بلتستان کی روحانی تاریخ کا امین: شیخ علی برولمو


کہتے ہیں کہ ہر قوم کی تاریخ کچھ ایسے منور چراغوں سے روشن ہوتی ہے جو شبِ دیجور میں رہنمائی و اعانت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ان جگمگاتے چراغوں کی روشنی فقط الفاظ میں نہیں، بلکہ عمل، اخلاق، اخلاص، اور ایثار و قربانیوں میں چھپی ہوتی ہے۔ جنگی محاذ برولمو، بلتستان کا وہ خوب صورت خطہ ہے جہاں فطرت نے جمال کے ساتھ کمال بھی رکھا ہے، مگر ان وادیوں کے بیچ ایک تلخ حقیقت بھی پوشیدہ ہے : ہجرت کی اذیت، سرد جنگ کی دھمک، اور سرحدی کشمکش کا سایہ۔ یہ خطہ وہ ہے جہاں تاریخ نے کئی کروٹیں لیں، اور ہر کروٹ کے ساتھ ایک نیا باب رقم ہوا۔ جس سماج میں ثقافت اور روحانیت ہم آہنگ چلتی ہیں، وہاں ایک ایسی ہستی نے آنکھ کھولی جو نہ صرف دینی و علمی خدمات انجام دیتی رہی، بلکہ سماجی اصلاحات، قومی یکجہتی، اور روحانی تربیت کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑ گئی جو آج بھی اس وادی میں تازہ ہیں۔ وہ ہستی تھے سید شیخ علی برولمو۔ بلتستان کی برفیلی فضاؤں، بلند و بالا پہاڑوں، اور ہجرت کی چٹیل وادیوں میں آج بھی اگر کوئی نام گونج رہا ہے تو وہ شیخ علی برولمو کا ہے۔ شیخ کی زندگی، دینی و سماجی خدمات اور ان کے کرشماتی واقعات اب صرف یادیں نہیں، بلکہ تاریخ کا ایسا زندہ باب ہیں جس پر نسلیں فخر کرتی رہیں گی۔ بوعلی رضوانی کی یہ کتاب صرف ایک فرد کی سوانح نہیں، بلکہ ایک مکمل عہد کی داستان، ایک تہذیب کی جھلک، تاریخ کی یادیں، اور ایک مظلوم قوم کی فکری و روحانی شناخت کا آئینہ ہے۔ مصنف کی اس تصنیف میں وہ سسکتی ہوئی ہجرت کی کہانیاں بھی ہیں جو کارگل محاذ پر بکھری پڑی ہیں، اور وہ امید کی کرن بھی جو شیخ علی جیسے بزرگوں نے جلائی تھی۔

اس تصنیف میں شیخ علی کے خاندانی پس منظر سے لے کر ان کی وفات کے بعد ان کے آستانے پر پیش آنے والے روح پرور واقعات تک سب کچھ نہایت محبت، دیانت اور تحقیق سے بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے بابِ اول میں شیخ علی کے بچپن، تعلیم و تربیت، اور برولمو کے مخصوص خاندانی نظام کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ بابِ دوم میں شیخ علی کی علمی و عملی زندگی کا ایک مکمل عکس پیش کیا گیا ہے، جہاں مدرسے کا قیام، فروغِ عزاداری، اور تعلیمِ نسواں جیسے خوب صورت عنوانات پر ان کی گہری فکر اور عملی کوششیں قاری کو حیرت میں ڈال دیتی ہیں۔ بابِ سوم سماجی جدوجہد سے متعلق ہے، جس میں انجمن سازی، پانی کے نظام میں اصلاحات، اور اتحادِ بین المسلمین کے لیے ان کی بے لوث خدمات کو قلم بند کیا گیا ہے۔ بابِ چہارم بلاشبہ سب سے زیادہ پُراثر اور روح پرور باب ہے، جہاں کرامات، روحانی تجربات، اور ان کے صاحبِ کشف ہونے کے ثبوت قاری کو ایک نئی دنیائے باطن سے آشنا کرتے ہیں۔ ان کی کرامات ایک صدی کے تجربے، دعا کے اثر، اور روحانی قرب کے ایسے نقوش ہیں جن پر عقل حیران اور دل ایمان سے بھر جاتا ہے۔ رات کی فائرنگ کا واقعہ ہو یا جنگی جہازوں کے اوپر ان کا روحانی دعویٰ۔ یہ واقعات محض قصہ کہانی نہیں، بلکہ ان کی روحانی حیثیت کے گواہ ہیں۔ خشک فصلوں کے لیے ان کی دعاؤں سے بارشیں برسیں، بے اولاد جوڑوں کی جھولیاں ان کی دعاؤں سے بھریں، اور کارگل جنگ کے بعد ان کے مزار کے ساتھ پیش آنے والا عبرتناک واقعہ دشمن کے لیے سبق اور اپنوں کے لیے یقین کا استعارہ بنا۔ صاحبِ کشف ہونے کا ذکر اور بلتستان کے ہر طبقے میں ان کے احترام کی جھلکیاں اپوچو شیخ علی کے روحانی مقام کی گہرائیوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہ وہ لمحات ہیں جہاں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں، اور آنکھیں خلوص سے جھک جاتی ہیں۔ بابِ پنجم میں مصنف نے برسی کے واقعات، جلوسِ عزاء، اور برولمو کے ثقافتی خد و خال کو ایسے انداز میں پیش کیا ہے جیسے قاری خود اس منظر میں موجود ہو۔ بابِ ششم ایک تحقیقی رپورتاژ ہے، جس میں مقامی دینی ادارے اور تاریخی اخباری تراشے شامل کر کے اس کتاب کو دستاویزی حیثیت دی گئی ہے۔

