کیا حکومتوں کا کام کاروبار کرنا ہے یا عوام کی خدمت؟


حکومت کا بنیادی فرض ہمیشہ سے عوام کی خدمت رہا ہے۔ ریاست کا وجود ہی عوام کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت، روزگار، اور انصاف کی فراہمی کے لیے ہوتا ہے۔ جب حکومتیں کاروبار میں الجھ جاتی ہیں، تو وہ نہ عوام کی خدمت صحیح کر پاتی ہیں اور نہ کاروبار۔ پاکستان میں اس کی واضح مثال پی آئی اے جیسے قومی ادارے کی حالت ہے۔

پی آئی اے ایک وقت میں دنیا کی بہترین ائر لائنز میں شمار ہوتی تھی۔ آج اسے خسارے اور بدانتظامی کی بھینٹ چڑھا کر فروخت کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جو حکومتی شخصیات قومی ادارہ نہ چلا سکیں، وہ اب ایک نئی صوبائی ائر لائن کے قیام کا منصوبہ بنا رہے ہیں! سوال یہ ہے کہ جو نظام قومی سطح پر نہ چلا سکے، کیا وہ صوبائی سطح پر کوئی معجزہ دکھا پائیں گے؟

لاہور، جو کبھی باغوں کا شہر کہلاتا تھا، آج ٹریفک جام اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بدترین صورتحال کا شکار ہے۔ میٹرو بس، سپیڈو بس، اور اورنج لائن جیسی بہترین منصوبے اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان کے درمیان کوئی مربوط نظام نہیں ہے۔ ایک عام شہری کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا آج بھی ایک آزمائش سے کم نہیں۔

رنگ روڈ جیسی بہترین سڑک موجود ہے، مگر وہاں کوئی موثر، تیز رفتار پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں۔ اگر ہم رنگ روڈ کو استعمال کر کے ائرپورٹ، لاری اڈے، ریلوے اسٹیشن اور شہر کے اہم مقامات کو جوڑنے والی جدید اور باسہولت سروس چلا دیں تو شہریوں کے لیے آسانی پیدا کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں قانون اندھا نہیں، بلکہ کبھی کبھی لگتا ہے جان بوجھ کر اندھا بنایا گیا ہے۔ امیر طبقے کے لیے سب راستے کھلے ہیں اور غریب آدمی انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

ٹیکس کا نظام بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ چند بڑے سرمایہ دار طبقے مراعات حاصل کر کے اربوں کماتے ہیں اور عام آدمی اپنے خون پسینے کی کمائی سے بھی مختلف قسم کے ٹیکسز بھرنے پر مجبور ہے۔ اس غیرمنصفانہ نظام نے عوام کے دل میں حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف بے اعتمادی پیدا کر دی ہے۔

ہمیں ترقی کا شوق ہے، جو خوش آئند ہے۔ مگر ترقی کا سفر زمین پر بنیادی مسائل حل کیے بغیر چاند پر جانے کی خواہش خواب ہی رہ جائے گی۔

عوام کو روزگار، تعلیم، صحت، انصاف، اور محفوظ ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی حقوق دینے کے بعد اگر کوئی چاند پر جانے کا ارادہ کرے تو یقیناً ہر پاکستانی اس پر فخر کرے گا۔

لیکن جب بنیادی ضروریات ہی پوری نہ ہوں، تو خلائی مہمات، نئے کاروباری منصوبے یا بلند و بانگ دعوے صرف عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔

حکومتوں کو کاروبار سے نکل کر خالصتاً عوامی خدمت پر توجہ دینی چاہیے۔ شفافیت، ایمانداری اور قابلیت ہی وہ راستے ہیں جو کسی بھی قوم کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتے ہیں۔ بصورت دیگر، ہم ہمیشہ بحرانوں کا شکار رہیں گے اور ترقی محض خوابوں تک محدود ہو گی۔

Facebook Comments HS