ٹیلرنگ شاپ
حسیب الحسن صاحب کو اچانک شام کے چھ بجے یہ اطلاع ملی کہ اُن کے بڑے بھائی نواب قطب الحسن صاحب کل صبح آٹھ بجے کی فلائیٹ سے ائر پورٹ اتریں گے اور ساتھ میں یہ تاکید بھی کی کہ ائر پورٹ پر اُن کا استقبال اُن کے چھوٹے بھائی خود کریں گے ورنہ وہ اُن کے گھر آنے کی بجائے اپنے کسی دوست کے ہاں جاکر چھٹیاں گزاریں گے۔ یہ اطلاع سنتے ہی حسیب صاحب مگر خوش ہونے کی بجائے افسردہ ہو گئے کیونکہ گھر میں اُس وقت ایسا کوئی مناسب سوٹ نہیں تھا جسے وہ پہن کر ائر پورٹ جائیں اور اپنے بھائی کا استقبال کریں۔
اگرچہ گھر میں دوسرے سوٹ پڑے تھے مگر وہ جانتے تھے کہ بڑے بھائی کا مزاج کیسا ہے اور اُن کے استقبال کے لئے کیسا سوٹ زیبِ تن ہونا چاہیے۔ ”اب کیا ہو گا بیگم۔ کوئی ڈھنگ کا سوٹ ہی گھر میں نہیں ہے۔ بھائی نے کسی عام سوٹ میں دیکھ لیا تو وہیں مغلظات بکنا شروع کر دیں گے، خدارا کچھ کرو“ ۔ اُن کی یہ بات سن کر بیگم نے بھی سر پکڑ لیا کہ اتنے مختصر وقت میں نئے سوٹ کا انتظام کیسے اور کہاں سے ہو۔ ”ارے بھائی آپ کمال کرتے ہیں۔ آپ نیا کپڑا خریدیں اور بازار میں گوگو ٹیلرنگ شاپ پہ جاکر میرا اُن کو بتائیں۔ وہ دو سے تین گھنٹوں میں نیا سوٹ سلائی کر کے آپ کو دے دے گا۔ بس اتنی سی بات ہے“ ۔ اُن کے چچا زاد نے چٹکی بجا کر جیسے ہی یہ مسئلہ حل کیا تو اُن کی جان میں جان آئی۔
حسیب صاحب بازار میں ایک دکان سے کپڑا لے کر سیدھا گوگو ٹیلرنگ شاپ پہ جا کر ٹیلر ماسٹر کو اپنے چچا زاد بھائی کا تعارف کروا کے مودبانہ انداز میں عرض کی اُنہیں ہر حال میں یہ سوٹ کل صبح چھ بجے سے پہلے چاہیے تاکہ وہ اطمینان سے پہن کر ائر پورٹ جا سکیں۔ ٹیلر ماسٹر صاحب نے خندہ پیشانی سے وہ سوٹ رکھتے ہوئے اُنہیں اللہ رسول کی قسمیں دے کر یقین دلایا کہ اُن کا سوٹ صبح چھ بجے تیار ہو گا۔ یہاں سے معاملات طے کرنے کے بعد خوشی خوشی گھر پہنچے اور دیگر انتظامات میں مصروف ہو گئے۔
عام دنوں میں وہ گھر کا کام کاج کرنا مرد کی توہین سمجھتے تھے لیکن آج بھائی کے دس سال بعد واپس آنے کی خوشی میں یوں دوڑ دوڑ کر کام کر رہے تھے کہ گھر کا ہر فرد یہ سوچ کر پریشان ہو گیا کہ شاید بھائی کے واپس آنے کی خوشی میں مکمل پاگل ہو گئے ہیں۔ ابھی دیکھیے بھائی کے کمرے میں بیڈ کو شمالا جنوبا رکھ کر پانی پینے آئے تو نہ جانے ذہن میں کیا سمائی کہ پانی کا گلاس وہیں رکھ کر اُس بیڈ کو شمالا جنوبا کی بجائے شرقا غربا بچھا ڈالا۔
ابھی بیڈ بیچارے کی کمر سیدھی نہ ہونے پائی کہ اُس کے اوپر چڑھ کر یوں کودنا شروع ہو گئے جیسے کوئی تین چار برس کا بچہ خوشی سے چھلانگیں مارتا ہے۔ بیڈ پر چھلانگیں مارتے ہوئے جب تھک گئے تو اُس پر یوں لیٹ گئے جیسے کوئی خود کشی کے ارادے سے ریل کی پٹڑی پر لیٹتا ہے۔ ”اے بہن! مانو نہ مانو تمہارا میاں تو پاگل ہو چکا ہے۔ اسے جتنی جلدی پاگل خانے میں داخل کرواؤ گی اُتنا ہی اچھا ہو گا۔ ورنہ کل بڑے بھائی کے سامنے نہ جانے کیا اچھل کود کرتے پھریں“ ۔
اُن کی پڑوسن نے جب بیوی کے کان میں سرگوشی کی تو وہ سہم کر یوں سمٹ گئی جیسے گھر میں کوئی جن آ گھسا ہو۔ اس کے بعد جب حالت کچھ سنبھلی اور خوشی کے دورے کی کیفیت کم ہوئی تو اُن افراد کی لسٹ تیار کرنے لگے جن کو کل اپنے ساتھ ائر پورٹ لے کر جانا تھا۔ ”دیکھو بھئی نور جہاں! میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تمہارا بھائی قمر نہیں جائے گا“ ، اُن کی بیگم نے جب یہ سنا تو کچن میں ہانڈی کو چولہے پر چھوڑ کر چھری اٹھا کر باہر آئیں اور آستینیں چڑھاتے ہوئے پوچھا ”کیوں؟
