1948 ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پانی کا عارضی معاہدہ
1947 ء میں جب ہندوستان اور پاکستان دو آزاد ریاستوں کے طور پر سامنے آئے اور برصغیر کی تقسیم ہوئی، تو سندھ طاس کا نظام بھی دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ خاص طور پر مشرقی اور مغربی پنجاب کے صوبے نہ صرف خونریز تقسیم کے ساتھ بٹے بلکہ اپنے ہیڈ ورکس اور نہریں بھی بانٹ بیٹھے۔ مثال کے طور پر فیروزپور اور مادھوپور ہیڈ ورکس مشرقی پنجاب میں رہ گئے، جبکہ ان سے نکلنے والی نہریں مغربی پنجاب کو پانی فراہم کرتی تھیں۔ تقسیم کے بعد کچھ عرصہ تک ”جوں کا توں“ کی بنیاد پر پانی کی فراہمی جاری رہی، لیکن یکم اپریل 1948 ء کو ہندوستان نے پنجاب کو پانی کی ترسیل بند کر دی۔ پانی کی بندش زراعت کے لیے ایک خطرناک قدم تھا۔ اس بحران سے نکلنے کے لیے 4 مئی 1948 ء کو دہلی میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک ”انٹر ڈومینین“ معاہدہ طے پایا۔
ان مذاکرات میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کی شرکت یا غیر موجودگی نے پانی کے مسئلے پر ان کی حکمت عملی کو ظاہر کیا۔ ہندوستان کے وفد کی قیادت وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے کی، جن کے ساتھ سورن سنگھ اور این وی گڈگل جیسے تجربہ کار سیاستدان اور وزراء شامل تھے۔ انہوں نے ہندوستان کے مفادات کو یقینی بنایا۔ نہ صرف بالا دستی رکھنے والے ملک کے طور پر فائدہ اٹھایا گیا بلکہ یہ بھی یقینی بنایا کہ آئندہ فیصلہ سازی میں بھی ہندوستان کا پلڑا بھاری رہے۔ دوسری طرف پاکستانی وفد (غلام محمد، ممتاز دولتانہ اور شوکت حیات) جو حقیقت میں صرف پنجاب کے نمائندہ تھے نے نہ صرف بالائی دریاؤں سے آنے والے پانی کی قیمت دینے پر رضامندی ظاہر کی بلکہ ہیڈ ورکس کی مرمت اور سگنیوریج چارجز (پانی کا کرایہ) بھی خود اٹھائے۔
اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے نہ تو ان مذاکرات میں کوئی دلچسپی دکھائی، اور نہ ہی کوئی ایسا دستاویزی ثبوت دستیاب ہے جو ظاہر کرے کہ اعلیٰ پاکستانی قیادت نے ہندوستان جانے والے وفد کو کوئی واضح ہدایات دی ہوں۔ تاریخی دستاویزات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ گویا معاملہ ”مشرقی و مغربی پنجاب آپس میں طے کریں“ کی بنیاد پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اگرچہ پاکستانی وفد کی قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا، مگر ان کے پاس نہرو جیسا اختیار نہ تھا، اس لیے پنجاب کے بحران کو سنبھالنے کے دباؤ کے تحت انہوں نے ہندوستان کے فائدے میں شرائط مان لیں، جن میں پانی کے کرایہ کی ادائیگی بھی شامل تھی۔ قیادت کی یہی غیر دلچسپی آگے چل کر 1960 ء کے سندھ طاس معاہدے کا پیش خیمہ بنی، جس کے تحت آمر ایوب خان نے پاکستان کے تین دریا راوی، ستلج اور بیاس ہندوستان کو دے دیے، اور سندھ کے دریائی نظام کو ایک دائمی زخم پہنچا۔
1948 ء کا معاہدہ پنجاب میں پیدا شدہ اچانک بحران کو جلدی ختم کرنے کی کوشش تھی، جس میں 1945 ء کے سندھ اور متحدہ پنجاب کے درمیان طے پائے گئے معاہدے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ حقیقت میں وہ معاہدہ نہ صرف قانونی طور پر تسلیم شدہ تھا، بلکہ تاریخی اہمیت بھی رکھتا تھا اور مذاکرات میں اس کو شامل کرنا ضروری تھا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس پنجاب کے ساتھ سندھ کا 1945 ء کا معاہدہ ہوا تھا، وہ تقسیم ہو چکا تھا اور اب دونوں حصے اپنے طور پر فیصلے کر رہے تھے، جن کے سندھ پر پڑنے والے اثرات کی انہیں کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس وقت سندھ کی حکومت، جس کے وزیر اعلیٰ 1940 ء کی دہائی میں تقریباً ہر سال بدلتے تھے، اس مسئلے سے بالکل لا تعلق تھی۔ مرکزی حکومت اور قیادت بھی اس معاملے کو سندھ کے مستقبل پر مرتب ہونے والے اثرات کی نگاہ سے نہیں دیکھ رہی تھی۔
