عورت: خوبصورتی اور غربت کا چکر


صبح نو بجے کا وقت دروازہ پہ دستک ہوتی ہے۔ میں دروازہ کھولتی ہوں۔ دروازہ کے اوپری جالی دار حصے سے ایک بہت دلکش نقوش والی عورت نظر آتی ہے۔ جس کی خوبصورت کٹیلی آنکھیں کسی کو بھی مار سکتی ہیں۔ لبوں پہ مسکان سجائے وہ کہتی ہے، ”باجی میں رضیہ ہوں۔ یہاں کام کرتی ہوں۔ “ اتنے میں میری بہن کی آواز آتی ہے۔ ”ہاں دروازہ کھول دو۔ یہ ہماری کام والی ہے۔“

کراچی میں میرا قیام ہمیشہ اپنی بڑی بہن کے گھر رہتا ہے۔ جہاں ہر دو سال بعد آنے پہ گھریلو کام کرنے والی کی نئی صورت نظر آتی ہے۔ اس دفعہ ہماری ملاقات بلوچی لباس پہنے رضیہ سے ہو رہی تھی۔ جس کی خوبصورتی نے ہمیں انڈین فلم اسٹار ریکھا کی یاد دلا دی۔ ازراہ مذاق پوچھ بھی لیا ”کیا ریکھا سے کچھ رشتہ داری ہے؟“ وہ حیرت سے ہمیں دیکھنے لگی۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ ریکھا سے واقف نہیں، ریکھا پرانی اور رضیہ نسبتاً نئی۔

چلیے ریکھا سے تو ہم شاید بلکہ یقیناً کبھی نہیں ملیں گے۔ رضیہ سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ عورت، خوبصورتی اور قسمت، ان سب کا بڑا گہرا جوڑ ہے۔ یہ سب اکثر گتھم گتھا رہتے ہیں۔ کیسے؟ چلیے جانتے ہیں۔ غریب شہر رضیہ سے گفتگو من و عن پیش خدمت ہے۔

کچھ اپنے متعلق بتاؤ؟

جو پوچھنا ہے پوچھو۔ ہم بتائے گا۔

نام تو پتہ ہے رضیہ۔ اب عمر، بچے اور اپنے شوہر کا نام بھی بتا دو؟

ہم بلوچ گوٹھ میں رہتا ہے۔ ہمارے شوہر کا نام اللہ بخش بلوچ ہے۔ ہمارا عمر ٹھیک معلوم نہیں، شاید ہو گا چالیس والیس سال۔ ہمارا میاں باورچی ہے اور ہم سے بہت بڑا ہے۔ ہمارا دو بیٹیاں اور بیٹا ہے چھ سال کا۔ ایک بیٹی سترہ کا اور دوسری پندرہ کا۔ ابھی تو ہم ایک بیٹی کی شادی کرنے کے لیے پریشان ہے۔ جہیز مہیز کے لیے۔ لڑکا بہن کا بیٹا ہے لیکن بہن چاہتا ہے سامان پورا ہو۔ پھرنیچرہ (فرنیچر) ، برتن ہو۔ ابھی صرف ایک تنخواہ میں کیا ہو سکتا ہے۔ میاں کو کام ہوتا ہے تو کبھی نہیں بھی ہوتا۔

تو کیوں کر رہی ہو شادی۔ اس کو پڑھاؤ۔ کتنا پڑھی ہوئی ہے بیٹی؟

پانچ جماعتیں پاس ہے۔ وہ کلاس میں فسٹ آتا تھا اس کو بہت شوق تھا، لیکن ہمارے گھر کے حالات ہی ایسے نہیں تھے۔ ہمارا میاں کا ایکسیڈنٹ ہوا۔ وہ بستر پہ ہوتا اور ہم گھروں میں کام کرتا تھا۔ اس وقت اپنے گھر کو بنوا رہا تھا۔ اس پر چھت ڈلوانا تھا۔ مگر پیسہ نہیں تھا۔ باجی اب ہم اس کو تعلیم دیتا یا گھر دیکھتا۔

تمھاری شادی کب ہوئی؟

ہم تو صرف نو سال کا تھا۔ ابھی ہم ”بڑا“ بھی نہیں ہوا تھا۔ ہمارا ساس اور سسر نے ہمارا بہت خیال رکھا۔ اپنے بچوں سے زیادہ پیار دیا۔ ہر کام سکھایا اور ہر بات سمجھاتا ہم کو۔ ہماری بہت ساری نندیں تھیں جب وہ ہم سے لڑتیں ہماری ساس اور سسر ان کو ڈانٹتا۔ میاں ہم سے کم از بیس سال بڑا تھا۔ اچھا تھا، مگر کبھی کبھی دوسروں کے کہنے میں آ کر ہماری کبھی پٹائی بھی کر دیتا۔ مگر اب وہ بھی جان گیا ہے کہ ہم نے گھر کے لیے سب کیا۔ اس مکان کو ہم نے کھڑا کیا کمیٹیاں ڈال ڈال کر۔ جب کبھی دوسروں کے کہنے میں آ کر ہمیں گھر سے نکلنے کو کہتا ہے تو ہم بولتا ہے۔ ”ہم کیوں نکلے گا تم خود نکلو۔ ہم نے تمھارے واسطے اتنا کام کیا کہ شکل بدل گیا۔ رنگ روپ جل گیا۔ اتنا ظلم کاٹا کہ آج تک میں جل رہی ہوں۔ ابھی تو سب لوگ جانتا ہے کہ صرف زمین تمھارے باپ کی تھی۔ گھر تو محنت کر کے میں نے کھڑا کیا۔ سب ہی کہتے ہیں بیوی ہو تو ایسی ہو۔

