ہم بے حس کیوں ہیں؟
آج جو گلے میں خراش اور سانس کی نالی کے زخمی ہونے کا احساس ہوا تو خیال آیا ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے اپنے دفتر یو فون ٹاور کی اوپر کی ایک منزل سے نیچے آتے ہوئے لفٹ میں ایک صاحب ملے تھے جو خود بھی اسی بلڈنگ کے کسی دفتر کے ملازم معلوم ہوتے تھے، وہ مستقل تھوک کا چھڑکاؤ کرتے ہوئے کھانس رہے تھے، نہ ماسک پہننے کی توفیق ہوئی تھی اور نہ ہی منہ پر ہاتھ یا کپڑا رکھے تھے، بہت اعتماد کے ساتھ دائیں اور بائیں دیکھ بھی رہے تھے، مسکراہٹ چہرے پر ایسے تھی گویا کسی نے ذمہ داری لگائی ہو کہ کھانس کر جراثیم دوسروں تک منتقل کیے جائیں۔
بہت افسوس ہوتا ہے، ہم بحیثیت قوم اتنے غیر ذمہ دار اور بے حس کیوں ہیں جو معاشرے میں اپنے کردار اور ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے ہیں، دوسروں کی تکلیف کا احساس ہمیں نہیں ہوتا ہے، اگر ہم بیمار ہیں تو ہمیں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ کچھ ایسا کریں جس سے بیماری دوسروں کو نہ لگے۔ اس طرح کے معاملات کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ہم مہذب اور سلجھے ہوئے معاشرے کا حصہ نہیں بلکہ لاتوں کے وہ بھوت ہیں جو باتوں سے نہیں مانتے جنہیں انتظامیہ کی سختی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر انسان کو اپنی ذمہ داری کا احساس خود ہونا چاہیے، افسوس اس بات کا بھی تھا کہ لفٹ آپریٹر کی ٹریننگ میں بھی ایسا کچھ نہیں تھا کیونکہ بغیر ماسک کے بیمار شخص کو لفٹ میں داخل ہونے کی اجازت ملنا اور اسے نہ سمجھانا حیران کن بات تھی، عادت سے مجبور ہوں اس لئے یہ نصیحت والا فرض میں نے ہی ادا کیا گو کہ وہ صاحب اپنا کام کر چکے تھے جس کا ثبوت میرا بیمار ہونا ہے، اللہ باقی سب کی حفاظت کرے۔ بلڈنگ کی انتظامیہ کو بھی بد ترین کرونا سے گزرنے کے بعد اس احتیاط کو اپنی ذمہ داریوں میں شامل کر لینا چاہیے۔ بے حس معاشرے کو سدھارنے میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
ایک اور واقعہ یاد آ گیا ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک بیکری پر جانا ہوا جہاں بسکٹ خریدتے ہوئے بہت اچھا لگا جب میں نے سٹاف کو دستانے پہن کر بسکٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتا دیکھا لیکن بسکٹ کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہی نہ جانے ایسا کیا ہوا کہ بھائی صاحب کی سکن پر خارش نے دستک دے دی، جو دستانے والے ہاتھ بسکٹ کو چھونے والے تھے وہ ان صاحب کے منہ کو چھو گئے اور اس کے بعد تیزی سے بسکٹ کی طرف لپکے، میں نے بروقت روکتے ہوئے کہا کہ اس سے تو اچھا تھا کہ دستانے نہ ہی پہنتے۔ بہرحال بال بال ہی بچے۔
ایک دوست کا کہنا ہے کہ روٹی کبھی پختون کے تندور سے نہیں لینی چاہیے کیونکہ ان میں سے اکثر افراد نسوار کھاتے ہیں اور کبھی کسی نسوار کھانے والے کو ہاتھ دھوتے نہیں دیکھا۔ ویسے میری نظر میں تفریق نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہر اس تندور سے روٹی نہ لیں جہاں پکانے والا نسوار کھاتا ہو چاہے اس کا تعلق کسی بھی زبان اور علاقے سے ہو۔
میرے گھر کے کچن میں کام کرنے والی خاتون اکثر اپنی چھوٹی بیٹی کو ساتھ لے کر آتی ہے، ایک دن مجھے بہت تکلیف ہوئی جب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اس کی بچی زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور وہ اونچائی سے کھانے کی چیز غالباً روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نیچے پھینک رہی تھی، اس کی بیٹی وہ روٹی زمین سے اٹھا کر کھا لیتی تھی، ساتھ ساتھ وہ خاتون کچن میں کھانا پکانے میں مصروف تھی۔ یہ سب بتانے کا مقصد آپ کو مختلف زاویوں سے سوچنے کی دعوت دینا ہے۔ اس میں ایک پہلو تو یہ ہے کہ زمین سے اٹھا کر کھانے کی چیز منہ میں لینے کا مطلب ہے کہ بے شمار جراثیم جسم میں چلے گئے۔ ایک رشتے دار سے بات ہو رہی تھی جو صفائی کے معاملے میں خاصے ہلکے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اس طریقے سے بچوں کی قوت مدافعت بڑھتی ہے اور وہ جلدی بیمار نہیں ہوتے ہیں۔ میرا سوچنے کا انداز کچھ مختلف ہے، بات کا مقصد صرف جراثیم کا اس بچی کے پیٹ میں جانا نہیں ہے، یہ بھی سوچیں کہ اگر کھانا پکانے والی خاتون کا صفائی کا معیار یہی ہے جس انداز سے اس نے اپنی بیٹی کو کھلایا تو ہم اپنے لئے کتنی صفائی کی امید رکھیں جو کھانا ہماری غیر موجودگی میں گھر کے افراد کے لئے تیار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کھانے کی چیز کو اونچائی سے زمین پر پھینکنا میری نظر میں رزق کی توہین ہے جو ناشکری کے زمرے میں آتی ہے۔ قوت مدافعت بڑھانے کے لئے کوئی صاف ستھرا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے آخر صفائی نصف ایمان ہے۔ کھانے کا احترام واجب ہے اور ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے اگر ایسا کچھ بھی دیکھیں تو نرم الفاظ میں سامنے والے کو سمجھا دیں تاکہ بہتری اور تبلیغ کا موقع ضائع نہ ہو۔ ویسے بھی اصل تبلیغ یہی ہے جس میں سوچ الفاظ اور عمل میں تضاد نہ ہو۔