معاہدے کی ایک شق میں کہا گیا کہ جب تک مغربی پنجاب مشرقی پنجاب سے پانی کے متبادل کا کوئی بندوبست نہیں کر لیتا، تب تک پانی بند نہ کیا جائے۔ یہی شق سندھ کے لیے مستقبل میں پانی کی قلت کا اشارہ دیتی ہے، اور یہی شق بعد میں 1960 ء کے معاہدے کی بنیاد بنی۔ جو تین دریا سندھ میں گرتے تھے، وہ اوپر سے ہندوستان کے حوالے کر دیے گئے۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ سندھ، چناب اور جہلم سے بھی پانی نکال کر مغربی پنجاب کے ان علاقوں کو دیا گیا جنہیں پہلے مشرقی پنجاب سے پانی ملتا تھا۔ اس کے علاوہ لاکھوں ایکڑ نئی زمینوں کو بھی پانی دیا گیا۔
ان تمام مذاکرات میں پاکستان نے 1945 ء کے معاہدے کا کوئی ذکر تک نہیں کیا۔ اس معاہدے کو فراموش کرنا دراصل مغربی پنجاب کے کیس کو بھی کمزور کرتا ہے اور سندھ کے نقصان کے نئے راستے کھولتا ہے۔ اگر اس وقت 1945 ء کے معاہدے کو مضبوطی سے پیش کیا جاتا اور اسے ایک اہم دستاویز کے طور پر مذاکرات کا حصہ بنایا جاتا، تو پاکستان ہندوستان کی بالادستی کو عالمی قوانین کی روشنی میں چیلنج کر سکتا تھا۔ لیکن صرف پنجاب تک محدود رہنے کے باعث ہندوستان نے سفارتی طور پر اس معاہدے سے زیادہ فائدہ حاصل کر لیا۔
1948 ء کے معاہدے سے تین بڑے اسباق حاصل ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ بین الاقوامی مذاکرات اور معاہدوں کے لیے سیاسی اور حکومتی قیادت بے حد ضروری ہے۔ نہرو کی قیادت نے پانی کے حوالے سے ہندوستان کے مستقبل کو محفوظ کر دیا۔ ایک محقق نے لکھا ہے کہ ”1948 ء کا معاہدہ پاکستان کے لیے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کا ایک ضائع شدہ موقع تھا۔ اعلیٰ قیادت کی کمی نے وفد کو کمزور پوزیشن پر لا کھڑا کیا اور ہندوستان کی شرائط ماننے پر مجبور کر دیا۔“
دوسرا سبق یہ ہے کہ پانی کی حکمرانی کے لیے ایک مربوط طاس سطح کا جامع نظریہ ضروری ہے۔ سندھ طاس ایک مربوط اور باہم جُڑا ہوا نظام ہے، اسے ٹکڑوں میں بانٹ کر فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔ 1948 ء میں سندھ کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا اس وقت کی سیاست کی کمزور بصیرت اور تنگ نظری کی علامت تھا۔ آج جب ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے، تو ایسی سوچ پاکستان کے لیے مجموعی طور پر نقصان دہ ہے۔ اسی لیے سندھ متنازعہ نہروں اور ڈیلٹا کو پانی نہ دینے پر سخت اعتراضات اٹھا رہا ہے۔ دراصل یہ اعتراضات پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے لیے تیار کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے ہیں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ اس نوعیت کے عارضی معاہدے نہ صرف طویل مدتی نقصان کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ مستقل حیثیت بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ ایک وقتی حل تو تھا، لیکن اس کے نتیجے میں سندھ کو بڑے اور دور رس نقصان پہنچے۔ مغربی پنجاب کو سیراب کرتے ہوئے تین دریا بھی گویا اپنا آدھا وجود کھو بیٹھے۔ اس کا نقصان پنجاب کو بھی ہوا۔ راوی جو کبھی لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں کا ثقافتی، ماحولیاتی اور سبز نشان تھا، اب اس میں صرف گندا پانی بہتا ہے، سوائے مون سون کے موسم کے، جب کچھ بہاؤ آتے ہیں۔ 1973 ء میں بنی ایک پنجابی فلم ”جتھے و گدی اے راوی“ ( ”جہاں راوی بہتی ہے“ ) ۔ جسے ہدایتکار رشید چوہدری نے بنایا۔ شاید آج کی نسل کو یاد بھی نہ ہو۔ اس وقت کا مقبول گیت ”اے نگری داتا دی، اُتھے آندا کل زمانہ“ اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ 1948 ء کے ایک عارضی معاہدے کے نتیجے میں 1960 ء میں ایک آمر نے پنجاب کو اس کے تاریخی، ثقافتی اور ماحولیاتی ورثے سے محروم کر دیا اور سپت سندھو، اپنی خوبصورت بہتی ہوئی ندیوں سے جدا ہو گیا۔



تعصب سے بھری یک طرفہ معاملات کو دیکھنے والی تحریر جس میں متعدد باتیں اور معاملات کا محض ایک رخ دیکھا گیا ہے۔ اس میں موجود تضادات کا شمار یا ان کی وضاحت کی جائے تو بذات خود ایک طویل تحریر بن جائے گی۔