کھانسی، اس کی وجوہات، علاج اور احتیاط
ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے والے مریضوں کی ایک بڑی تعداد بخار کے بعد کھانسی کے مریضوں کی ہوتی ہے۔ بخار کی طرح کھانسی بھی ایک علامت ہے اور بذات خود کوئی بیماری نہیں ہے۔ لیکن بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کھانسی کا علاج نہ تو اینٹی بایوٹکس اور نہ ہی کھانسی روکنے والی دوائیں ہیں۔ بلکہ اکثر اوقات یہ دوائیں بجائے فائدہ کے نقصان پہنچا سکتی ہیں اور پہنچاتی بھی ہیں۔ کھانسی اس وقت تک ٹھیک نہیں ہو سکتی جب تک اس کی وجہ کا علاج نہیں ہوتا یا اس کی وجہ ختم نہیں ہوتی۔ کھانسی روکنے والی دوائیں عام طور پر بچّوں کے لئے خطرناک ہوتی ہیں اور ان دواؤں سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ کھانسی کی وجہ کا پتہ لگانا یا معلوم کرنا بھی انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ میرے پاس اکثر ایسے مریض آتے ہیں جو اکثر مختلف کھانسی روکنے والے شربت اور اینٹی بایوٹکس استعمال کرچکے ہوتے ہیں اور کھانسی ختم نہیں ہوتی کیونکہ کسی نے کھانسی کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی ہوتی۔ اسی لئے کھانسی کا صحیح علاج کرنے کے لئے اس کی وجہ کا معلوم کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ بخار کی طرح کھانسی بھی عارضی یعنی کم دورانیہ کی یا دائمی یعنی زیادہ دورانیہ کی ہو سکتی ہے اور دونوں کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔
کھانسی کی وجوہات
چونکہ کھانسی کا تعلق نظام تنفّس سے ہے اس کی اکثر بیماریاں کھانسی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ بیماریاں ناک سے لے کر پھیپھڑوں کے آخری حصّہ تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں کی وجوہات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔
1۔ جراثیمی بیماریاں یا انفیکشن جو نظام تنفّس کے کسی بھی حصّہ میں ہو سکتی ہیں۔
2۔ دمہ
3۔ نظام تنفّس میں پیدائشی خرابیاں اور جینیاتی بیماریاں
4۔ پھیپھڑوں میں ہونے والی مستقل تبدیلیاں جو انفیکشن یا انفیکشن کا بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے یا کچھ دوسری وجوہات کی بنا پر ہو جاتی ہیں۔ ان میں بیرونی اشیاء جیسے مونگ پھلی، بادام، مٹّی کا تیل یا مچّھر مار دواؤں کا سانس کی نالی میں چلے جانا وغیرہ شامل ہیں۔
1۔ جراثیمی بیماریاں : ان بیماریوں میں سب سے عام ناک اور گلے کے انفیکشن ہوتے ہیں جو مختلف وائرس کی وجہ سے ہوتے ہیں اور نزلہ، زکام اور کھانسی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ بخار بھی ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں ہے۔ اس انفیکشن کے ٹھیک ہونے میں عام طور پر ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے کسی اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ صرف علامتی علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بعد گلے اور ٹانسل کا انفیکشن، سانس کی نالی کا انفیکشن یعنی برونکائیٹس اور نمونیا کھانسی کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ انفیکشن وائرس اور بیکٹیریا دونوں سے ہو سکتے ہیں۔ اس لئے اس کے علاج کے لئے اکثر اینٹی بایوٹکس کی ضرورت ہوتی ہے مگر ہمیشہ نہیں ہوتی۔ تاہم گلے اور ناک کا انفیکشن زیادہ تر مختلف وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے لئے اینٹی بایوٹکس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اس کا فیصلہ کرنے کے لئے ڈاکٹر کا معائنہ کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح نمونیا بھی زیادہ تر بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے اور جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کے علاج کے لئے اینٹی بایوٹکس ضروری ہوتی ہیں۔ نمونیا کی تشخیص کے لئے ایکسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم اس کا اندازہ گھر پر ایک عام آدمی بھی لگا سکتا ہے۔ اس کے لئے دو چیزیں دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک سانس کی رفتار جو بچّوں میں عمر کے مطابق مختلف ہوتی ہے اور دوسرا پسلیوں کے نیچے گڑھے پڑنا جسے عرف عام میں پسلیاں چلنا کہتے ہیں۔ سانس کی رفتار پیدائش سے دو ماہ کی عمر تک زیادہ سے زیادہ 60 مرتبہ فی منٹ ہوتی ہے۔ ایک سال سے کم عمر کے بچّوں میں 50 مرتبہ فی منٹ اور ایک سال سے 5 سال کی عمر کے بچّوں میں زیادہ سے زیادہ 40 مرتبہ فی منٹ ہوتی ہے۔ اگر کسی بچّے میں بخار اور کھانسی کے ساتھ سانس کی رفتار اس بیان کردہ رفتار سے زیادہ ہو یا سینے میں گڑھے پڑتے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ اسے نمونیا ہے۔ اس بچّے کو جلد از جلد ڈاکٹر کو دکھانا اور مناسب اینٹی بایوٹکس کا استعمال کرنا اس کی جان بچانے کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک سال سے کم عمر کے بچّوں میں ایک خاص وائرس کا انفیکشن ہوتا ہے جسے ”آر ایس وی“ وائرس کہتے ہیں اور اس وائرس سے ہونی والی بیماری کو ”برونکیولائٹس“ کہتے ہیں۔
دائمی یا مستقل کھانسی اکثر دو بڑے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ایک کالی کھانسی اور دوسرے ٹی بی۔ کالی کھانسی اکثر کئی مہینے تک چلتی ہے۔ اس میں کھانسی دوروں کی شکل میں ہوتی ہے اور پھر الٹی بھی ہوجاتی ہے۔ ان دوروں کے درمیان کھانسی نہیں ہوتی۔ بار بار الٹی ہونے کی وجہ سے اکثر بچّہ کا وزن بھی کم ہوجاتا ہے۔ اور کبھی کبھی جسم میں پانی کی کمی بھی ہوجاتی ہے۔ البتّہ بڑے افراد میں مستقل کھانسی ٹی بی کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے جس کی تشخیص اور علاج بہت ضروری ہے۔ اگر کسی شخص کو تین ہفتے سے زیادہ کھانسی ہو تو ٹی بی کا خدشہ دور کرنا ضروری ہوتا ہے۔
2۔ دمہ: اکثر مستقل یا بار بار ہونے والی کھانسی کی ایک وجہ دمہ ہوتی ہے جس کے لئے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہے۔ اس لئے اسے آئندہ کسی مضمون میں بیان کیا جائے گا
3۔ پیدائشی اور جینیاتی بیماریاں : کچھ پیدائشی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن میں پھیپھڑوں کی بناوٹ صحیح نہیں ہوتی۔ یا پیدائشی قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے بار بار انفیکشن اور نمونیا ہوتے ہیں یا جینیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مستقل کھانسی رہتی ہے۔ ان بیماریوں میں ”برونکی ایک ٹیسس“ اور ”سسٹک فائبروسس“ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی تفصیل بھی کسی اور مضمون میں بیان کی جائے گی۔
کھانسی کی وجوہات کی تشخیص:
کھانسی کی وجوہات کی تشخیص کے لئے بھی مریض یا بچّے کے والدین کا بیان یعنی ہسٹری اور مریض کا معائنہ بہت ضروری ہے۔ اس میں ناک کان گلے اور سینے کا معائنہ شامل ہے۔ جیسے اوپر بیان کیا گیا ہے کہ بچّے کی سانس کی رفتار چیک کرنا بہت اہم ہے۔
جہاں تک ٹیسٹ کا تعلق ہے اس میں گلے اور خون کا کلچر اور ناک بشمول چہرے اور سینہ کے ایکسرے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ کلچر سے جراثیم اور ان کے خلاف کارآمد اینٹی بایوٹک کی پہچان اور نمونیا کی تصدیق کی جاتی ہے۔
کھانسی کا علاج:
ایک بار میں اس بات پر دوبارہ زور دوں گا کہ اینٹی بایوٹکس کھانسی روکنے کی دوا نہیں ہے۔ یہ صرف اسی صورت میں کار آمد ثابت ہوگی جب کھانسی کی وجہ بیکٹیریا ہوں۔ کھانسی روکنے والی دوائیں اور شربت بھی زیادہ کار آمد ثابت نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھی نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ ان کے استعمال سے بلغم پھیپھڑوں میں نیچے کی طرف چلا جاتا ہے اور سانس کی نالی میں رکاوٹ پیدا کر دیتا ہے۔ اس لئے ایسے شربتوں کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔
ان کے علاوہ ایک اور علاج بہت عام ہو گیا ہے وہ نیبولائزیشن ہے۔ میرے پاس اکثر بچّے آتے ہیں جن کے والدین کہتے ہیں کہ انہوں نے کھانسی کا شربت، اینٹی بایوٹکس اور نیبولائزیشن کا استعمال کر لیا ہے لیکن کھانسی ٹھیک نہیں ہو رہی۔ کیوں کہ کھانسی کی وجہ ناک اور گلے کا وائرل انفیکشن یعنی فلو ہوتا ہے یا پھر دمہ ہوتا ہے۔ نیبولائزیشن مخصوص دواؤں کے استعمال کے ساتھ کچھ مخصوص بیماریوں جیسے دمہ کا بہترین علاج ہے مگر ہر کھانسی کا علاج نہیں ہے۔ خاص طور پر سادے نمک کے پانی یعنی نارمل سیلائن سے نیبولائز کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ وقت، پیسوں اور بجلی کا ضیاع ہوتا ہے۔
کھانسی میں غذا کا استعمال:
چونکہ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ کھانسی کی وجہ سردی اور ٹھنڈ ہے اور مختلف غذاؤں کو ٹھنڈا اور گرم سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ یہ خیال طبّی طور پر قطعی صحیح نہیں ہے۔ کھانسی کے دوران مختلف غذائیں بند کردی جاتی ہیں۔ ان میں چاول اور چاول سے بنی ہوئی مختلف چیزیں، آئس کریم اور فرج میں رکھی ہوئی دیگر ٹھنڈی چیزیں شامل ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ وائرل انفیکشن سردیوں کے موسم میں زیادہ ہوتے ہیں لیکن سردی کا کھانسی سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ٹھنڈی چیزوں کے کھانے سے کھانسی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چاول کا بھی کھانسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ چھوٹے بچّوں کو چاول سے بنے کھانے کھانا زیادہ آسان ہوتا ہے۔ اگر یہ غذائیں بند کردی جائیں تو غذائی کمی اور کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔ اس لئے بچّے کو کھانسی کے باوجود ہر قسم کا کھانا جو وہ بہ آسانی کھا سکتا ہے دے دینا چاہیے۔ اکثر کھانسی کے مریض بچّوں کے والدین کہتے ہیں کہ بچّہ آئس کریم یا بریانی مانگ رہا ہے اور ہم نہیں دے رہے۔ جب میں کہتا ہوں کہ بچّے کو یہ چیزیں دے دیں تو والدین حیران ہوتے ہیں اور بچّہ خوش ہو جاتا ہے۔
کھانسی سے بچاؤ:
کھانسی سے بچاؤ کے لئے دو باتیں بہت اہم ہیں۔ پہلی بات حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا ہے۔ کھانسی کے مریضوں کو کھانستے وقت منہ پر رومال یا کوئی کپڑا رکھنا چاہیے تا کہ جراثیم ہر طرف نہ پھیلیں اور دوسرے افراد کو بیمار نہ کریں۔ دوسری بات یہ کہ بچّوں اور بوڑھے افراد کو حفاظتی ٹیکے لگوائیں۔ بچّوں کو عمر کے پہلے دو سال میں لگنے والے کالی کھانسی، نمونیا اور خسرہ کے ٹیکے ضرور لگوائیں اور دمہ کے مریضوں کو فلو کے ٹیکے بھی شیڈول کے مطابق ضرور لگوائیں۔ بوڑھے حضرات بھی نمونیا اور دوسرے امراض کے ٹیکے شیڈول کے مطابق ضرور لگوائیں۔
کھانسی کے دوران والدین کے لئے ہدایات:
1۔ کسی قسم کے کھانسی روکنے والے شربت اور اینٹی بایوٹکس کا از خود استعمال نہ کریں۔
2۔ بخار پر نظر رکھیں۔ اگر بخار تیز ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
3۔ اس کے علاوہ مندرجہ ذیل حالات میں بھی فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
(الف) بچّے کے سینے پر نظر رکھیں کہ سانس کی رفتار کتنی ہے۔ اگر سانس کی رفتار تیز ہو یا پسلیوں کے نیچے گڑھے پڑتے ہوں تو اس بچّے کو نمونیا یا برونکیولائٹس ہو سکتا ہے۔
(ب) اگر بچّے کے ہونٹ یا ناخن نیلے ہو رہے ہوں۔ اسے سائینوسس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب جسم میں آکسیجن کی مقدار ایک محفوظ سطح سے نیچے گر جاتی ہے۔ ایسے بّچوں کو ہنگامی علاج اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اوقات انہیں مصنوعی سانس کی بھی ضرورت ہو سکتی ہے۔
(ج) اگر بچّہ غنودگی کا شکار ہو۔ یہ ایک سنگین حالت ہے۔ یہ مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہو سکتی ہے لیکن کھانسی اور بخار کی صورت میں یہ کسی سنگین صورت حال یا ادویات کی زیادہ مقدار کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔
(د) اگر بچّے کو الٹیاں آ رہی ہوں اور وہ کچھ کھا پی نہ رہا ہو۔ کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ الٹیاں اگر کبھی کبھار ہوتی ہیں تو یہ پریشان کن نہیں ہوتی۔ لیکن اگر یہ مستقل ہوں تو یہ پانی کی کمی کا سبب بن سکتی ہے اور بچے کو پانی کی کمی کے علاج کے لئے ڈرپ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ الٹیاں روکنے والی دوائیں اکثر کام نہیں کرتیں۔
(و) اگر کھانا کھانے میں مشکل ہو تو اس صورت میں بھی پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، بچے کو غذائیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے ٹیوب فیڈنگ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
(ہ) بچّوں کو کالی کھانسی، نمونیا اور خسرہ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگوائیں اور بوڑھے افراد کو بھی نمونیا سے بچاؤ کے ٹیکے لگوائیں تاکہ انہیں نمونیا نہ ہو۔
( یہ مضمون میری کتاب ”میں اور میرا بچّہ“ سے ماخوذ ہے )