میرا بھائی کیوں نہیں جائے گا۔ سارا گھر جائے اور صرف میرا بھائی نہ جائے یہ کہاں کا انصاف ہے؟“ ، حسیب صاحب نے جب بیگم کے ہاتھ میں تیز دھار والی چھری دیکھی تو آواز بند ہو گئی۔ ”نہیں میں تو بس ویسے ہی کہہ رہا تھا۔ تم تو جانتی ہو اُنہیں سفر میں الٹیاں آتی ہیں سو۔“ ، وہ ابھی یہیں تک پہنچے تھے کہ بیگم نے ہاتھ میں پکڑی چھری کو ہوا میں لہرایا تو فوراً پینترا بدلتے ہوئے بولے، ”ارے نہیں نہیں۔ میں تو بھول گیا۔
وہ الٹیاں کرنے والا تمہارا نہیں میرا بھائی ہے۔ جائے گا، جائے گا۔ تمہارا بھائی ضرور جائے گا“ ۔ بیگم نے بھائی کی بزنس کلاس میں سیٹ ریزرو کروائی اور پھر کچن میں جب واپس گئی تو اُس وقت تک ہانڈی مکمل طور پر جل چکی تھی جسے فوراً بیسن میں انڈیل کر اُس کی جگہ شلجم کی ہانڈی پھر سے دھر دی گئی۔ حسیب صاحب جب مسافروں کی لسٹ سے فارغ ہوئے تو کل کے مینیو کے اوپر سوچ بچار کر کے اُسے تیار کیا اور پھر بیگم کو دکھا کر ”ہوم منسٹری“ سے باقاعدہ منظوری لے لی تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کی نوبت نہ آئے۔
رات کے وقت ایک عجب گہما گہمی کا عالم تھا۔ حسیب صاحب اور اُن کے بیگم کے بہن بھائی، اُن کے بچے اور بچوں کے بچے صحن میں یوں بیٹھے تھے کہ باہر سے آنے والا بندہ دروازے پہ کھڑا ہو کر یہی سوچتا تھا کہ صحن میں پاؤں کہاں رکھے۔ اس موقع پر آپس میں لفظی تکرار کی معمولی گولہ باری بھی وقفے وقفے سے جاری تھی جس میں کبھی کبھی بھاری ”مغلظات“ کے توپ خانے کا بھی آزادانہ استعمال ہوتا تھا۔ حسیب صاحب کبھی صحن میں اتری مہمانوں کی فوج ظفر موج کو دیکھ کر بڑبڑاتے تو کبھی بھائی کے کمرے میں جاکر سامان کی ترتیب کو بدل ڈالتے تاکہ لہو گرم رہے اور مہمانوں کی گولہ باری سے بھی عافیت نصیب ہو۔ اس دوران ہر گھنٹے بعد گھڑی کو دیکھ کر وقت کا بھی اندازہ لگا لیتے کہ کہیں ایسا نہ ہو چھ بج جائیں اور اُنہیں خبر ہی نہ ہو۔
اگلی صبح پانچ بجے جب گھر سے جوڑا لینے نکلے تو سارا گھر ائر پورٹ جانے کی خوشی میں جلدی جلدی تیار ہو رہا تھا۔ ”ماموں جان جلدی آئیے گا۔ ہم آپ کا انتظار کر رہے ہیں“ ۔ بڑے بھانجے کی بات سن کر مسکرائے اور بازار روانہ ہو گئے۔ تیز تیز قدموں کے ساتھ ہانپتے کانپتے جب ٹیلر ماسٹر کی دکان پر پہنچے تو دکان بند تھی اور آگے یہ بورڈ لکھا تھا ”بوجہ فوتگی دکان تین دن بند رہے گی۔ شکریہ“ ۔ اس بورڈ کو پڑھنے کے بعد تین چار بار پلکوں کو جھپکایا کہ شاید نیند میں ہوں مگر ہر بار وہی بورڈ دکھائی دیتا۔
اس بورڈ کو پڑھ کر پہلے اپنے چچا زاد اور پھر اُس ٹیلر ماسٹر کو وہ موٹی موٹی گالیاں دیں جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتیں۔ وہاں سے واپس آئے تو اپنی آنکھوں کے سامنے عزیز و اقارب گاڑی میں سوار ہوتے دیکھ کر جو دل کی کیفیت ہو رہی تھی اُس کے متعلق اردو زبان میں اب تک وہ الفاظ ہی نہیں بنے جو ترجمانی کر سکیں۔ ”اللہ حافظ ماموں جان! ہم ماموں جان کو ائر پورٹ لینے جا رہے ہیں۔ آپ پیچھے گھر کا خیال رکھیے گا“ ۔