یہ کتاب صرف مطالعہ کے لیے نہیں، بلکہ دل کی آنکھ سے محسوس کیے جانے کے قابل ہے۔ برولمو کا ہر پتھر، ہر دریا، اور ہر درخت گویا اس کتاب میں گویا ہول رہا ہے : ”ہم نے اپوچو شیخ علی کو دیکھا ہے، وہ وقت کا ولی تھا!“ تاریخ کے کچھ باب ایسے ہوتے ہیں جنہیں پڑھ کر دل گھبرا سا جاتا ہے، اور برولمو کی بربادی انہی ابواب میں سے ایک ہے۔ وہ گاؤں، جو کبھی اپوچو شیخ علی کی روحانی موجودگی سے جگمگاتا تھا، جہاں جلوسِ عزاء کی صدائیں گونجتی تھیں، جہاں ثقافتی میلے، دینی محافل، اور اجتماعی زندگی کی خوب صورت روایتیں سانس لیتی تھیں، آج ویرانی، خاموشی، اور شکستہ دیواروں کا نوحہ بن چکا ہے۔ سرحدی کشمکش، ہجرت کی مجبوریاں، قدرتی آفات، اور حکومتی بے حسی نے مل کر برولمو کو گویا وقت کے نقشے سے مٹانے کی کوشش کی۔ وہ ندی جو کبھی رزق بہاتی تھی، اب گاد سے بھری ہے۔ وہ راستے جو زائرین کو آستانے تک لے جاتے تھے، اب پتھروں سے اٹے ہوئے ہیں۔ اور وہ مزار، جس پر ہزاروں جھکنے آتے تھے، آج تنہائی کا گواہ بن چکا ہے۔ لیکن ان تمام بربادیوں کے باوجود، اپوچو کی یاد، ان کی تعلیمات، اور ان کی کرامات کی روشنی آج بھی دلوں میں روشن ہے۔ برولمو کی مٹی اب بھی اس عظیم ہستی کی خوشبو سے معطر ہے۔ یہ کتاب صرف ایک بزرگ کا تذکرہ نہیں، بلکہ ایک گاؤں کی تاریخ، ایک قوم کا نوحہ، اور ایک روحانی تسلسل کا دستاویزی چراغ ہے۔ یہ سچ ہے کہ برولمو بکھر گیا، مگر اپوچو شیخ علی کے نقوش ابھی تک مٹائے نہیں جا سکے۔ اور شاید کبھی مٹیں گے بھی نہیں۔ آپ کی ذات بلتستان کے برف پوش پہاڑوں، منجمد وادیوں، اور خاموش سرحدوں کے درمیان ایک چراغ کی مانند روشن تھی، جس کی روشنی نے نہ صرف اپنے گاؤں برولمو کو منور کیا بلکہ ہجرت کے طوفان میں گھری ایک پوری نسل کو راستہ دکھایا۔

بوعلی رضوانی کی یہ خوب صورت تصنیف شیخ علی کی سچی، روشن، اور غیر مصلحت پسند شخصیت کا وہ عکس ہے، جس میں دیانت داری، وفا، ایثار، اور روحانیت کے عکس جھلکتے ہیں۔ بوعلی رضوانی نے نہایت سلیقے، محبت، اور تحقیق کے ساتھ بلتستان کے روحانی مردِ قلندر، درویش صفت ہستی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمیٹ کر سوانح عمری، تاریخ، اور رپورتاژ کی شکل میں ہم سب کے سامنے پیش کیا ہے۔ مصنف کی یہ تصنیف صرف ایک شخصیت کی سوانح نہیں، بلکہ ایک عہد کی داستان ہے۔ کارگل محاذ کے سائے تلے بسنے والے انسانوں کی خاموش چیخ و پکار، ہجرت کی مصیبت، عقیدت کے رنگ، اور عقلیت سے مزین روحانیت کی کہانی ہے۔ شیخ علی برولمو کی دینی و علمی خدمات، بصیرت، عورتوں کی تعلیم و تعلم، حقوق کے لیے صدائے حق بلند کرنا، اور اتحادِ بین المسلمین کی کاوشیں وغیرہ اس تصنیف کا حصہ ہیں۔ کرامات و روحانی مشاہدات کے بیانات، سیاسی فہم و بصیرت، اور عزاداری کی روایتوں میں اُن کی اعانت و رہنمائی سب مل کر ایک ادبی، تہذیبی، اور فکری گلدستہ تشکیل دیتے ہیں، جو ہر ایک کو متاثر کر لیتا ہے۔ مصنف نے اس تصنیف میں شخصی خاکوں، کالمز، تہذیبی لمحات، اور مقامی تاریخ کے نایاب گوشے بھی شامل کیے ہیں، جو نہ صرف دستاویزی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ جذباتی وابستگی کا سامان بھی فراہم کرتے ہیں۔ بو علی رضوانی نے اپنی اس کتاب کی اشاعت میں جلدی کی، اس وجہ سے معمولی حروف کی کوتاہیاں رہ گئیں، تاہم امید ہے کہ اگلی اشاعت تک یہ کوتاہیاں دور کر لی جائیں گی۔ البتہ یہ کتاب اپنے مواد، سادہ اسلوب، خلوص، اور احساس کی شدت کے باعث قارئین کے دلوں میں ان مٹ نقوش چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یقین کیجیے، یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ و جاوید دستاویز ہے۔ اپوچو کی زندگی کے اوراق سے نکلتی روشنی، جو آنے والی نسلوں کو رہنمائی کا چراغ عطا کرتی ہے۔

Facebook Comments HS