ہمت مردان مدد خدا۔ ہم مرتی ہوئی حالت میں بھی کام کرتا۔ نندوں کی خدمت اور گھر کا کام کرتا۔ لیکن میرا سسرال والوں نے جانور سے بھی بدتر سلوک کیا بس زندگی ایسے ہی گزار دی۔ میرے ماں باپ، بہن بھائی، سب پوچھتے کیسی ہو؟ تو میں بولتی بہت خوش ہوں۔ ایک دن تو نند نے روٹی دیر سے ڈالنے پہ اتنے زور کی لات ماری کہ پیٹ میں بچہ ضائع ہو گیا۔ ڈاکٹر نے کہا یہ پولیس کیس ہے۔ تم سائین کرو کہ اگر کچھ ہو گیا تو یہ تمھارا قصور ہو گا۔ ہم اس پر بھی اپنی نند کے لیے دعا کرتا کہ اللہ اس کی شادی ہو جائے۔ اس کو عقل آ جائے۔ باجی پھر ہمارے میاں کا دو بار ایکسیڈنٹ ہوا۔ ہر بار ہم نے اس کو کھڑا کر دیا۔ اس کا علاج کرواتا۔ اس کو خود نہلاتا، کپڑے بدلتا، شیو تک بناتا۔ پورا ”صاب“ بنا کے رکھا اس کو۔ اب تو وہ بھی کہتا ہے کہ ”تم ہماری بیوی ہی نہیں ہماری ماں ہمارا بھائی ہمارا باپ اور سب کچھ ہو کیونکہ تم نے ہمارے لیے وہ کیا جو کسی نے نہیں کیا۔

اور تم خوش ہو جاتی ہو؟

ہم اس سے صرف یہ کہتا ہے کہ وپھا (وفا) صرف ہم سے ہو۔ کسی اور کے پاس وپھا کیا تو ہم چلا جائے گا۔
تم اتنی خوبصورت تو ابھی بھی ہو، بھلا تمھارے ماں باپ کو کیا مصیبت آئی تھی اتنے بڑے مرد سے شادی کرنے کی؟

باجی ہم دوسری جماعت میں تھا سپارہ بھی پڑھتا تھا۔ ہمیں بہت شوق تھا پڑھنے کا۔ لیکن ہماری اماں کے دو جڑواں لڑکے ہوئے۔ وہ بیمار ہوا تو ہم نے اس کو دیکھا۔ بھائیوں کو بھی دیکھا۔ ہمارے لیے بلوچ برادری کا بہت لوگ رشتہ مشتہ لے کر آتے۔ میں بہت خوبصورت تھا۔ میری مامی کی بہن نے میاں کے چھوٹے بھائی کو دکھا کے شادی کروا دیا۔ جب ہماری ماں باپ نے دیکھا نکاح کی رات تو میرا ابو رونے لگا۔ رخصتی کے وقت اماں ابا دونوں بیمار تھے۔

ابھی تو تم بہت کمزور ہو اب وہ بات نہیں لیکن جب تم اور بھی جوان اور خوبصورت ہوگی تو اس حسن سے مسئلہ تو نہیں ہوا؟

ہاں اس وقت میرا رنگ روپ بہت تھا۔ دوسرا مرد لوگ جب ہم کو گھور گھور کے دیکھتا۔ ہم پہ بری نظر رکھتا۔ تو ہم ان کو بھائی بولتا۔ وہ کہتا بھائی کیوں؟ تو میں کہتا میرا میاں ہے میں اس کو پیار کرتی ہوں۔

واقعی میاں سے اتنا پیار کرتی ہو یا ایسے ہی کہہ رہی ہو؟

پیار نہیں باجی بس دکھاوا کرتی ہوں۔ بس ہر وقت جیسے میرا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ کسی کو پتہ نہیں چلا کہ میں میاں سے پیار کرتا ہوں کہ نہیں۔ باقی میرے دل کو پتہ ہے۔

دل کو کیا پتہ ہے۔ کچھ ہمیں بھی تو پتہ چلے؟

میرے ابو کے چاچا کا بیٹا تھا۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔ میرے ابو سے کہتا تھا اس کو کہیں مت دینا۔ اگر کسی اور کو دے گا تو ہم دنیا چھوڑ دے گا۔ اتنا عاشق تھا۔

تو پھر کیا ہوا؟ میرے ابا نے کہا پہلے اس کو گھر بنا دو، یہ دو وہ دو۔ اس بیچ میں میرا رشتہ میرا میاں سے ہو گیا۔ میرے میاں کے پاس اس کے ابو کا گھر تھا۔ ہم سے عمر بھی چھپائی گئی۔ لیکن بس اب کیا ہو۔ وہ جو مجھے چاہتا تھا ہمیشہ کے لیے چلا گیا۔ پتہ نہیں کہاں یہ تو کسی کو بھی نہیں معلوم۔ مگر ہم بہت طاقتور ہے ابھی زندہ ہے۔ ہمارا بچہ لوگ ہے۔ ان کو دیکھنا ہے۔

اب کیا چاہتی ہو؟

بس اب چاہتا ہوں کہ بیٹا پڑھ جائے۔ وہ چھ سال کا ہے۔ پہلی جماعت میں پڑھتا ہے۔ ابھی بہت وقت ہے لیکن ابھی ہم کو کام کرنا ہے۔ اپنے بیٹے کے لیے اور اپنی بیٹوں کی شادی کے لیے۔

Facebook Comments HS