کیا قیصر احمد راجہ ”میسنا“ ہے؟


حد سے زیادہ شائستگی اور غلو کی حد تک عاجزی و انکساری کا مظاہرہ کرنے والے لوگ مہان قسم کے کاریگر ہوتے ہیں، سمے کے حساب سے رونے کی اداکاری کرنا، ہنسانے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔

فلسطین کے پس منظر میں قیصر احمد راجہ کا ایک انتہائی سنجیدہ موقف نظروں سے گزرا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ ”پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی اجازت نہیں ہے، اگر حکومت اجازت دے تو میں ضرور جاؤں گا کیونکہ اس وقت جہاد فرض ہو چکا ہے“

اس موقف کے کچھ روز بعد پتا چلا کہ موصوف کے پاس تو ہالینڈ کی نیشنیلٹی ہے اور اسی پاسپورٹ کی بنیاد پر وہ اسرائیل جا سکتے ہیں، یاد رہے کہ اس سے پہلے کسی کو کانوں کان خبر نہیں تھی کہ موصوف ہالینڈ کی نیشنیلٹی رکھتے ہیں، حقیقت منظر عام پر آنے کے بعد اصولی طور پر تو قیصر احمد راجہ کو فی الفور اسرائیل روانہ ہو جانا چاہیے تھا لیکن موصوف نے فوری پینترا بدلا اور موقف اختیار کیا

”ہاں میرے پاس ہالینڈ کی نیشنیلٹی ہے اور اس کی بنیاد پر اسرائیل جا سکتا ہوں لیکن میں اکیلا وہاں جا کر کروں گا کیا“ ؟

اب یہ سب تو دعویٰ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا، یہ تو اس وقت سوچنا چاہیے تھا جب موصوف ضمیر کی آواز پر دکھی دل کے ساتھ ٹسوے بہا رہے تھے اور عوام الناس کے علاوہ حکمرانوں کی ایمانی غیرت کو جگا رہے تھے، جب خود پہ بنی اور ڈچ نیشنیلٹی کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹا تو فوراً کامن سینس بیدار ہو گئی اور پریکٹیکل باتیں شروع کر دیں۔

میسنا بنیادی طور پر کہتے ہی اسی کو ہیں جو بظاہر تو معصوم مگر بباطن چالاک اور مکار ہو، المیہ یہ ہے کہ اس طرح کے لوگ مذہب کا نام استعمال کر کے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ قیصر احمد راجہ یا ان ایسے دوسرے علم الکلام کے جدید مذہبی تشریح کار یا روایتی علماء کرام کیا زمینی حقائق سے آگاہ نہیں ہیں، کیا یہ اپنی ذہنی و دنیاوی استعداد و صلاحیت سے ناواقف ہیں؟

بالکل نہیں جناب! یہ سب جانتے اور سمجھتے ہیں اسی لیے تو ان کے بچے باہر پڑھتے ہیں، یہاں تو یہ ڈیمانڈ اور سپلائی کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔

اوپر دیے گئے دونوں موقف ایک ہی بندے کے ہیں، دونوں میں واضح تضاد آپ خود دیکھ سکتے ہیں، سوال یہ ہے کہ مذہبی شخصیات کے بچے تو یورپ میں پڑھیں، ہائی فائی لائف اسٹائل سے لطف اندوز ہوں اور یورپ کی نیشنیلٹی تک رکھتے ہوں لیکن غریبوں کے بچوں کو یہ مذہبی چورن اسی دھرتی پر رہ کر بیچتے ہوں کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟

کیا آپ کا کام صرف غریبوں کے بچوں کو بیوقوف بنائے رکھنے کا رہ گیا ہے؟

غریبوں کے بچوں کو جنت کے سحر میں مبتلا کیے رکھنا، جہنم سے خوف دلانا اور مردار دنیا سے دور رکھنے کی سعی کرتے رہنا جبکہ اپنے بچوں کو اس سسٹم سے دور رکھتے ہوئے ان کی دنیا و آخرت کو خوب سنوارنا ہمارے مذہبی طبقے کا شیوہ بن چکا ہے۔

قیصر احمد راجہ یا ساحل عدیم ایسوں کو بڑے اچھے سے پتا ہے کہ جذباتیت کی جو مارکیٹ انہیں یہاں میسر ہو سکتی ہے وہ دنیا کے کسی حصے میں میسر نہیں ہو سکتی، یہاں رو دھو کر، جذباتی سی باتیں کر کے اور معصومانہ سی شکل و صورت بنا کر نا صرف سرمایہ دنیا میں اضافہ کیا جا سکتا ہے بلکہ سات نسلوں تک کی دنیا و آخرت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس میں انویسٹمنٹ ندارد جبکہ منافع کئی گنا ہوتا ہے اور گھاٹے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بس وقت کے حساب سے خود کو کیش کروانے کا ڈھنگ آنا چاہیے۔

کسی وقت میں یہاں ننھے پروفیسر کا طوطی بولتا تھا، وطن عزیز کا شاید ہی کوئی تعلیمی ادارہ بچا ہو جہاں ننھے پروفیسر نے اپنا گیان نہ بانٹا ہو لیکن تعمیر خودی کے معاملے وہ بھی مفاد پرست یا میسنا ہی نکلا، اعلیٰ تعلیم کے لیے گوروں کے دیس میں جا بسا۔

Facebook Comments HS