اقبال شناسی میں ”علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی“ کی خدمات
علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کا قیام 9 نومبر 2009 ء کو لاہور میں عمل میں آیا۔ اس کے روح رواں اور بانی میاں ساجد علی ہیں۔ میاں ساجد علی دورِ حاضر کے اقبال شناسوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ابتدائی طور پر اقبال کے ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا یہ شوق آج ایک نجی سوسائٹی کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ یہ میاں ساجد علی کی اقبال سے والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار ہے۔ دنیا میں علامہ اقبال سے متعلق ڈاک ٹکٹوں کا سب سے بڑا ذخیرہ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کے پاس موجود ہے۔ جب اقبال کے فرزند ڈاکٹر جسٹس جاوید اقبال کو اس بات کی خبر ہوئی تو انھوں نے کہا ”میرا ساٹھ سال کا اقبالیات کا تجربہ ہے لیکن اس طرف ہماری توجہ نہیں گئی“ ۔ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کے پاس اقبال اسٹمپ کے علاوہ خان وادہ ِاقبال سے آفتاب اقبال، جاوید اقبال، شیخ اعجاز احمد اور رشیدہ بیگم کے ہاتھ کی ایک سو سے زائد اصل تحریریں بھی شامل ہیں۔ علامہ اقبال کے ملازم علی بخش کا ایک خط بھی اس سوسائٹی کے پاس محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ شیخ منظور احمد کی بیاض (جس میں انھوں نے اقبال کی فارسی نظموں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے، جس کا ذکر رشیدہ بیگم نے اپنی دو تصانیف میں بھی کیا ہے ) کا قلمی نسخہ بھی علام اقبال اسٹمپ سوسائٹی کے پاس موجود ہے۔ اب ان نوادرات میں علامہ اقبال پر جاری ہونے والے کلینڈر، بیاضیں، قلم، کی چین (Key chain) اور تمغے بھی شامل ہیں۔ میاں ساجد علی کی درخواست پر پاکستان پوسٹ آفس نے تین مرتبہ ڈاک ٹکٹ اور دو مرتبہ سووینیر شیٹوں کا اجرا بھی کیا۔ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کی لائبریری میں صرف اقبالیات پرایک ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی نے اب تک اقبالیات پر چار کتب شائع کر چکی ہیں جس کا مصنف خود اس سوسائٹی کے روح رواں میاں ساجد علی ہیں۔ کتابوں کے نام درجہ ذیل ہیں۔
1۔ منتشر خیالاتِ اقبال ( 2015 ء) 2۔ نقش و نگار ( 2015 ء) 3۔ نگاہِ اقبال میں شانِ فقر ( 2016 ء) 4۔ علامہ اقبال کا تخلص، ایک مطالعہ ( 2022 ء)
علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کے اہم کاموں میں ”اقبال کتاب ایوارڈ“ اور ”لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ“ بھی شامل ہیں۔ اقبال کتب ایوارڈ کی شروعات 2019 ء سے ہوئی۔ اس ایوارڈ کا بنیادی مقصد سال بھر میں شائع ہونے والی اقبالیات کی کتب کا جائزہ لینا اور مصنف اور ناشر کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس سے ان کتب کی تشہیر بھی ہوتی ہے اور اہلِ علم کو نئے موضوعات تک رسائی بھی۔ یہ ایک تاثر ہے طلبا میں کہ اب اقبالیات سے متعلق تمام موضوعات پر کام ہو چکا ہے اور کوئی موضوع بچتا نہیں ہے۔ اس سوسائٹی کا ایک مقصد اس غلط تاثر کو بھی ختم کرنا ہے۔ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی پاکستان کا واحد اور پہلا نجی ادارہ ہے جس نے اقبالیاتی ادب میں کتب ایوارڈ کی شروعات کی اور اس کے اجرا کو یقینی بنایا۔
