سیاحت کے بعد معدنیات پہ بھی نظر؟ وسائل ہی کیوں مسائل کیوں نہیں؟
گلگت بلتستان جنت نظیر وادی ہے۔ یہاں کے لوگ جفاکش ہیں، محب وطن ہیں اور شریف النفس ہیں۔ ان نعروں سے بہلائے جانے والے نیز ان جذباتی نعروں کے پیچھے بھاگنے والے عوام کا کہنے کو تو وطن گلگت بلتستان ہے۔ مگر کیا اس خطے کے پہاڑ، سیاحتی مقامات، وادیاں بھی یہاں کے لوگوں کے ہیں؟ یہ سوال اس وقت شد و مد کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے اور اس کو ایڈریس کرنا وقت کا تقاضا بن گیا ہے۔ تاریخ شاہد ہے اور قرائن بتاتے ہیں کہ یہاں کے عوام اتنے بھولے بھالے ہیں کہ ہر دفعہ ان کو انہی نعرہ کے پیچھے لگانے والے لوگوں نے لوٹا ہے۔ یہاں تک کہ اب خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ انہیں بے گھر نہ کر دیا جائے۔ آخر وجہ کیا ہے کہ ہم ہر دفعہ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں؟ یا ہم ہر بار خوش فہمی پال لیتے ہیں۔
جب بھی ہمیں پتا چلتا جاتا ہے کہ ہمیں دھوکہ میں رکھا گیا ہے تو ہم سب متحد ہو کر اس چیز کے خلاف آواز اٹھانے میں سر فہرست ہوتے ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہوں گا کہ کچھ ہی وقت گزر نے کے بعد ہم اس چیز کو بھول جاتے ہیں مگر کیوں؟ وجہ کیا ہے؟
گندم سبسڈی کے لئے ہم متحد ہوئے۔ چند مہینوں میں ہم اس کو بھول گئے، سکردو گلگت روڈ پر مجوزہ ٹنلز کے لئے ہم نے احتجاج کیا۔ پھر اس کو بھی بھول گئے۔ ایسی کئی اور مثالیں موجود ہیں مگر کیوں ہم وہی غلطی کر بیٹھتے ہیں؟
آئینی حقوق کے لیے کتنی دفعہ احتجاجی مظاہرے ہوئے اور دھرنے دیے گئے مگر پھر ہم ہمیشہ چھوٹی چیزوں کی خاطر آئینی حقوق کے مطالبے کو بھول گئے۔
گلگت سٹی میں تقریباً 41 روز تک دھرنا جاری رہا اور آخر میں جا کے گندم کی سبسڈی کی خاطر ہم ایک مرتبہ پھر آئینی حقوق کو فراموش کر بیٹھے۔ آخر ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟
جب بھی ہم متحد ہو جاتے ہیں شیعہ سنی فسادات شروع ہو جاتے ہے۔ کیا ہم سب پہلے گلگت بلتستان کے رہنے والے نہیں ہیں؟ کیا ہمیں بنیادی حقوق حاصل نہیں ہونے چاہئیں؟
ہمیں کیوں ہر وقت لڑایا جاتا ہے جب ہم حقوق کی خاطر متحد ہو جاتے ہیں۔ ہمارے بیچ کیوں نفاق پیدا کیا جاتا ہے اور کون یہ پیدا کرتا ہے جب جب شیعہ سنی تفریق بھول کر ہم گلگت بلتستانی بن جاتے ہیں؟
حالیہ ایام میں ایک پروگرام میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے تقریر کرتے ہوئے گلگت بلتستان میں موجود قیمتی معدنیات کا بھی ذکر کیا اور اسے پاکستان کی ترقی میں استعمال کرنے کی تجویز دی۔ اسے پاکستان پر آئی ایم ایف کا قرضہ اتارنے کے لئے بھی اہم قرار دیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو آئینی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ گلگت بلتستان ( متنازع علاقہ ہے آئین پاکستان کے مطابق) کے وسائل کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کرے؟ کیا اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق اس کا جواز موجود ہے؟ کیا اس سے پہلے گلگت بلتستان کے باشندوں کو سارے حقوق دیے گئے ہیں جو ایک متنازع علاقے کو حاصل ہوتے ہیں؟ کیا اس عمل پہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اپنا پالیسی سٹیٹمنٹ جاری کریں گی؟ یا یہ صرف سیاسی معاملات پہ ہی اپنی بیانات دیتے رہیں گی؟
اب ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ شہباز شریف نے ایسا کیوں کہا کہ ہم پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضے اتارنے کے لئے گلگت بلتستان کے بھی قیمتی معدنیات کا استعمال کریں گے۔
کیا بنا ہمارے و زراء کی معاونت فراہم کیے وفاقی حکومت ایسا لائحہ عمل تیار کر سکتی ہے؟ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ صرف ہمارے وسائل ہی پاکستانی حکمرانوں کو نظر آتے ہیں۔ مسائل کیوں نہیں؟
کیا ہمارے نوجوانوں کو ان معاملات کا ادراک ہے؟ پہلے ہی گلگت بلتستان کی سیاحتی صنعت پہ ڈالنے والے اپنا کمند ڈال چکے ہیں۔ گرین ٹورزم کے نام پہ کمپنی چلائی جا رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان ہی کے کچھ سیاست دان اور عاقبت نا اندیش مذہبی و مسلکی مولوی استعمال ہوتے ہیں۔ اب نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ گلگت بلتستان کے پہاڑ بچانے ہیں اور معدنیات کو محفوظ رکھنا ہے تو کسی سیاست دان یا مولوی کا آلہ کار نہیں بننا۔ خود اپنی صفیں منظم کرنی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے ہی اٹھ کھڑے ہونے ہیں۔ سیاست دان اور مولوی ہمیشہ وقت قیام سجدے میں ہی گرے ملے ہیں۔ اور یہ وقت قیام ہے۔


