” اِشپاتا“ کیلاش لوگوں کے بارے میں اُستاد محمد عنایت اللہ سے ایک گفتگو (1)


چترال اور کیلاشی وادیاں

جون 2022 میں گھر والوں کے ساتھ چترال جانے کا اتفاق ہوا۔ کوئی چترال جائے اور کیلاش وادیوں میں نہ جائے بھلا یہ کس طرح ہو سکتا ہے! ہم لوگ بھی تینوں وادیوں : رَمبُور، بِریر اور بَمبوریت گئے۔ وادیٔ بمبوریت میں واقع عجائب گھر بھی دیکھنے گئے۔ ٹکٹ لیتے ہوئے وہاں کیلاشی تہذیب و ثقافت پر ایک کتاب ”اِشپاتا“ دستیاب تھی جو میں نے بخوشی خریدی۔ وہاں پڑھنے کا موقع نہیں ملا البتہ واپس آ کر پڑھی تو بے حد دلچسپ لگی۔ اگلے ہی روز کتاب کے ناشر فیض کتاب گھر نیو بازار، چترال سے فون پر رابطہ کیا کہ مصنف نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ میں اِن کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں۔ یوں کتاب کے مصنف اُستاد محمد عنایت اللہ کا نمبر مل گیا۔ بات آگے چلی اور میں انٹرویو کرنے اُن کے گاؤں ’بُونی‘ پہنچ گیا۔ اُستادِ محترم کیلاش وادی رمبور اور بمبوریت میں سرکاری اسکول میں مدرس تھے اور نہایت عرق ریزی سے وہاں رہ کر ایک ایک چیز کا مشاہدہ کیا تب کہیں جا کر کئی سالوں میں یہ کِتاب لکھی گئی۔ استادِ موصوف سے جہاں اور بہت سے سوالات میرے ذہن میں تھے ایک یہ بھی تھا کہ انہوں نے یہ کتاب ”اِشپاتا“ کیوں لکھی؟ اُستاد محمد عنایت اللہ صاحب کی بات چیت پیشِ خدمت ہے :

” آپ تدریس کے شعبہ میں کیسے آئے؟“ ۔

” جب میں نے بی اے کیا تو میرے والد ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر تھے۔ اُن کی خواہش تھی کہ میں اُس پارٹی کے مرکز میں رہوں۔ اُن کے حکم پر میں نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ، لاہور میں چھ سال شعبہ اطلاعات میں کام کیا۔ سرکاری ملازمت حاصل کرنے کی عمر کی حد میں میرے پاس محض ڈھائی مہینے رہ گئے تھے۔ میری ملازمت قدرت کو منظور تھی۔ میں نے تعلیم کے شعبے میں درخواست دی اور مجھے ملازمت مل گئی۔ میری پہلی تقرری وادی ِ بِریر میں ہوئی۔ یہ کیلاش وادیوں میں ایک پسماندہ وادی ہے۔ وہاں اسکول جا کر میں نے تدریس شروع کر دی“ ۔

” کیا شعبہ تدریس آپ نے اپنی مرضی سے منتخب کیا تھا یا کسی نے کہا کہ ایسا کرو“ ۔

” یہ میں نے خوشی سے کیا۔ مجھے اس کے بعد اور بھی ملازمتوں کی پیشکش ہوئی جیسے آغا خان فاؤنڈیشن، جس کا اُس وقت یہاں آغاز تھا۔ چترال کا ڈپٹی کمشنر اس فاؤنڈیشن کا سربراہ تھا جو میرا ذاتی دوست بھی تھا۔ اُن کے ساتھ چترال میں آسٹریلیا اور برطانیہ کے سفیر آئے۔ دوست نے نظر کو خیرہ کرنے والی نئی نئی گاڑیوں کی چابیاں میرے سامنے رکھ دیں اور کہا کہ اب تم یہ تدریس کا کام چھوڑ دو۔ تمہیں اس سرکاری کام کے 900 روپے ہی تو ملتے ہیں۔ یہ گاڑی لو اور اس فاؤنڈیشن میں سوشل افسر بن جاؤ! میں نے کہا کہ نہیں! مجھے اُستاد ہونا اور پڑھانا بہت پسند ہے۔ آخرِکار وہ دوست غصّہ ہو گیا۔ پوچھنے لگا کہ تمہیں اسکول مدرس بن کر کیا فائدہ ہے؟ میں نے جواب دیا کہ اگر میں اس وادی کے بچوں کو تعلیم دینے میں کامیاب رہا تو یہ میری زندگی کا انتہائی قیمتی سرمایہ ہو گا۔ اور یہ قوم مجھے یاد رکھے گی۔ لہٰذا میں نے اس کو ترجیح دی۔ وہ گاڑی اور 25,000 / روپے تنخواہ، جو 1988 میں بہت بڑی بات تھی، میں نے منظور نہیں کی۔ میں نے تعلیم و تدریس کو ترجیح دی اور الحمدللہ آج یہ قوم مجھ سے محبت کرتی ہے۔ یہ ہی میری زندگی کا سرمایہ ہے“ ۔

” پہلی سرکاری تعیناتی کہاں ہوئی؟“

” میری پہلی تعیناتی وادی بریر میں ہوئی“

” اس وادی میں پہلے دِن اسکول جانا کیسا لگا؟“

” وہ 1988 کی بات تھی۔ اُس وقت تو بہت پسماندگی تھی۔ پہلے ہی دن میں جن گھروں میں گیا وہاں چائے کی پیشکش ہوئی میرا دل وہ برداشت نہیں کر سکا۔ کیوں نہیں کر سکا؟ یہ بات راز میں رہنا چاہیے۔ میرے ساتھ ایک مقامی اُستاد بھی تھے۔ میں نے اُن سے کہا کہ میں تو یہاں ایک گھنٹہ بھی نہیں رہ سکتا! اُنہوں نے کہا کہ تم تو یہاں کے ایسے باسی ہو جاؤ گے کہ پھر اس کو چھوڑنا نہیں چاہو گے۔ بہرحال میں نے صورتِ حال کا مقابلہ کیا اور ذہن کو بنایا۔ پھر میں وہاں مقامیوں کی طرح رہا۔ میرے ذہن اور خیالات کے سامنے کوئی رُکاوٹ نہیں تھی۔ وہاں تو محبت ہی محبت تھی۔ کیلاشی لوگوں کے ساتھ میں نے بھی دل کھول کے صدقِ دل سے محبت کی۔ اپنا مطلب نکالنے کے لئے نہیں! “ ۔

” بریر کے اسکول میں کتنے اساتذہ تھے؟“

” وہاں باہر سے آئے ہم تین اساتذہ تھے! ایک سوات سے اور دو چِترال سے۔ باقی اساتذہ آیون اور دیگر قریبی علاقوں سے روزانہ پڑھانے آتے تھے“ ۔

” اُس وقت طلباء کی تعداد کتنی تھی؟“

” 50 طلباء تھے۔ وہ نیا مِڈل اسکول تھا اور ہم بھی نئے اساتذہ تھے۔ میں وادی کے گھروں میں گیا۔ وہاں یہ بات عام تھی کہ بچوں کے والدین اسکول ٹائم میں بچوں کو لینے آتے تا کہ بچے اُن کی بکریوں کو چَرانے پہاڑوں پر لے کر جائیں۔ ہم منع کرتے لیکن انہیں تعلیم سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ بہرحال ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ میں گھر گھر گیا۔ ہر ایک کی بہت زیادہ تعریف کی اور بچوں کو میں اسکول میں لے آیا اور یہ تعداد 85 تک ہو گئی۔ پھر اس کے بعد ہم نے پابندی لگا دی کہ کوئی بھی بچہ چھٹی کے دن کے علاوہ اسکول سے غیر حاضر نہیں ہو گا۔ میں نے تمام والدین پر زور دیا جس کے نتیجے میں وہ بچے ذوق و شوق سے پڑھنے لگے“ ۔

” کیا کیلاش کے بڑوں کے ساتھ آپ کی سلام دعا اسی سلسلے میں بڑھی تھی یا کوئی اور وجہ بھی تھی؟“

” اس سے پہلے میں نے کیلاش لوگوں کو صرف تصویر میں دیکھا تھا۔ اِن سے کوئی واقفیت نہیں تھی نہ میں اُن کے خیالات اور طرزِ زندگی کے بارے میں جانتا تھا۔ کبھی اُن وادیوں میں بھی نہیں گیا تھا۔ اب وہاں رہتے ہوئے اُن سے پیار کرنا اور اُن کے مفادات کا خیال رکھنا ایک فطری بات تھی۔ پھر صبح سے شام اسکول کے کمرے میں بیٹھ کر انسان کیا کر سکتا ہے۔ وادی بریر بہت چھوٹی اور تنگ وادی ہے۔ لہٰذا لازماً وہاں کے گھروں میں جانا پڑتا۔ ہم نے وہاں جا کر اُن کو محبت دی۔ ہم تین اساتذہ جو وہاں رہتے تھے، ہم تینوں نے تین اُصول بنائے اور اُن پر سختی کے ساتھ عمل بھی کیا: پہلا اصول یہ تھا کہ اِن پسماندہ لوگوں کو ہم نے تعلیم دینی ہے۔ دوسرا اصول یہ تھا کہ ہم شراب نہیں پئیں گے جب کہ وہاں شراب کی فراوانی تھی۔ تیسرا اُصول یہ تھا کہ چوں کہ وہاں عشق و معشوقی کا دور چلتا ہے اس لئے ہم یہ کام نہیں کریں گے۔ ہم اپنے پورے قیام میں ان تینوں اصولوں پر سختی سے کاربند رہے۔ آج وہ قوم ہم تینوں اساتذہ سے بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ پیش آتی ہے“ ۔

” آپ وادی بِریر میں کتنا عرصہ رہے؟“

” میں وادی بِریر میں 1988 سے 1990 تک رہا“ ۔

” اُس کے بعد ؟“

” اُس کے بعد بُونی گاؤں کے اسکول میں آ گیا۔ پھر میں باقاعدہ درخواست دیتا رہا کہ میرا تبادلہ وادی بَمبوریَت میں ہو جائے کیوں کہ میرے سامنے ایک بڑا مقصد تھا۔ محکمے والے میرا تبادلہ چھ ماہ کی مُدت کے لئے کرنے پر رضامند تو تھے لیکن مجھے کم از کم مسلسل ایک سال درکار تھا۔ میں یہ کوشش لگاتار پانچ سال تک کرتا رہا تب کہیں جا کر میرا تبادلہ وادی بَمبوریَت میں ہوا۔ پھر میں یہاں ڈیڑھ سال رہا“ ۔

” کیا اُس وقت ان وادیوں میں آغا خان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کام کر رہی تھی؟“

” اُس وقت اُس نے کام کا آغاز کیا تھا“ ۔

کیلاشیوں پر تحقیق

” کتاب لکھنے کا خیال کب اور کیسے آیا؟“ میں نے سوال کیا۔

” وہ وادی تو بہت تنگ وادی تھی جہاں فُٹبال اور نہ کرکٹ کا انتظام تھا نہ ہی کوئی اور شُغل! اسکول کی چھٹی ہونے کے بعد ایک کیلاش یا مسلمان کے گھر میں ہمیشہ جانا کوئی اچھی بات نہیں تھی لہٰذا میں نے سوچا کہ مصروف رہنے کے لئے ایک شغل پیدا کروں۔ اسی مصروفیت کو سامنے رکھتے ہوئے میں کیلاشوں کے اندر داخل ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ جو کچھ کرتے ہیں میں اپنی آنکھ سے دیکھ کر قلم سے لکھوں گا۔ اس طرح میں نے اس کام کا آغاز کر دیا۔ شروع میں تو میرا کتاب لکھنے کا کوئی مقصد یا ارادہ نہیں تھا کیوں کہ اس کام کے لئے ذخیرہ الفاظ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا لازمی ہے۔ عام آدمی کتاب نہیں لکھ سکتا۔ جب بعد میں دیکھا کہ خاصا ذخیرہ جمع ہو چکا ہے تو سوچا کہ اب اسے کتابی شکل میں شائع کرنا چاہیے۔ یہ مقصد بعد میں بنا“ ۔

” تو کیا پہلے آپ نے صرف تحقیق کی؟“

” جی ہاں پہلے میرے ذہن یہ بات نہیں تھی کہ میں کوئی کتاب لکھوں۔ جب میں بمبوریت میں آیا تو دیکھا کہ میرے پاس بہت زیادہ ذخیرہ ہے اگر کتابی شکل دے دی جائے تو بڑا مزہ آئے گا! بہرحال میں نے حوصلہ کیا کیوں کہ میں نے اِن کیلاشی لوگوں کو قریب سے دیکھا تھا۔ اِن کے بارے میں جو شائع شدہ کتابیں میں نے پڑھی تھیں اُن میں کیلاشیوں کو سماجی، معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے بہت گرا کر پیش کیا گیا تھا“ ۔

” کیا ان کتابوں کے لکھنے والے مصنفین باہر کے تھے یا پاکستانی؟“

” وہ باہر کے لوگ تھے“ ۔

” کیا اُن لکھنے والوں میں کوئی ایسا بھی شخص تھا جو کیلاشیوں کے درمیان رہا بھی ہو؟“ میں نے سوال کیا۔

” ان میں سے کوئی دو دن تو کوئی تین دن رہا۔ کسی سادا کیلاشی کو سامنے بٹھا کر چائے بسکٹ کے ساتھ اُن کے تاثرات لے کر کام چلا لیا۔ یہ تو ایک مسلمہ اصول ہے کہ ایک دیہاتی اور ان پڑھ آدمی کو آپ کچھ دے دلا کر یا کھلا پلا کر باتیں کروا لیں۔ وہ آپ کو خوش رکھنے کے لئے آپ کی حسبِ منشاء باتیں کریں گے۔ اُن کتابوں میں ساری باتیں ایسے ہی لکھی گئی ہیں۔ زمینی حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے“ ۔

22 سال کی تحقیق

” آپ کی کتاب کتنے عرصہ میں مکمل ہوئی؟“ میں نے سوال کیا۔

” یہ 22 سال میں مکمل ہوئی“ ۔
” بائیس سال!“ حیرت سے میرے منہ سے نکلا۔
” میں نے بائیس سال لگا دیے“ ۔

” اس کے لکھنے میں سب سے زیادہ مشکل چیز کیا لگی؟“

” پہلی سب سے مشکل چیز یہ تھی کہ کیلاشوں کی اپنی کوئی مذہبی کتاب نہیں تھی۔ دوسری یہ کہ میری کتاب سے پہلے جتنی بھی کتابیں لکھی گئیں اُن میں کیلاشوں کو اخلاقی لحاظ سے اچھا پیش نہیں کیا گیا۔ تیسری یہ کہ میں جس کے پاس بھی بیٹھا وہ اپنے اعتقاد اور ثقافت کا عالم تھا۔ اب ظاہر بات ہے کہ اتنے سارے لوگ جب اپنے اپنے خیالات رکھتے ہوں تو اُن کو یک جا کر کے ایک کتاب میں سامنے لانا بہت زیادہ مشکل کام تھا“ ۔

” کیا اس بات کا ذکر آپ نے اپنی کتاب میں کیا ہے؟“

” جی ہاں میں نے کیا ہے“ ۔

” وہاں کے بڑے بوڑھوں کے رسم و رواج ایک جیسے تھے یا اختلاف بھی تھا؟“

” نہیں! میں نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ مذہبی پیشوا اور بوڑھے لوگوں کا دامن پکڑوں۔ ایک سے پوچھوں دوسرے سے تصدیق کروں۔ یہ راستہ میرے لئے آسان رہا۔ باقی سارے راستے بہت مشکل تھے۔ کیوں کہ جب انفرادی طور پر میں نے خود یہ آزما کر دیکھا اور چند لوگوں کو علیحدہ علیحدہ بٹھا کر پوچھا کہ آپ کی ثقافت میں خواتین اور شراب کی حیثیت کیا ہے؟ اخلاقی زندگی کیسی ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے ہو بہو ایک ہی جیسی بات کی۔ پھر میں نے سوچا کہ میں بچشمِ خود اِن لوگوں کے درمیان رات دِن رہ کر اِن کا مشاہدہ کروں تو اس کے بعد میں رات اور دن اُن کی محفلوں میں ایک منٹ بھی غیر حاضر نہیں رہا۔ اور میری آنکھوں نے ایسی کوئی باتیں نہیں دیکھی جو دیگر لوگوں نے اِن کے بارے میں کہی یا لکھی تھیں! “ ۔

” کیا کیلاش کا سالانہ اجتماعی تہوار بھی آپ نے دیکھا؟“

” جی ہاں! یہ کیلاش کی دو وادیوں، بمبوریت اور بِریر میں منعقد ہوتا ہے۔ ہر وادی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک بالائی اور ایک زیریں۔ دونوں کی تقریبات الگ الگ ہوتی ہیں۔ لیکن آخری دن وادی کے تمام لوگ اجتماعی ناچ گاہ میں ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ تہوار کا آخری ناچ وہاں کرتے ہیں۔ بمبوریت میں ’کراکل‘ اور ’بُرون‘ کے مقامات پر یہ ناچ ہوتے ہیں“ ۔

” اِن تینوں وادیوں میں سب سے خوش حال کون سی وادی ہے؟“ میں نے سوال کیا۔

” بمبوریت خوش حال ہے“ ۔

” اس کی کیا وجہ ہے؟“

” اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاح یہاں زیادہ آتے ہیں۔ علاقہ بڑا ہے۔ وہاں کی زمین زرخیز ہے۔ پھر وہاں مزدوری کر کے پیسہ کمانے کے ذرائع ہیں۔ ان اسباب کی بنا پر یہاں کے لوگ مال دار ہیں“ ۔

” میں نے تو یہاں ایک بھی غیر ملکی سیاح نہیں دیکھا جب کہ ’الیگزینڈرا ہوٹل‘ بمبوریت والے کہتے ہیں کہ کچھ سال پہلے تک کمرے تو کمرے وہاں کے لان میں کوئی جگہ ایسی خالی نہیں ہوتی تھی جہاں کوئی کیمپ نہ لگا ہو“ ۔

” وہ صحیح کہتے ہیں۔ 1996 سے 1997 تک میں وہاں مسلسل رہا۔ اُس وقت غیر ملکی سیاح بہت بڑی تعداد میں آتے تھے۔ پاکستانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد آتی تھی“ ۔

” اب سیاحوں کے یہاں نہ آنے کی وجہ کیا ہے؟“ میں نے سوال کیا۔

” ایک تو سڑکیں ہیں! یہ اُس وقت بھی خراب ہی تھیں البتہ 2010 میں جو سیلاب آیا اُس نے سارا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ بمبوریت تو بہت خوبصورت وادی تھی لیکن اس سیلاب نے بمبوریت کی صورت بھی بگاڑ دی! اِن کے جانوروں کا بھی بہت زیادہ نقصان ہوا۔ اُن کی زمینیں اور اخروٹ کے درخت بھی بہہ گئے۔ دوسرا سبب کرونا ہے“ ۔

(جاری ہے )

Facebook Comments HS