پہلا اقبال کتاب ایوارڈ ( 2018 ء۔ 2019 ء) ڈاکٹر محمد عارف خان کی کتاب ”مباحثِ خطباتِ اقبال: تشریحات کے ساتھ“ کے حصے میں آیا۔
دوسرا ایوارڈ ( 2019 ء۔ 2020 ء) محمد اعجاز الحق کی کتاب ”اقبال اور شیکسپیئر“ کو جب کہ انگریزی میں ڈاکٹر وحید الزمان طارق کی کتاب ”Iqbal and the sages of the east“ کو ملا۔
تیسرا ایوارڈ ( 2020 ء۔ 2021 ء) ڈاکٹر محمد عارف خان کی کتاب ”کمالِ اقبال اور اکیسویں صدی“ کو جب کہ پنجابی زبان میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی کتاب ”بالاں لئی اقبال“ کو ملا۔
چوتھا ایوارڈ ( 2021 ء۔ 2022 ) ڈاکٹر عروبہ مسرور صدیقی کی کتاب ”کلامِ اقبال میں مابعد الطبیعیات اور صوفیانہ عناصر“ کو، کھوار زبان میں ڈاکٹر رحمت عزیز چترالی کی کتاب ”فکرِ اقبال“ اور ذینش زبان میں خرم الہیٰ کی کتاب ”Menneskets mode med engle I Iqbal poesi“ کو ملا۔
پانچواں ایوارڈ ( 2022 ء۔ 2023 ء) ابو جنید عنایت علی کی کتاب ”دو قومی نظریہ:علامہ اقبال، قائد اعظم اور سید مودودی“ ، کھوار زبان میں ڈاکٹر رحمت عزیز چترالی کی کتاب ”پھوپھوکان اقبال“ اور پنجابی زبان میں ڈاکٹر محمود علی انجم کی کتاب ”امت دا حکیم“ کو ملا۔
چھٹا ایوارڈ ( 2023 ء۔ 2024 ء) ڈاکٹر وحید الزمان طارق کی کتاب ”اقبال: نقش ہائے ہفت رنگ“ اور ڈاکٹر رحمت عزیز چترالی کی کتاب ”سیرا اقبال“ کو ملا۔
علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کے زیرِ اہتمام 2019 ء میں قومی سطح پر مضمون نگاری کا مقابلہ ہوا تھا جس کا عنوان تھا ”علامہ اقبال اور عشقِ مصطفیٰ“ ۔ بہ شمول آزاد کشمیر پورے پاکستان سے چھتیس امیدواروں نے حصہ لیا اور اپنا مضمون پڑھا۔
2019 ء سے ہی اقبالیات کی تاریخ میں پہلی بار ”لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ“ شروع کیا جسے اب تک چھے اقبال شناسوں کو نوازا گیا ہے ۔ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سرکاری یا نجی سطح پر پہلی تنظیم ہے جس نے تمغہ حاصلِ حیات کو متعارف کرایا۔ یہ اُن شخصیات کو دیا جاتا ہے جنھوں نے فروغِ اقبالیات میں ان تھک محنت کی ہے اور اپنی زندگی وقف کی ہے۔ یہ ایوارڈ اُن کے کاموں کو سراہنے کے لیے نجی طور پر ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ جن اقبال شناسوں اور اقبال پرستوں کو یہ ایوارڈ ملا ہے ان کی فہرست درجہ ذیل ہے۔
1۔ امیر حسین ( 2019 ء) 2۔ محمد اقبال بالم ( 2020 ء) 3۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ( 2021 ء)
4۔ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ( 2022 ء) 5۔ ڈاکٹر عبدالرؤف رفیقی ( 2023 ء) 6۔ ڈاکٹر وحید الزماں طارق ( 2024 ء)
2009 ء سے لے کر اب تک علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی نے تقریباً پچاس کے قریب ڈاک ٹکٹوں کی نمایش میں حصہ لیا ہے۔ ان میں سے بعض خود منعقد کرائی ہیں۔ ان نمایشوں میں علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی نے پچاس سے زائد مختلف نوعیت کے میڈل اور سرٹی فیکٹ حاصل کر چکی ہیں۔
علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی نے مختلف موقعوں پر مہر ڈاک اور خصوصی لفافے متعارف کرائے ہیں۔ علامہ اقبال اسٹمپ سوسائٹی کے فیس بک پیج پر روزانہ کی بنیاد پر اقبال کے حوالے سے کوئی نہ کوئی معلوماتی مواد شیئر کیا جاتا ہے۔ جس کا مقصد اقبالیات کو فروغ دینا اور اقبال کی سوچ کو ہر خاص و عام تک پہنچانا ہے۔

