تحقیق و دریافت: ایک مطالعہ


تحقیق کسی بھی شعبے میں ترقی اور جدت کی بنیاد ہے۔ یہ نیا علم دریافت کرنے، موجودہ نظریات کو چیلنج کرنے اور مسائل کے حل تلاش کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم اپنی دنیا کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں، چاہے وہ سائنس ہو، ادب ہو، تاریخ ہو یا کوئی اور مضمون۔ یہ ہمیں تنقیدی طور پر سوچنے، معلومات کا تجزیہ کرنے اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیمی لحاظ سے، تحقیق طلباء کو گہرے علم اور مہارتوں سے آراستہ کرتی ہے جو ان کے روشن مستقبل کے لیے ضروری ہیں۔ مربوط تحقیقی ثقافت معاشرے کی مجموعی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محقق کو سماج میں عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شگفتہ حسین کی کتاب ”تحقیق و دریافت“ اردو تحقیق و تنقید میں خوب صورت اضافہ ہے۔ یہ کتاب مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2019 ء میں شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس کتاب میں جس، محنت، لگن اور عرق ریزی سے کام لیا ہے، اس پر مذکورہ کتاب کے صفحات شاہد ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت سے پہلے ان کی کئی کتب جہانِ تحقیق میں قارئین کو متوجہ کر چکی ہیں۔ ان میں ”اشرف علی خان :شخصیت و فن اور انتخابِ کلام“ ، ”حاصلِ مطالعہ“ ، ”وہ اور اس کا ہمزاد“ ، ”ماہنامہ“ ادبِ لطیف ”اور اس کی خدمات“ اور ”سفرِ رائیگاں“ شامل ہیں۔ ”تحقیق و دریافت“ ان کے تحقیقی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں سترہ مضامین ان کی ادب سے لگن اور تحقیقی ریاضت کا ثبوت ہیں۔

کتاب کا پہلا مضمون ”نذر سجاد حیدر کے ناولوں کا فکری تجزیہ“ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے نذر سجاد کے ناولوں کو گراؤنڈ تھیوری کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس تھیوری کا مقصد، شواہد پر مبنی نظریہ قائم کرنا ہوتا ہے۔ اس تھیوری میں تمام ڈیٹا الفاظ کی صورت میں ہوتا ہے۔ الفاظ ایک سے زیادہ معنی کے حامل ہوتے ہیں اس لیے اپنا سیاق و سباق رکھتے ہیں اور ایسا ذریعہ اظہار ہیں جو تجربات و دلائل میں ربط پیدا کرتا ہے۔ اس تھیوری میں اوپن کوڈز الگ کیے جاتے ہیں۔ اوپن کوڈنگ کے ذریعے تھیم کو متن کی زیریں سطح سے اٹھا کر بالائی سطح پر لایا جاتا ہے۔ ان تھیمز کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔ یہ تعلق یا تو مثبت ہوتا ہے یا منفی۔ ایسی صورت بھی ممکن ہو سکتی ہے کہ آپس میں لاتعلق ہوں۔ تھیم کے اس طرح کے تعلق کو ایگزئیل کوڈز کہتے ہیں۔ ایگزئیل کوڈنگ کرتے ہوئے اسباب و نتائج، حکمتِ عملی اور طریقِ عمل کے ساتھ ساتھ نظریات کو بھی تلاش کیا جاتا ہے۔ آخر پہ سلیکٹو کوڈز کا مرحلہ ہوتا ہے جہاں بڑے تھیمز محقق کی راہنمائی کرتے ہوئے تجزیے کو آسان بناتے ہیں۔ اردو ادب میں محققین اس تھیوری کا استعمال نہیں کرتے لیکن ڈاکٹر صاحبہ نے اسے نذر سجاد کے ناولوں کا تجزیہ کرنے میں استعمال کیا ہے۔ کتاب کا دوسرا مضمون بھی نذر سجاد حیدر کے حوالے سے ہے جس میں انھوں نے بیسویں صدی کے ہندوستانی معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ”وزیر بیگم“ کردار نگاری کی مثالی جہت، عمدہ مضمون ہے جس میں وزیر بیگم کے کردار کو مشل فوکو کے ڈسکورس کی روشنی میں دیکھا گیا ہے۔ فوکو کے خیال میں ڈسکورس میں طاقت اہم عنصر کے طور پر موجود ہے۔ یہاں طاقت سے مراد کسی چیز پر قبضہ کرنا، کسی کا حق چھیننا نہیں یا جیسا مارکسسٹ کہتے ہیں کہ طاقت کے تعلقات معاشی تعلقات سے متعین ہوتے ہیں۔ فوکو کے نزدیک طاقت کا مطلب کسی کو اپنی خواہش کے مطابق سوچنے سے روکنا یا کسی کی آزادی کو محدود کرنا ہے۔ وہ ڈسکورس میں رویوں کو بھی شامل کرتا ہے۔ وزیر بیگم کے پاس نسائی ڈسکورس موجود ہے جس میں وہ کبھی اپنی نزاکت تو کبھی اندازِ گفتگو کو، مرد کے مقابلے میں طاقت کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ ”منٹو کی باغی عورتیں“ ڈاکٹر صاحبہ کی تنقیدی بصیرت کا حیرت انگیز اظہار ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے ”موذیل“ کے کردار کا جائزہ لیا ہے کیوں کہ وہ منٹو کے ان تمام کرداروں سے منفرد ہے جو اس نے دیگر کہانیوں میں پیش کیے ہیں۔ منٹو کے ناقدین اس پہ متفق ہیں کہ اس کے نسوانی کردار یا تو ماں کی صفات سے متصف ہیں یا پھر طوائف کی صفات سے۔ موذیل منٹو کی باغی عورتوں سے مختلف ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اسے ثنوی تضادات کے جوڑوں میں رکھ کے دیکھا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ روح اور جسم کی ثنویت کی ذیل میں اسے رکھ کر دیکھیں تو اس کی روحانیت اس کے جسم میں جذب ہو جاتی ہے، اسی لیے وہ اپنے جسم کو اپنی مرضی سے چلاتی ہے۔ وہ اپنے جسم سے الگ نہیں ہوئی بلکہ اس کو اپنائے ہوئے ہے۔ وہ ترلوچن کی محبوبہ ترپال کور کو بچانے کے لئے کرفیو کی پابندی کی پروا نہیں کرتی، کیوں کہ خطروں سے کھیلنا اسے پسند ہے۔ کتاب کے اگلے دو مضامین طاہرہ اقبال کے فکشن پر تحریر کیے گئے ہیں جس میں ان کی نثر میں ایکو فیمنزم کے عناصر کو تلاش کیا گیا ہے جب کہ دوسرے مضمون میں ان کی نثر کے اسلوب کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ عطیہ داؤد کی آپ بیتی ”آئینے کے سامنے“ پر موجود مضمون بھی قابلِ رشک ہے۔ عطیہ کو جرات، حوصلہ اور سماج کے متعصب اصولوں سے بغاوت کرنے پہ ”ایمیزون“ سے تعبیر کیا ہے۔ یہ لفظ ان یونانی خواتین کے لیے استعمال کیا جاتا تھا جنھوں نے مردوں کے خلاف میدان جنگ میں جد و جہد کی اور اور مردوں کو ہزیمت سے دوچار کیا۔ ”ایک باغی شہزادی عابدہ سلطان“ معلومات افزا اور ڈاکٹر شگفتہ حسین کی تنقیدی صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہے۔ عابدہ سلطان، نواب حمید اللہ خان، ریاست بھوپال کی بڑی بیٹی ہیں جنھیں پندرہ برس کی عمر میں جانشین مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ”Memoirs Of Rebel Princes“ 2004 میں شائع ہوئی۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی نے اسے اردو میں 2007 میں شائع کیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اسے باغی سے زیادہ کھلنڈری شہزادی خیال کیا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں سکندر بیگم کے اقدامات زیادہ باغیانہ ہیں۔ عابدہ سلطان کی بغاوت ان کی اپنی ذات تک محدود رہی۔ اگلے دو مضامین تاریخ کو موضوع بناتے ہیں۔ ”تاریخِ ادب اردو کیسے لکھی جائے؟“ اس حوالے سے عمدہ مضمون ہے کہ اس میں انھوں نے واقعات کے اندراج اور اشخاص کے تذکرے کو تاریخ ماننے سے انکار کیا ہے۔ ماضی کو قلم بند کرتے ہوئے، اندرونی اور بیرونی عوامل کو مدِ نظر رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ گزرے واقعات کو تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ اسے حال سے مربوط کرنا بھی تاریخ نگار کی ذمہ داری ہے۔ ادبی تاریخ نگاری کے لیے معروضیت اور اجتماعیت پر زور دیا ہے۔ وہ تاریخ جو ماضی کی سچائیوں سے پردہ نہیں اٹھاتی اور ادب کے ارتقا اور ابتدا کو بیان نہیں کرتی وہ کمزور تاریخ ہے۔ دوسرا مضمون پنڈت کنہیا لال کپور کی تاریخ ”محاربہ عظیم“ کو موضوع بناتا ہے جس میں 1857 کی جنگِ آزادی کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ اگلے تین مضامین ادبی صحافت کا احاطہ کرتے ہیں۔ مرزا ادیب کی صحافتی سرگرمیوں کو خوب صورتی سے اجاگر کیا گیا ہے جب وہ ماہنامہ ”ادبِ لطیف“ کے مدیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ دوسرا مضمون انتظار حسین کی ماہنامہ ”ادبِ لطیف“ کی بطور مدیر خدمات کو موضوع بناتا ہے۔ تیسرا مضمون ”انگارے“ میں ترقی پسند تراجم کی روایت کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ڈاکٹر عامر سہیل کی ادارت میں ملتان سے شائع ہونے والے پرچے ”انگارے“ میں اردو تراجم کا جائزہ لیا گیا گیا ہے۔ ”سرسید احمد خان اور تعلیمِ نسواں“ اور ”اقبال کا نظریۂ اسلامی ثقافت“ دونوں مضامین عمدہ ہیں لیکن ڈاکٹر صاحبہ نے وہ محنت صرف نہیں کی جو انھوں اس سے پہلے کے مضامین پر کی ہے۔ ”اردو زبان اور عالمگیریت“ میں انھوں نے انگریزی کے تسلط کے خاتمے کی بات ہے۔ مغربی زبان اور مغربی ثقافت کو عالمگیریت کے نام پر قبول کرنے میں ہماری ترقی نہیں بلکہ تباہی پوشیدہ ہے۔ کتاب کا آخری مضمون ”نسائی محسوسات کی تجسیم:ریختی“ کے نام سے شامل ہے۔ ریختی ایسی صنفِ سخن ہے جس میں عورتوں کے جذبات کو عورتوں کی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔ اس صنفِ سخن کا آغاز دکن سے ہوا اور پھر لکھنؤ نے اسے پروان چڑھایا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس صنف اور خاص طور پر عورت کے معاملے جو مردانہ معاشرے میں تعصبات ہیں ان کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔

ڈاکٹر شگفتہ حسین صاحبہ نے جس محنت اور لگن سے ان مضامین کو سینچا ہے وہ قابلِ قدر بھی ہے اور قابلِ تحسین بھی ہے۔ اردو کے قارئین کے لیے مذکورہ مضامین کسی نعمت سے کم نہیں۔ مذکورہ کتاب میں جدید تھیوریز اور نئے زاویوں کے اطلاق سے فکشن کے مفاہیم کے ثقافتی، تاریخی اور سماجی تناظرات واضح ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے تحقیق کے طالبِ علموں کے لیے راہ متعین کی ہے کہ کیسے متن کا تجزیہ کرنے، اس کی ساخت اور اسلوب کو سمجھنے اور اس کے اثرات کا جائزہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر شگفتہ حسین صاحبہ کو اس عمدہ کتاب کی اشاعت پر مبارک باد۔

Facebook Comments HS