر سالوں سے وطن فروش چلے آ رہے ہیں۔ ”سانوں ڈالرز و ِکھا ساڈا مُوڈ بنڑے“ (ذرا ہمیں ڈالرز کی جھلکی تو کراؤ پھر دیکھ ہم تیرے ساتھ کھڑے ہیں یا نہیں ) ۔ اچھا، اُستاد! نصیبو لال کے سنہری بال دیکھ کر بھی مجھے تم یاد آ جاتے ہو۔ ایسا لگتا ہے تم دونوں بہن بھائی ہو۔ ”آپاں دونوں رُس بیٹھے تے مناؤ کون وے۔ پان کھاؤ کون وے“ (ہم دونوں روٹھ بیٹھے تو ہمیں منائے گا کون؟ ) ۔
منصور ملنگی میرے خواب میں آیا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ٹرمپا ایف بی آئی سے تحقیق کرائے کہ
”نی اِک پُھل موتیے دا مار کے جگا سوہنی اے“ (موتیے کا پھول میرے چہرے پہ مارکر جگاؤ میری محبوبہ! ) عارف لوہار نے گایا تھا یا منصور ملنگی نے۔
ٹرمپے! اپریل 2025 کی بہار بھی تیری طرح بے وفا ہوتی جا رہی ہے۔ دیکھ بچے! یہ جو تُو دنیا میں تیسری عالمی جنگ چھیڑنے کی ’شیطانیاں ”کر رہا ہے اس سے باز آ جا۔ اکبر شیخ اکبر تو تُجھے یہی کہے گا کہ اپنے ملک کے عوام کو بھی جینے دے اور باقی دنیا کا سکون بھی برباد نہ کر ورنہ یہی کہا جائے گا کہ تُو دوپہر بارہ بجے کی پیداوار ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے طلباء تمہاری قلابازپالیسیوں کو دیکھ کر تمہارے اوپر ڈارون کی تھیوری ارتقاء کے حوالے سے ریسرچ کرنا چاہتے ہیں۔ جب تم آنا تو میکسیکن ٹاکوز تو لیتے آنا، بدلہ میں راقم تمہیں چوک بازار والا پپو انڈا شامی کھلائے گا ساتھ جامع مسجد الصادق کے سامنے کالا نمک گولی بوتل بھی پلائے گا۔ پورے دو سو ساٹھ روپے تمہارے اوپر خرچ کر دے گا۔ تم بھی کیا یاد کرو گے کسی شیخ سے واسطہ پڑا تھا۔


