اسلامی فوجی اتحاد اور پاکستان کا غیر واضح کردار


پاکستان نے اس بات پر اصرار کیا ہے کہ سعودی عرب کی نگرانی میں بننے والا اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد غیر جانبدار اور کسی ملک کے خلاف نہیں ہے۔ حیرت ہے کہ پاکستان نے نہ تو اس اتحاد کے سلسلہ میں کوئی پیشقدمی کی تھی اور نہ ہی اس کا تصور پاکستانی حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود حکومت پاکستان اس اتحاد کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرنے کو درست پالیسی قرار دے رہی ہے۔ آج وزارت خارجہ کی سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ نے اس بارے میں ایسے ہی رویہ کا مظاہرہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے ارکان کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا ہے کہ پاکستان اس اتحاد میں فریق نہیں ہے اور وہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں توازن برقرار رکھے گا۔ حیرت انگیز بات ہے کہ پاکستان اس اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کرچکا ہے اور حکومت سابقہ آرمی چیف کو اس کی سربراہی کرنے کی اجازت دے چکی ہے ، اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ پاکستان اس معاملہ میں فریق نہیں ہے۔

خارجہ امور پر حکومت کی سب سے نمایاں نمائیندہ کا یہ بیان غیر واضح اور ایران کے ساتھ تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا تھا کہ ایران کو اس اتحاد پر شدید تحفظات ہیں۔ پاکستان نے اس تشویش کا جواب دینے کی بجائے سعودی عرب کی درخواست پر جنرل راحیل شریف کی خدمات اس کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرلیا اور وزیر دفاع نے اس کا اعلان بھی ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے ذریعے کیا۔ اب وزارت خارجہ کی سیکرٹری کے ذریعہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ اتحاد نہ تو کسی ملک کے خلاف ہے اور نہ ہی فرقہ کے خلاف بلکہ یہ صرف دہشت گردی کے خلاف ہے۔ حالانکہ دہشت گردی کی وضاحت اس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ اس معاملہ پر گفتگو اور اقدامات کرتے ہوئے مختلف ممالک اپنے سیاسی مفادات کی روشنی میں فیصلے کرتے ہیں۔ شام میں خانہ جنگی کے دوران یہ تقسیم زیادہ واضح ہو کر سامنے آئی ہے۔ ایران سعودی عرب کو دہشت گرد گروہوں کا سرپرست سمجھتا ہے جبکہ سعودی عرب ایران کے بارے میں ایسے ہی خیالات رکھتا ہے اور شام اور عراق میں اس کی سرگرمیوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔

اس صورت حال میں پاکستان کی حکومت سعودی عرب کے ایک شہزادے کے ایک خواب کے حوالے سے پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ بیان دے رہی ہے۔ سیکرٹری خارجہ کا رویہ اس غیر واضح اور گمراہ کن پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ سعودی عرب جو بین الملکی اتحاد قائم کرنے کی کوششیں کررہا ہے ، وہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہوگا۔ جبکہ ابھی اس اتحاد کا بنیادی ڈھانچہ بھی تیار نہیں ہؤا ہے اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے خود کہا تھا کہ جنرل راحیل شریف کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سب رکن ملکوں کے وزرائے دفاع مل کر یہ طے کریں گے کہ اس اتحاد کو کیسے منظم کیا جائے۔

یہ بات اب تک غیر واضح ہے کہ سعودی عرب نے کس مرحلہ پر پاکستان کے سابقہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی خدمات نئے فوجی اتحاد کے لئے طلب کی تھیں۔ البتہ اس بارے میں نومبر میں جنرل راحیل کی ریٹائر منٹ کے فوری بعد افواہیں گشت کرنے لگی تھیں۔ اب حکومت اس حوالے جس سرگرمی کا مظاہرہ کررہی ہے، اس کی روشنی میں یہ قیاس کرنا غلط نہیں ہوگا کہ اس بارے میں بات چیت جنرل راحیل شریف کے فوج کا عہدہ چھوڑنے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ اس طرح موجودہ حکومت کے سعودی عرب سے قریبی تعلقات کی نوعیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اور اسی لئے ایران کی طرف سے نئے اتحاد میں پاکستان کے کردار کے بارے میں تحفظات بھی سامنے ہیں۔

یہ بات کہی جارہی ہے کہ ایک پاکستانی جنرل اگر نئے اتحاد کا سربراہ ہوگا تو پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوگا۔ اس طرح نئے اتحاد میں پاکستان کے فوجیوں کی بھرتی اور ان کی تربیت کی صورت میں بھی پاکستان استفادہ کرے گا۔ لیکن ان فوائد کو دیکھتے ہوئے یہ بات بھلائی جا رہی ہے کہ سعودی عرب کے علاوہ کسی دوسرے ملک نے ابھی تک اس اتحاد کے حوالے سے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اور اب پاکستان ایک ایسے منصوبہ کی وکالت کرنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی بہت زیادہ علم نہیں ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے غیر واضح کردار کی نشاندہی کرتی ہے جو ایک اہم ہمسایہ ملک کے شبہات میں اضافہ کرے گی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali