اپریل انقلاب: جس کے رد کے لئے پاکستان کو جدید ترین اسلحہ اور 5 ارب ڈالرز ملے
اپریل یا ثور انقلاب 27 اپریل 1978 میں نور محمد تراکئی اور حفیظ اللہ امین کی رہنمائی میں برپا ہوا جس نے افغانستان کی معیشت اور سماج کو نئے سرے سے بیان کیا۔
نور محمد تراکئی کسی پہلو سے بھی اتاترک یا لینن سے کچھ مختلف نہ تھے مگر نئی افغانی تاریخ میں ثور انقلاب اور تراکئی کا نام اسی طرح ختم کیا جا رہا ہے جیسے مودی نے مغلوں کا، پاکستان نے مقامی سکھوں اور ہندوؤں کا، اور ہمارے جاگیرداروں نے قائد کے پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کا ذکر سرکاری نصاب سے خارج کیا۔
یہاں اس انقلاب سے پیدا ہونے والی افغانستان میں تبدیلیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
اس انقلاب کا سب سے بڑا اور موثر کام تو Land Reformation تھا، زمینی ملکیت پر بھٹو نے 150 سے 300 ایکڑ کی حد مقرر کی تھی، مگر تراکئی نے جاگیرداروں کی زیادہ سے زیادہ زمین کی ملکیت صرف 15 ایکڑ رکھی، ان اصلاحات سے حاصل زمین افغان چھوٹے کسانوں میں تقسیم کی گئی۔
تراکئی سائنسی بنیادوں پر تبدیلیوں کے حامی تھے لہذا انہوں نے عورتوں کے آئین کے ذریعے مساوی حقوق یقینی بنائے، اور ترجیحی بنیادوں پر عورتوں کی تعلیم اور تکنیکی مہارتوں کے لئے خاص اقدامات کیے۔ بیواؤں کو شادی سے روکنے یا ان کی جبری شادی پر پابندی عائد کی گئی۔ چائلڈ میرج کی فرسودہ روایات سے نمٹنے کے لئے شادی کے لئے عمر کی حد مقرر ہوئی اور شادی کے لئے لڑکا، لڑکی کی رضامندی شرط رکھی گئی۔
سرداری نظام اور ان کی خود ساختہ عدالتوں اور جیلوں کے خاتمے کا فرمان جاری کیا۔ سود کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا اور تمام سودی قرضے معاف کر دیے گئے، ان اقدامات سے لگ بھگ ایک کروڑ دس لاکھ کسانوں کو سود اور جبری مشقت سے نجات ملی۔
آج ہم عورتوں اور چھوٹی بچیوں کی خرید و فروخت کی خبریں سنتے ہیں مگر ثور انقلاب کے بعد اس بھیانک تجارت پر مکمل پابندی لگا دی گئی۔ جہیز کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور مہر مقرر ہوا۔
تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، ڈاک، رہائش اور پانی کو تمام شہریوں کے لئے بلا تفریق یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے گئے جبکہ کسی بھی نوعیت کی صحت اور تعلیم بالکل مفت کردی گئی۔
یہ سب ہونا تھا کہ سامراج متحرک ہوا، انقلاب کے خلاف امریکہ نے پاکستان کے ذریعے ڈالر جہاد شروع کیا۔ جس کے ذریعے بنیاد پرستی، بندوق کلچر اور منشیات کو عام کیا گیا، مغربی سرحدی پٹی پر ڈالر جہاد کے لئے آئے پیسوں سے مدارس و مساجد کا ایک لا متناہی سلسلہ قائم ہوا، ان میں اشتراکیت کے خلاف جو کچھ منبر سے بیان ہوا، اس کی مثال نہیں، ڈالرز کے لئے ہم کسی بھی درجے پر گرنے کو تیار تھے۔ یوں امریکہ اور ضیاء الحق کی فتح، اور انقلاب کا رد کامیاب ہوا۔ طالبان کی حکومت آ گئی۔
کون جانتا تھا کہ اس کے بدلے ہمیں دہشتگردی کی مد میں 70 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قربانی دینی پڑے گی اور 150 ارب ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ہم تو جی حضوری کے قائل تھے اور ہیں۔




سستے نشے کے بھیانک اثرات
لکھنے والا شاید سمجھتا ہے کہ پڑھنے والا کم عقل اور بے شعور ہے
کچھ جملے لکھاری کو بہ آسانی پیکا کی گرفت میں لاسکتے ہیں۔