پاکستان اور بھارت کی موجودہ صورتحال اور خطے میں امن کی اہمیت
پاکستان اور بھارت کے تعلقات ایک بار پھر تناؤ کا شکار ہو گئے ہیں، خاص طور پر بھارتی کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد ۔ اس حملے میں 28 سے زائد افراد جان سے گئے، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔ بھارتی حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستانی حمایت یافتہ تنظیم پر عائد کی، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اس واقعے کے بعد بھارت نے سخت اقدامات کیے، جن میں پاکستان کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات میں کمی، سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اور ویزا سروسز کی بندش شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارت نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے بھی پاکستان کے خلاف سخت موقف اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے اور بھارت کی جانب سے کشمیریوں پر مبینہ مظالم کا نوٹس لے۔
انڈین حکومت کل جماعتی اجلاس طلب کرنے جا رہی ہے جس میں حزبِ اختلاف کے رہنماؤں کو حملے کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی اور مزید کارروائی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی خطے میں کل جماعتی اجلاس طلب کر رکھا ہے۔ دوسری جانب آج یعنی جمعرات کے روز پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس انڈین حکومت کے اقدامات پر ردعمل کا تعین کرنے کے لیے ہو گا جن کا اعلان گزشتہ شب کیا گیا تھا۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور خطے میں امن و امان کی صورتحال غیر یقینی ہو چکی ہے۔ عوامی سطح پر بھی جذبات میں شدت دیکھی جا رہی ہے، اور سوشل میڈیا پر بھی دونوں ممالک کے شہری ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہے ہیں۔
جنوبی ایشیا کا خطہ دنیا کے اُن علاقوں میں شامل ہے جو تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ اس خطے کے دو بڑے ممالک، پاکستان اور بھارت، ایک دوسرے کے پڑوسی ہونے کے باوجود طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ آج جب دنیا ترقی، تعاون اور اقتصادی استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے، تب اس خطے میں امن کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
پاکستان اس وقت کئی داخلی اور خارجی چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ اقتصادی بحران، مہنگائی، بیروزگاری اور سیاسی عدم استحکام نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض لینے پر مجبور ہے جبکہ داخلی طور پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی جاری ہیں۔ سیکیورٹی کے لحاظ سے بھی پاکستان کو دہشت گردی کے خطرات اور سرحدی کشیدگی کا سامنا ہے، خاص طور پر مغربی سرحد پر افغانستان کے حوالے سے۔
بھارت میں اقتصادی ترقی کی رفتار نسبتاً بہتر ہے، مگر وہاں بھی داخلی سطح پر کئی مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ سلوک، آزادی اظہار پر قدغنیں، اور سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے داخلی سطح پر چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جہاں بھارت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ 1947 کی تقسیم سے لے کر آج تک کئی جنگیں ہو چکی ہیں، اور کشمیر کا مسئلہ اب بھی بنیادی تنازع ہے۔ حالیہ برسوں میں سفارتی تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے، تجارتی روابط کمزور پڑ چکے ہیں اور عوامی سطح پر بھی ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ فروغ پا رہا ہے۔
خطے میں امن نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لیے ضروری ہے۔ اگر یہ دونوں ممالک اپنے مسائل بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں تو نہ صرف فوجی اخراجات میں کمی آئے گی بلکہ وہ وسائل تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو سکیں گے، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا، سیاحت کو فروغ ملے گا، بین الاقوامی سرمایہ کاری بڑھے گی، عوامی سطح پر میل جول بڑھے گا اور نفرت کم ہوگی۔ امن کے لیے دونوں ممالک کو چاہیے کہ:
باہمی مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔
میڈیا کو ذمہ دار کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے تاکہ نفرت انگیز مواد کو روکا جا سکے۔
تجارتی روابط بحال کیے جائیں تاکہ باہمی انحصار پیدا ہو۔
عوامی سطح پر رابطے کو فروغ دیا جائے۔
پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کی بجائے تعاون اور مفاہمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، اور کسی بھی بڑی جنگ کی صورت میں نہ صرف یہ خطہ بلکہ پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو پیچھے چھوڑ کر امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کا آغاز کیا جائے۔


